بلدیاتی نظام کے خلاف سندھ میں ہڑتال

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 30 نومبر 2012 ,‭ 08:55 GMT 13:55 PST

پولیس نے زبردستی دکانیں بند کروانے کے الزام میں بارہ سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے متعدد شہروں میں نئے بلدیاتی نظام کے خلاف قوم پرست تنظیموں کی اپیل پر جمعہ کو ہڑتال کی گئی ہے۔

مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگارو نے بلدیاتی قانون کے نفاذ کے خلاف جمعہ کو یوم سیاہ منانے کی اپیل کی تھی جس کے بعد قوم پرستوں کے اتحاد سندھ بچاؤ کمیٹی نے اسی دن ہڑتال کی اپیل بھی کر دی تھی۔

اندرونِ سندھ میں اس ہڑتال کا واضح اثر دیکھا گیا ہے اور وہاں بیشتر شہروں میں کاروبارِ زندگی معطل ہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق روہڑی، شکارپور، ٹھٹھہ، سانگھڑ، ٹنڈو الہ یار اور نواب شاہ سمیت مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ سندھ کے اکثر شہروں میں جمعہ کو ہفتہ وار تعطیل ہوتی ہے لیکن جن شہروں میں بازار کھلتے ہیں وہاں بھی کاروبار بند ہے۔

حیدرآباد میں ہڑتال کا جزوی اثر دیکھا گیا ہے۔ شہر میں وہ علاقے بند ہیں جہاں قوم پرست تنظیموں کا اثر پایا جاتا ہے جب کہ شہر کے کئی علاقوں میں دکانیں کھلی بھی ہوئی ہیں۔

شہر میں جمعہ کی صبح کے وقت کئی مقامات پر ہوائی فائرنگ کر کے کاروبار بند کروا دیا گیا۔ شہر کے قریب ایک ٹرالر میں آگ بھی لگا دی گئی جس کے نتیجے میں گاڑی کا ڈرائیور اور کلینر جھلس گئے جنہیں ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے۔

پولیس نے صوبے کے مختلف شہروں میں زبردستی دکانیں بند کروانے کے الزام میں بارہ سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے۔

ضلع سانگھڑ کے علاقے شہداد پور میں ہڑتال کے حامیوں کی ریلی پر نا معلوم افراد کی فائرنگ کے باعث کشیدگی بڑھ گئی اور فائرنگ کے تبادلے میں آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔

زخمیوں میں حر جماعت کے خلیفہ غلام محمد کے صاحبزادے بھی شامل ہیں۔

ہڑتال کے موقع پر حیدرآباد اور سکھر سمیت بعض شہروں میں پولیس کے ساتھ رینجرز بھی گشت کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔