آئی بی فنڈز کا غلط استعمال، سپریم کورٹ کی جواب طلبی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 28 نومبر 2012 ,‭ 17:25 GMT 22:25 PST

سپریم کورٹ نے مبینہ طور پر پنجاب حکومت گرانے کے لیے انٹیلی جنس بیورو کے خفیہ فنڈ کے غلط استعمال پر اس ادارے کے سربراہان سے جواب طلب کیا ہے

سپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی کے ادوار میں مبینہ طور پر پنجاب حکومت گرانے کے لیے انٹیلیجنس بیورو یعنی آئی بی کے خفیہ فنڈ کے غلط استعمال پر جواب طلب کرتے ہوئے اس ادارے کے موجودہ اور دو سابق سربراہان کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

واضع رہے سپریم کورٹ کی جانب سے اصغر خان کیس کی سماعت کے دوران پیپلز پارٹی کے سابقہ ادوار میں آئی بی کے خفیہ فنڈ کے مبینہ طور پر غلط استعمال کا نوٹس لیا گیا تھا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس نوٹس کی سماعت کی۔

عدالت عظمی نے 1988 سے 1990 اور 2008 سے 2009 تک آبی بی بجٹ کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں اور آئی بی کے موجودہ اور سابق سربراہان کو دو ہفتوں میں جواب جمع کروانے کا کہا ہے۔

انٹیلیجنس بیورو کے موجودہ سربراہ اختر گورچانی ہیں جبکہ مسعود شریف اور طارق لودھی اس ادارے کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں۔

مسعود شریف سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل اُنہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ہے۔

عدالت نے ان افراد سے کہا ہے کہ آئندہ سماعت سے پہلے تفصیلی جواب سپریم کورٹ میں جمع کروایا جائے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر عدالت ان افراد کے بیان سے مطمئن نہ ہوئی تو انٹیلیجنس بیورو کے موجودہ اور سابق سربراہان کو عدالت میں طلب بھی کیا جاسکتا ہے۔

سماعت کے دوران آئی بی کی ڈپٹی ڈائريکٹر ليگل نے عدالت کے نوٹسز کا جواب جمع کرايا جسے عدالت نے مسترد کر ديا۔ اور تفصیلی جواب جمع کروانے کا حکم دیا۔

سماعت کے دوران مقامی اخبار کے صحافی اسد کھرل نے خفیہ فنڈز کے استعمال کے بارے میں اپنی خبر سے متعلق دستاویزات پیش کیں جس میں اُن کے بقول سنہ دوہزار نو میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی حکومت نے پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت کو گرانے اور اخباری اطلاعات کے مطابق اراکین صوبائی اسمبلی کی سیاسی وفاداریاں خریدنے کے لیے آئی بی کے خفیہ فنڈز سے ستائیس کروڑ روپے نکلوائے تھے۔

عدالت نے اُن سے استفسار کیا کہ اس رپورٹ کے مستند ہونے کی کیا دلیل ہے جس پر مقامی صحافی کا کہنا تھا کہ ایک تو یہ کہ ائی بی کی طرف سے اُن کی خبر کی تردید نہیں کی گئی۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ شعیب سڈل جب انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ تھے تو وہ یہ معاملہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے نوٹس میں لائے تھے لیکن اُنہوں نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔

عدالت نے اس مقدمے کی سماعت دو ہفتے تک ملتوی کردی.

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔