’کنکشن تو کنکشن ہے چوری کا ہو یا منظوری کا‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 27 نومبر 2012 ,‭ 18:24 GMT 23:24 PST

بلوچستان میں پندرہ ہزار چھ سو ساٹھ ٹیوب ویلز کو قانونی کنکشنز کے تحت چلایا جارہا ہے جبکہ تقریبا پچیس ہزار کے قریب ٹیوب ویلز غیر قانونی ہیں۔

ایک طرف تو ملک میں ایسے حالات ہیں کہ بجلی سرے سے ہی غائب ہے اور جو بجلی دستیاب ہے بھی اس کا بل بڑے بڑوں کے ہوش اڑا دیتا ہے۔ لیکن بلوچستان میں زمینداروں کے لیے صورتحال مختلف ہے۔

صوبے میں چالیس ہزار ٹیوب ویلز ہیں کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے اعدادوشمار کے مطابق ان میں محض پندرہ ہزار چھ سو ساٹھ ٹیوب ویلز کو قانونی کنکشنز کے تحت چلایا جارہا ہے۔ جبکہ تقریبا پچیس ہزار کے قریب ٹیوب ویلز غیر قانونی ہیں۔

پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکڑک یونین بلوچستان کے صدر حاجی محمد رمضان اچکزئی اس معاملے پر دو مرتبہ عدالت سے رجوع کرچکے ہیں لیکن عدالت کے حکم کے باوجود ابھی تک ان ٹیوب ویلز کو قانونی دائرے میں نہیں لایا جاسکا۔ اس کی وجہ کیا؟

رمضان اچکزئی کہتے ہیں کہ ’صوبے میں سرداروں اور زمینداروں کی حکومت ہے اور انھوں نے قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائےغیر قانونی راستہ اختیار کیا۔ میں نے دو ہزار پانچ میں بلوچستان ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن کی جس کے نتیجے میں حکومتی مشینری کو کہا گیا تھا کہ یہ ٹیوب ویلز غیرقانونی ہیں اور اس کی وجہ سے کمرشل گھریلو اور صنعتی صارفین کو لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیسکو کے مالی حالات بھی اچھے نہیں اس لیے انھیں قانونی دائرے میں لایا جائے یا بند کیا جائے’۔

حاجی رمضان کہتے ہیں ’ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد یہ معاملہ ہم نے چیف سیکرٹری سے بھی اٹھایا انھوں نے بھی ہدایت جاری کردی لیکن پھر زمینداروں نے وزیراعلی سے ملاقات کی جن کا کہنا تھا کہ کنکشن تو کنکشن ہے چوری کا ہو یا منظوری کا۔ جس کے بعد یہ معاملہ دب گیا’۔

"صوبے میں سرداروں اور زمینداروں کی حکومت ہے اور انھوں نے قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائےغیر قانونی راستہ اختیار کیا۔ میں نے دو ہزار پانچ میں بلوچستان ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن کی جس کے نتیجے میں حکومتی مشینری کو کہا گیا تھا کہ یہ ٹیوب ویلز غیرقانونی ہیں اور اس کی وجہ سے کمرشل گھریلو اور صنعتی صارفین کو لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیسکو کے مالی حالات بھی اچھے نہیں اس لیے انھیں قانونی دائرے میں لایا جائے یا بند کیا جائے۔"

پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکڑک یونین بلوچستان کے صدر حاجی محمد رمضان اچکزئی

عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکڑک یونین بلوچستان کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دی گئ اورعدالت نے ایک مرتبہ پھر غیر قانونی ٹیوب ویلز کنکشنز ختم کرنے کی ہدایت کی لیکن ابھی تک صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نہیں ہوسکی۔ ان غیرقانونی ٹیوب ویلز کے لیے اکثر زمینداروں کی جانب سے ناقص کھمبے اور غیرمعیاری ٹرانسفارمر بھی استعمال کیے جارہے ہیں۔

جو ٹیوب ویلز قانونی ہیں انھیں سبسڈی کے تحت فلیٹ ریٹ پر چلایا جارہا ہے۔ یعنی بجلی جتنی بھی استعمال ہو بل چھ ہزار ہی ہوگا۔ اس سبسڈی کا ساٹھ فیصد حصہ صوبائی حکومت جبکہ چالیس فیصد وفاقی حکومت ادا کرتی ہے۔ تاہم اس کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں غیرقانونی ٹیوب ویلز کی موجودگی کی وجہ کیا ہے۔ اس سوال پر بلوچستان کی زمیندار ایکشن کمیٹی کے وائس چئیرمین نصیر شاوانی کہتے ہیں۔

’یہ ٹیوب ویل خشک سالی کے بعد اس وقت لگائے گئے جب بلوچستان میں پانی کی سطح بہت نیچے چلی گئی اور محکمے نے نئے کنکشن دینے پر پابندی عائد کردی۔ پہلے تو چوبیس گھنٹے بجلی ملتی تھی اب چار گھنٹے بھی نہیں ملتی اگر کاشتکار یہ نہ کرتے تو ان کا اربوں روپے کا نقصان ہوجاتا۔ ان ٹیوب ویلز نے ہی بلوچستان کو سرسبز و شاداب رکھا ہے ہم سالانہ پانچ لاکھ ٹن سیب پیدا کرتے ہیں چارلاکھ ٹن کھجور چار لاکھ ٹن انگور اور دوسرا پھل پیدا کرتے ہیں ستر دوسرے پھل اور سبزیاں بھی اگاتے ہیں وہ سب اسی سبسڈی کی وجہ سے ہے’۔

اس وقت غیرقانونی ٹیوب ویلز چلانے والوں کے ذمے کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کے تقریبا چون ارب روپے واجب الادا ہیں اور سوال یہ ہے کہ یہ رقم ان سے کیسے نکلوائی جائے۔

کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجنئیر بلیغ الزمان کہتے ہیں ’ اب محکمے نے غیر قانونی ٹیوب ویلز کے اعدادوشمار اکٹھے کیے ہیں اور ایسی ٹیمیں بنائی گئی ہیں جن میں زمینداروں اور ضلعی حکومت کے نمائندے شامل ہیں یہ ٹیمیں صوبے بھر میں ٹیوب ویلز کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے اقدامات کریں گی۔ وہ ٹیوب ویلز جو محکمے کے معیار پر پورا اترتے ہوں گے انھیں تو ڈیمانڈ نوٹ جاری کیے جائیں گے اور جو غیر معیاری ہوں گے انھیں بند کردیا جائے گا’۔

" اب محکمے نے غیر قانونی ٹیوب ویلز کے اعدادوشمار اکٹھے کیے ہیں اور ایسی ٹیمیں بنائی گئی ہیں جن میں زمینداروں اور ضلعی حکومت کے نمائندے شامل ہیں یہ ٹیمیں صوبے بھر میں ٹیوب ویلز کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے اقدامات کریں گی۔ وہ ٹیوب ویلز جو محکمے کے معیار پر پورا اترتے ہوں گے انھیں تو ڈیمانڈ نوٹ جاری کیے جائیں گے اور جو غیر معیاری ہوں گے انھیں بند کردیا جائے گا۔"

کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجنئیر بلیغ الزمان

لیکن یہ سب اتنا آسان بھی نہیں پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکڑک یونین بلوچستان کے صدر حاجی محمد رمضان اچکزئی کہتے ہیں کہ ’محکمے میں سیاسی مداخلت بہت زیادہ ہے ڈویژن اور سرکل کی سطح پر بھی اوپر سے تعیناتیاں ہوتی ہیں اور پھر یہ لوگ سیاسی خوشنودی کے لیے کام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کیسکو میں پیشہ وارنہ طریقے سے کام نہیں ہو رہا ـ اور یہ لوگ اتنے طاقتور ہیں کہ ان کے پاس کلاشنکوف بھی ہیں راکٹ لانچر بھی ہیں اور سیاسی اثر و رسوخ بھی ہے محکمے کے لوگوں کے پاس یہ طاقت اور اثر ور رسوخ نہیں ہے’۔

ٹیوب ویلز کو قانونی دائرے میں لانے کی کوششیں کب بارآور ثابت ہوں سکیں گی اس حوالے سے تو کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم اس وقت بلوچستان میں کاشتکار پانچ سو فٹ سے ایک ہزار فٹ تک گہرائی سے پانی نکال رہے ہیں۔ اور اگر یہ غیرقانونی ٹیوب ایسے ہی چلتے رہے تو قحط سالی کے باعث پہلے ہی پانی کی شدید قلت کاشکار صوبے میں مزید بحرانی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔