مارک گراسمین مستعفی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 28 نومبر 2012 ,‭ 07:37 GMT 12:37 PST

مارک گراسمین پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے تھے۔

پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے مائک گراسمین نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی جانب سے اس عندیے کے بعد کہ وہ صدر اوباما کی دوسری مدت میں وزارت خارجہ کا قلمدان نہیں سنبھالیں گی، یہ صدر اواباما کی خارجہ پالیسی کی ٹیم کے دوسرے عہدیدار ہیں جو اپنے عہدے سے الگ ہو رہے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے دسمبر دو ہزار دس میں رچرڈ ہولبروک کی وفات کے بعد مائیک گراسمین کو ریٹائرمنٹ سے واپس بلا کر یہ اہم ذمہ داری سونپی تھی۔

گراسمین کی ترجمان لورا لوکس نے اے ایف پی کی بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ ’وہ دو سال اس عہدے پر فائز رہنے کے بعد اور وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی رضامندی سے واپس نجی مصروفیات شروع کر دیں گے۔‘

ہیلری کلنٹن نے گراسمین کی تعریف کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے افغانستان میں علاقائی اور بین الاقوامی حمایت کے حصول کے لیے سفارتی عمل کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں دو ہزار چودہ کے بعد اور اگلی دہائی کے بعد کے افغانستان کے لیے عالمی حمایت استوار ہو سکے۔

کلنٹن نے کہا کہ گراسمین نے افغانستان میں قیام امن کے لیے کوششوں کے لیے شرائط و ضوابط طے کرنے میں مدد کی جس کی مدد سے افغان مسئلے کا کوئی مستقل حل نکالنے کی تدبیر ممکن ہو سکے گی۔

مارک گراسمین نے پاکستان سے گزرنے والے نیٹو کی رسد کے راستے کھولنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

اکسٹھ سالہ گراسمین نے کئی بار پاکستان اور افغانستان کا دورہ کیا ہے اور ان کی پس پردہ کوششوں نے پاکستان کو رضامند کیا کہ وہ نیٹو کے لیے رسد کے راستے کھولے جو کہ چوبیس پاکستانی فوجیوں کی ایک امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں ہلاکت کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔
گراسمین اگلے ماہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے جس کے بعد ان کے نائب ڈیوڈ پیئرس ان کے قائم مقام کے طور پر کام کریں گے۔

اس سے پہلے گراسمین نے پاکستان میں امریکی سفارت خانے میں انیس سو ستتر سے انیس سو اناسی تک کام کیا جس کے بعد وہ بتدریج امریکی خارجہ محکمے میں ترقی کرتے گئے۔

انہوں نے رچرڈ ہولبروک کی ڈیٹن امن مزاکرات میں معاونت بھی کی تھی جن کے نتیجے میں بوسنیا میں خانہ جنگ اختتام پذیر ہوئی تھی۔

اس کے علاوہ گراسمین نے دو ہزار ایک سے دو ہزار پانچ کے درمیان سابق امریکی وزرائے خارجہ کولن پاول اور کونڈولیزا رائس کے سیاسی امور کے معاون کے طور بھی کام کیا تھا جو کہ ان کا سب سے اہم عہدہ تھا۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔