کراچی: سانحۂ بلدیہ کے متاثرین کی بے چینی

آخری وقت اشاعت:  منگل 27 نومبر 2012 ,‭ 18:26 GMT 23:26 PST

کراچی کے فیکٹری میں آگ لگنے کے واقعہ کے متاثرین ابھی تک امداد کے منتظر ہیں

کراچی میں بارہ ستمبر کو بلدیہ ٹاؤن کے ایک کارخانے میں آگ لگنے سے ہلاک ہونے والے ڈھائی سے تین سو کے لگ بھگ افراد کی تعداد کی بارے میں سرکاری و غیر سرکاری حلقے ابھی تک اختلافات کا شکار ہیں جبکہ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے باوجود بھی کسی نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

ادھر سرکار کا دعویٰ ہے کہ لواحقین کو یا تو امدادی رقوم مل چکیں ہیں یا جلد ہی دے دی جائیں گی جبکہ متاثرین ابھی بھی امداد کے نا ملنے کا شکوہ کرتے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ کے اس سب سے بڑے صنعتی حادثے میں کراچی کے بلدیہ ٹاؤن میں واقع کارخانے علی انٹرپرائزز میں اس برس بارہ ستمبر کو بھڑک اٹھنے والی آگ سے سینکڑوں مزدور جل کر ہلاک ہوگئے تھے۔ کراچی پولیس کے سربراہ سی سی پی او اقبال محمود نے اس وقت ہلاکتوں کی کل تعداد دو سو چونسٹھ بتائی تھی۔

بعد ازاں مختلف ذرائع نے یہ تعداد دو سو اناسی بتائی جبکہ لواحقین اور مزدور تنظیوں کا اب دعویٰ ہے کہ قریباً تین سو اٹھارہ لوگ ہلاک، سو کے قریب زخمی اور بہت سے بے روزگار بھی ہوئے تھے۔

ہلاک شدگان کے وکیل ملک وسیم اقبال کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ دو سو چونسٹھ کے قریب تو وہ لوگ تھے جن کی لاشیں شناخت ہوگئی تھیں۔ لیکن چالیس کے قریب لاشین ایسی ہیں جن کا ڈی این اے ٹیسٹ ہونا ابھی باقی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کئی بار حکم دے چکی ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ کا عمل تیز کیا جائے۔ اس کے علاوہ تیس سے پینتیس افراد ایسے ہیں جن کے بارے میں ان کے لواحقین کا دعویٰ ہے کہ وہ اس وقت کارخانے میں کام کررہے تھے، یا کام پر جانے کے لیے گھر سے گئے تھے، مگر لوٹ کر نہیں آئے۔ حادثے کے بعد نہ ان کی نہ لاش ملی نہ اب تک سراغ مل سکا کہ وہ کہاں گئے۔

لواحقین اور مزدور تنظیوں کا دعویٰ ہے کہ کراچی فیکٹری آگ میں قریباً تین سو اٹھارہ لوگ ہلاک ہو گئے تھے

ہلاک شدگان کے وکیل کا دعویٰ ہے کہ اتنے بڑے کارخانے میں جہاں سینکڑوں مزدور کام کررہے تھے، ان کی حفاظت کے لیے دنیا بھر میں رائج قواعد و ضوابط اور قوانین کی کوئی پاسداری نہیں کی گئی تھی۔ اور تو اور آگ بھجانے کے لیے مناسب آلات و نظام بھی موجود نہیں تھا۔

کارخانے میں جو مزدور کام کرتے تھے ان کے پاس ادارے میں ملازمت کا کوئی تحریری ثبوت بھی نہیں تھا۔

رینا نام کے ایک یورپی ادارے نے اس کارخانے کو سرٹیفیکیٹ جاری کیا تھا، مگر جب آگ لگی تو اس یورپی ادارے نے اپنا کراچی کا دفتر بند کردیا اور عدالت میں استدعا کی کہ علی انٹر پرائزز نے اس سلسلے میں جھوٹ بولا ہے۔ وکیل ملک وسیم اقبال نے مزید کہا کہ حکومت بھی اس معاملے میں غفلت کی مرتکب رہی ہے۔

کراچی کی بلدیہ کے سابق ایڈمنسٹریٹر فہیم زمان ان لوگوں میں شامل رہے جنہوں نے نہ صرف اس واقعے پر آواز بلند کی بلکہ وہ عملاً بھی احتجاج کرنے والوں حلقوں کے ساتھ شامل رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کارخانے میں جب آگ لگی تو بجھانے کے لیے پانی نہیں تھا کیوں کہ اس واقعے سے دو برس پہلے سائٹ میں بلدیہ کے فائر اسٹیشن کے پانی کا کنکشن سائٹ مینجمنٹ نے بل ادا نہ کرنے پر کاٹ دیا تھا وہ آج بھی کٹا ہوا ہے۔

اس دو کروڑ کے شہر میں کل چھتیس فائر بریگیڈ گاڑیاں ہیں۔ ان کی مرمت و دیکھ بھال بھی غیر واضح طریقے سے نجی شعبے کو دی جاچکی ہے اور اس پر کوئی پوچھنے والا بھی نہیں۔ ان تمام گاڑیوں میں بمشکل بیس بائیس بہت ہو تو چوبیس گاڑیاں کام کے قابل رہتی ہیں۔

ہم نے صرف ایک خبر سنی تھی کہ گورنر ہاؤس میں بلوا کر ایک سو اٹھاسی دعویداروں کو امدادی رقوم تقسیم کی گئیں ان میں سات لاکھ روپے تک کی رقم بتائی گئی۔

اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر زبیر موتی والا کہتے ہیں کہ لواحقین میں تین لاکھ روپے الگ اور چار لاکھ روپے الگ یعنی کل ملا کر سات لاکھ روپے تقسیم کئے گئے ہیں۔ مالکان (بھائیلہ خاندان) بھی آج پیشی پر تھے ان کا کہنا ہے کہ وہ بھی ازالے کی اتنی رقم کی ادائیگی کے لیے تیار ہیں جو ان کا حصہ بنتا ہے۔

علی انٹر پرائز میں لگنے والی آگ سے ملازمین کی ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے حکومت پاکستان نے ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس قربان علوی کی سربراہی میں ٹرائبیونل قائم کر رکھا ہے مگر لواحقین کی شکایات اب بھی برقرار ہیں اور وکلا، مزدور انجمنوں اور شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ ناکافی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔