ملالہ یوسفزئی دنیا کے سو نمایاں مفکروں میں شامل

آخری وقت اشاعت:  منگل 27 نومبر 2012 ,‭ 00:35 GMT 05:35 PST

لاہور سے ایک طالبہ مریم زنیرہ کا کہنا ہے کہ ٹھیک ہے کہ ملالہ کا نام ایک جریدے نے چھٹے نمبر پر لکھ دیا مگر کیا یہ کافی ہے اور اس کے بعد کیا ہوا؟

امریکی جریدے فارن پالیسی نے دنیا کے سو نمایاں مفکروں کی ایک فہرست میں سوات میں طالبان کے حملے کا شکار ہونے والی ملالہ یوسفزئی کو چھٹے نمبر پر رکھا ہے۔

سوات میں طالبان کے حملے کا شکار ہونے والی ملالہ اب ایک نام سے زیادہ پاکستانی خواتین کی تعلیم کے حق کے لیے اٹھائی جانی والی آواز بن گئی ہیں۔

ملالہ پر حملے نے جہاں پاکستانی خواتین کو تعلیم کے حق کے لیے لڑنے کی اُمنگ دی وہیں ایک مختلف نوعیت کا پاکستانی چہرہ دنیا کے سامنے آیا جو ترقی پسنداور مثبت تھا۔

سوال یہ ہے کہ کیا ملالہ کا اس شمارے کی فہرست میں شامل ہونا پاکستانی خواتین کے لیے کوئی معنی رکھتا ہے؟

ملالہ پر حملے کے حوالے سے رائے عامہ منقسم ہے۔

اس فہرست میں شامل پاکستانی بلاگر ثنا سلیم سے جب اس بارے میں بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ہمارے لیے بہت بڑا اعزاز ہے کیونکہ ملالہ ایک بچی ہے جس نے اتنی بہادری دکھائی اتنی بڑی بات سوچی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’بہت اچھی بات ہے کہ پذیرائی ہو رہی ہے اور بہت اچھی بات ہے کہ لوگ اس بارے میں بات کر رہے ہیں مگر اس سے بھی اچھی بات ہو گی اگر شہرت سے بڑھ کر کوئی اصل کام کریں گے اور سوات اور باقی سب جگہوں کو درحقیقت اتنا محفوظ کیا جا سکے گا کہ آئندہ کسی بچے کی زندگی ملالہ کی طرح خطرے میں نہیں پڑے گی۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ ان کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ وہ ملالہ کے ساتھ اس فہرست میں شامل ہیں۔

مگر کچھ لوگ اس بات سے متّفق نہیں نظر آتے، پاکستانی صحافی اوریا مقبول جان کا کہنا ہے کہ ’میڈیا کا عجیب معاملہ ہے کیونکہ ایک سیاسی اور مخصوص صورتحال میں اگر ایک کیفیت بنے تو پذیرائیاں ہی پذیرائیاں مل جاتی ہیں۔‘

یہ نکتۂ نظر صرف اوریا مقبول جان کا ہی نہیں ہے بلکہ سوشل میڈیا پر بہت سے افراد ملالہ پر ایک بار پھر تنقید میں مصروف تھے۔ جیسا کہ امجد کا خیال تھا کہ ’سوات میں معیار تعلیم اور خواندگی کی شرح بہت زیادہ ہے مگر ملالہ ہی کیوں‘؟

"ملالہ کو تعلیم کی علامت بنا دینے سے میرا نہیں خیال کہ یہاں کی اکثریت اس کو ماننے لگے گی بلکہ اس پر رد عمل نے ملالہ جیسی معصوم بچی کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔"

ڈاکٹر سمیعہ راحیل قاضی

اسی طرح ملے جلے رد عمل میں کئی لوگوں نے اس پر سوالات بھی اٹھائے جیسا کہ نذر خان نے کچھ صحافیوں کو ٹیگ کر کے پوچھا ’یہ ملالہ کو کس بنیاد پر سو مفکرین کی فہرست میں جگہ دی گئی ہے۔‘

اور عمران نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’کیا کسی نے توجہ دی کہ تمام جعلی لبرل اس سو مفکرین کی فہرست میں ہیں۔‘

تیمور اشرف نے ٹویٹ کی کہ ’چلو یہ بات تو ٹھیک ہے کہ ملالہ بہت بہادر لڑکی ہے مگر کیا وہ ایک مفکر ہے؟‘

پاکستانی صحافی رابعہ محمود کا خیال تھا کہ ملالہ کی طرح کے افراد ایک علامتی اہمیت رکھتے ہیں اور ان کی ضرورت ہوتی ہے۔

رابعہ کہا کہنا تھا کہ ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ تمام پاکستانی جو اپنے اپنے دائرے میں روزانہ جدوجہد کر رہے ہیں اور پھر بڑے پیمانے پر جس طرح اس بچی نے کیا تو ایک جو مزاحمت کا عنصر ہے وہ بہت زبردست بات ہے۔‘

جماعت اسلامی کے شعبۂ خواتین کی سربراہ ڈاکٹر سمیعہ راحیل قاضی نے بتایا کہ ’انہیں اس بات پر فخر ہے اور ملالہ قوم کی ایک بیٹی ہے اور اگر اس کو کوئی عزت مل رہی ہے تو ہم اس کی قدر کرتے ہیں‘۔

مگر ان کا خیال تھا کہ ملالہ پر ضرورت سے زیادہ رد عمل دکھایا گیا خاص طور پر مغربی میڈیا کی جانب سےتو اس کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے کہ اس کے پس پردہ کچھ اور عوامل تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ملالہ کو تعلیم کی علامت بنا دینے سے میرا نہیں خیال کہ یہاں کی اکثریت اس کو ماننے لگے گی بلکہ اس پر رد عمل نے ملالہ جیسی معصوم بچی کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔‘

"ملالہ نے جو کچھ کیا وہ قابل ستائش ہے اور بالکل ایک مثبت عمل تھا مگر اس کے بعد ہوا کیا؟ آپ عملی طور پر کیا کر رہے ہیں اس نے جو روشنی ملک کے عوام کو دکھائی ہے اس کے لیے کیا کر رہے ہیں؟"

طالبہ مریم زنیرہ

ملالہ کی اس کامیابی اور اس سے جڑی علامتی اہمیت کے بارے میں پاکستان میں سوشل میڈیا کی سرگرم رکن ماروی سرمد نے کہا ’علامتی اہمیت سے بڑھ کر اس کی حقیقی اہمیت پاکستانیوں کے لیے یہ ہے کہ بہت کم ہمارے بارے میں اچھی خبر آتی ہے۔‘

جہاں ماروی نے پاکستان سے آنے والی اچھی خبر کی بات کی تو اس پر اوریا مقبول جان کا خیال تھا کہ ان کی نظر میں ان چیزوں کی قطعاً کوئی حیثیت نہیں ہے کیونکہ پہلے یہی لوگ آپ کو کہتے ہیں کہ آپ برے ہیں اور بعد میں اس طرح کے طریق پر آپ کو اچھا دکھایا جاتا ہے۔

اس حوالے سے سب سے اہم سوال لاہور سے ایک طالبہ مریم زنیرہ نے اٹھایا کہ ٹھیک ہے کہ ملالہ کا نام ایک جریدے نے چھٹے نمبر پر لکھ دیا مگر کیا یہ کافی ہے اور اس کے بعد کیا ہوا؟

ان کا کہنا تھا کہ ’ملالہ نے جو کچھ کیا وہ قابل ستائش ہے اور بالکل ایک مثبت عمل تھا مگر اس کے بعد ہوا کیا؟ آپ عملی طور پر کیا کر رہے ہیں اس نے جو روشنی ملک کے عوام کو دکھائی ہے اس کے لیے کیا کر رہے ہیں؟‘

ملالہ نے شاید اپنے جرات مندانہ عمل سے وہ کچھ کر دکھایا جو بہت لوگوں کے لیے یا تو ایک بڑی کامیابی ہے یا ایک معمہ اور خام خیالی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ علامتی کامیابیوں کے سہارے ہم کب تک اپنے آپ کو طفل تسلیاں دیتے رہیں گے یا عملی طور پر مریم زنیرہ کے بقول ’حقیقی تبدیلی یعنی کے اپنے آپ سے تبدیلی‘ کا آغاز کریں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔