بلوچستان:مغوی ڈاکٹر رہا، صوبے میں ہڑتال جاری

آخری وقت اشاعت:  بدھ 28 نومبر 2012 ,‭ 15:04 GMT 20:04 PST

کوئٹہ میں مغوی ڈاکٹر کی بازیابی کے بعد ڈاکٹروں کی دوسرے مطالبات پورے ہونے تک ہڑتال جاری ہے

بلوچستان کے ممتاز ماہر چشم ڈاکٹرسعید خان اغوا کے 43 روز بعد بدھ کو اپنے گھر پہنچ گئے۔انہیں سولہ اکتوبر کو کوئٹہ سے اغواء کیاگیا تھا۔

گھر پہنچنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹرسعید خان نے بتایا کہ اغواء کے بعد انہیں تین چار دن تک ایک جگہ پر رکھا گیا تھا جہاں ایک روز ان پر شدید نیند طاری ہونے لگی اورانہیں یوں لگ رہا تھا جیسے ان کو کھانے میں کچھ دیا گیا ہو ۔ انہیں جب ہوش آیا تو وہ ایک گاڑی میں تھے پھر انہیں اینٹوں اور پتھروں کے بنے ایک مکان میں لے جاکر باندھا گیا۔ جہاں انہیں روٹی اور پانی مل جاتا تھا۔

تاوان کی ادائیگی سے متعلق ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بارے میں پتہ نہیں لیکن اس کے خاندان والوں نے تاوان کی ادائیگی کے لیے کوششیں کی ہوں گی انہیں اس بارے میں معلوم ہوا تو ضرور بتائیں گے۔

اپنے خاندان کے ساتھ دوبارہ ملنے کے بارے میں اپنے احساسات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر سعیدخان کا کہنا تھا کہ’اس وقت میری عمر پینتالیس سال کے لگ بھگ ہے اور یہ میری زندگی کا خوبصورت ترین دن ہے۔‘

گھر پہنچنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹرسعیدخان نے بتایا کہ اغواءکے بعد انہیں تین چار دن تک ایک جگہ پر رکھا گیا تھا جہاں ایک روز ان پر شدید نیند طاری ہونے لگی اورانہیں یوں لگ رہا تھا جیسے ان کو کھانے میں کچھ دیا گیا ہو ۔ انہیں جب ہوش آیا تو وہ ایک گاڑی میں تھے پھر انہیں اینٹوں اور پتھروں کے بنے ایک مکان میں لے جاکر باندھا گیا۔ جہاں انہیں روٹی اور پانی مل جاتا تھا

ڈاکٹرسعیدخان کی طرح ان کی اہلیہ نے بھی ان کی بازیابی پر خوشی کااظہار کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انہیں بہت خوشی ہے اور وہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ان کے شوہر کی بازیابی کے لیے قربانیاں دیں۔‘

اگرچہ ڈاکٹرسعید خان نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ ان کی بازیابی کے لیے تاوان اداکیا گیا یا نہیں تاہم ڈاکٹرسعیدخان کی اہلیہ نے یہ اعتراف ضرور کیا کہ ان کے شوہر کی رہائی تاوان کی ادائیگی کے بعد ہوئی۔

اگرچہ ڈاکٹرسعیدخان بازیاب ہوگئے لیکن پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے باقی مطالبات تسلیم ہونے تک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

پی ایم اے بلوچستان کے صدر ڈاکٹر سلطان ترین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے جو ہڑتال شروع کی ہے اس میں اور بھی مطالبات شامل ہیں جب تک انیس نومبر سے پہلے والی پوزیشن بحال نہیں کیا جاتا اس وقت تک ڈاکٹروں کا ہڑتال جاری رہے گا۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر وں کے دیگر مطالبات میں ان کے خلا ف قائم مقدمات کی واپسی ، معطل ڈاکٹروں کی بحالی اور انہیں تحفظ فراہم کر نا شامل ہیں۔ڈاکٹروں کا یہ بھی مطالبہ رہا ہے کہ اِغواء ہونے والو کی بازیابی کے لیے دیے گئے تاوان کی لوحقین کو ادائیگی کرے جس حکومت ماننے سے انکار کرتی رہی ہے

یاد رہے کہ ڈاکٹر وں کے دیگر مطالبات میں ان کے خلا ف قائم مقدمات کی واپسی ، معطل ڈاکٹروں کی بحالی اور انہیں تحفظ فراہم کرنا شامل ہیں۔

ڈاکٹروں کا یہ بھی مطالبہ رہا ہے کہ اِغواء ہونے والو کی بازیابی کے لیے دیے گئے تاوان کی لوحقین کو ادائیگی کرے جس حکومت ماننے سے انکار کرتی رہی ہے۔

کیپٹل سٹی پولیس افسر میر زبیرمحمود نے بازیاب ہونے والے ڈاکٹر سعید خان کی رہائشگاہ پرمیڈیا کو بتایا کہ ’ ڈاکٹر سعید کے فیملی کا کہنا ہے کہ انہوں نے تاوان ادا کیا ہے لیکن پولیس کی جانب سے ان کی بازیابی کے لیے جتنی کوششیں ہوسکتی تھیں وہ ہم نے کی ہیں ۔ ملزمان کے بارے میں ابھی تک معلوم نہیں ہوا تاہم اس حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے اور پولیس جلد ہی ملزمان تک پہنچے گی۔‘

ڈاکٹرسعیدخان کے اغواءکے بعد ڈاکٹروں نے ہڑتال کا سلسلہ شروع کیا تھا اور انیس نومبر کے بعد سے انہوں نے تمام سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں کام مکمل طور پر بند کیا تھا جس کی وجہ سے نہ صرف ہسپتال مریضوں سے خالی ہوگئے بلکہ عوام کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔

ڈاکٹرسعیدخان کے بازیاب ہونے کے بعد ڈاکٹر امان اللہ ناصر کی قیادت میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے ایمرجنسی اور لیبر روم میں سروسز کی بحالی کا اعلان کیا ہے جبکہ دوسرے گروپ نے پی ایم اے کے مطالبات تسلیم ہونے تک پی ایم اے کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔

اگرچہ ڈاکٹرسعیدخان بازیاب ہوئے لیکن ان کی بازیابی کے ساتھ ہی کوئٹہ سے ایک شخص اللہ نور اچکزئی کو اغواء کرلیاگیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔