ایک فلم، ایک مقالہ، خرچہ پینتالیس کروڑ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 28 نومبر 2012 ,‭ 17:33 GMT 22:33 PST

پاکستان کی قومی انسداد دہشت گردی کی اتھارٹی نے چار سالوں میں پینتالیس کروڑ روپے خرچ کئے

ملک میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے حکومت کو پالیسی اور سفارشات دینے والی اتھارٹی نےگزشتہ چار سال کے دوران ایک دستاویزی فلم اور ایک تحقیقی مقالہ تیار کیا ہے جبکہ یہ اتھارٹی اب تک پینتالیس کروڑ روپے خرچ کر چکی ہے۔

شدت پسندی اور دہشتگردی سے متعلق یہ دستاویزی فلم ایک غیر سرکاری تنظیم کی مدد سے شدت پسندی سے متاثرہ علاقے سوات میں تیار کی گئی ہے جس کا دورانیہ پچیس منٹ ہے جبکہ تحقیقی مقالہ بھی اس علاقے سے متعلق تیار کیاگیا ہے۔

اس بات کا انکشاف بدھ کے روز وزارت داخلہ سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کیاگیا جس میں نیشنل کاونٹر ٹیررازم اتھارٹی یعنی قومی انسداد دہشتگردی اتھارٹی کے ارکان نےقائمہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ اس ادارے نے اب تک یہ دستاویزی فلم اور مقالہ حکومت کے متعقلہ حکام کو فراہم کر دیا ہے۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ متعلقہ اتھارٹی اور حکومت سے اس اتھارٹی کی قانونی حثیت کے بارے میں تفصیلات طلب کرلی ہیں اور اس ضمن میں سیکرٹری قانون کو بھی ائندہ اجلاس میں طلب کیا گیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ متعقلہ حکام کو اس بات کا جواب دینا ہوگا کہ اتنی رقم کہاں خرچ کی گئی اور اس کے نتائج کیا سامنے آئے ہیں

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ متعلقہ اتھارٹی اور حکومت سے اس اتھارٹی کی قانونی حثیت کے بارے میں تفصیلات طلب کر لی ہیں اور اس ضمن میں سیکرٹری قانون کو بھی آئندہ اجلاس میں طلب کیاگیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ متعقلہ حکام کو اس بات کا جواب دینا ہوگا کہ اتنی رقم کہاں خرچ کی گئی اور اس کے نتائج کیا سامنے آئے ہیں۔

سینیٹر طلحہ محمود کے مطابق قومی خزانے کے ضائع ہونے کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

اُدھروفاقی کا بینہ کے اجلاس میں قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی مجریہ دو ہزار بارہ کے بل کے مسودے کی منظوری دی گئی ہے جس میں اس اتھارٹی کے ضابطہ کار اور طریقہ کار طے کیاگیا ہے۔ جسے بعد ازاں قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی کا قیام سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے زبانی احکامات کی روشنی میں سنہ دوہزار آٹھ کو عمل میں لایا گیا تھا اور وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی آے کے سابق سربراہ طارق پرویز کو اس اتھارٹی کا پہلا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا بعدازاں اُنہوں نے اس عہدے سے مستفی ہوگئے تھے۔ قائمہ کمیٹی نے اس اتھارٹی کے سابق چیئرمین کو بھی ائندہ کے اجلاس میں طلب کرلیا ہے

قومی انسداد دہشتگردی اتھارٹی کا قیام سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے زبانی احکامات کی روشنی میں سنہ دوہزار آٹھ کو عمل میں لایا گیا تھا اور وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی آے کے سابق سربراہ طارق پرویز کو اس اتھارٹی کا پہلا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا بعدازاں اُنہوں نے اس عہدے سے مستفی ہوگئے تھے۔ قائمہ کمیٹی نے اس اتھارٹی کے سابق چیئرمین کو بھی آئندہ کے اجلاس میں طلب کرلیا ہے۔

قومی انسداد دہشتگردی اتھارٹی کا مقصد شدت پسندی کو روکنے کے لیے دیگر ممالک میں رائج قوانین کا مطالعہ کرکے اور حقائق کو سامنے رکھ کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پالیسی تیار کرکے دینا ہے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق اس اتھارٹی کے قیام سے لےکر آج تک متعقلہ حکام نے کوئی پالیسی نہیں دی جبکہ اس کے ارکان متعدد ممالک کا دورہ بھی کرچکے ہیں۔ اس اتھارٹی میں کام کرنے والے زیادہ افراد کی تعداد کا تعلق پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔