بے گھر ہندو خاندان، زرداری کا نوٹس

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 دسمبر 2012 ,‭ 00:08 GMT 05:08 PST
کراچی میں مندر مسمار

کراچی میں کئی مندر اب رہائشی کالونیوں میں تبدیل کیے جا چکے ہیں

ایک کھلے میدان میں بیٹھی ہوئی، شریمتی پاروتی مورتیوں سے دور ہٹنے کو تیار نہیں، انہیں ڈر ہے کہ دوبارہ کوئی آئیگا اور مورتیاں چھین کر لے جائےگا۔

چار لکڑیوں کی مدد سے بنائے گئے سائباں میں وہ راما پیر کی مورتی کے پاؤں پکڑ کر بیٹھی تھیں، ساتھ میں شیو اور سائیں بابا کی فریم سے نکلی تصاویر موجود تھیں، پیروں میں شنک ، ڈفلی اور شیو لنگ کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

شریمتی پاروتی کے مطابق پاکستان بننے سے پہلے یہاں کمپاؤنڈ میں نو کوارٹر بائیں جانب اور آٹھ کوارٹر دائیں جانب ہوا کرتے تھے۔ ’اس سے پہلے بھی کئی لوگوں نے کہا تھا کہ انہوں یہ جگہ خرید کرلی ہے مگر کسی نے انہیں کچھ نہیں کہا لیکن اس بار گھر تو گرایا ساتھ میں مندر بھی مسمار کر دیا۔‘

ڈولی کھاتہ میں راما پیر کے مندر کی رکھوالی برسوں سے مارواڑی خاندان کرتا آرہا ہے، اس کمپاؤنڈ پر ایک بلڈر نے کچھ عرصہ پہلے ملکیت کا دعویٰ کیا تھا اور نصف کے قریب گھر مسمار کردیے تھے۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے واقعے کا نوٹس لیا ہے جبکہ ان کے بیٹے اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ تاہم صوبائی حکومت بھی صدر کے نوٹس لینے کے بعد حرکت میں آئی ہے۔

لکشمن لال فالج سے متاثر ہیں وہ اس وقت گھر میں موجود تھے جب مندر گرایا گیا اور مورتیوں کی بے حرمتی کی گئی۔ یہ دیکھ انہوں نے بیماری کے باوجود مزاحمت کی جس کے نتیجے میں ان پر تشد کیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماتا کی مورتی سے زیوارت لوٹے گئے ہیں۔

کھلے میدان میں مسمار مندر سے چند نوجوان مورتیوں کی باقیات ڈھونڈتے ہوئے نظر آئے، انہیں خاص طور پر اس سنگ بنیاد کی تلاش تھی جو دوبارہ مرمت کے وقت لگایا گیا تھا۔ یہاں پانی، بجلی اور گیس تینوں کی فراہمی دستیاب تھی جو قبضے کی جگہوں پر عام طور فراہم نہیں کی جاتی۔

یہ زمین کس کی ملکیت ہے، یہ معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے مگر کراچی کینٹونمنٹ بورڈ نے کسی فیصلے سے پہلے اسے مسمار کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان لوگوں نے قبضہ کیا ہوا تھا اور ’قبضہ کرنے والوں کا کوئی دین دھرم نہیں ہوتا۔‘

یہ تمام خاندان چھوٹے چھوٹے کمروں میں رہتے تھے اور اکثر عمارتوں اور گھروں میں صفائی کا کام کرتے ہیں، بعض نوجوان تھوڑے بہت تعلیم یافتہ بھی ہیں اور انہوں نے ہی موبائل فون پر بلڈوزر کی ویڈیو بھی بنائی ہے۔

شریمتی گنگا کے شوہر کا تین ماہ پہلے انتقال ہوگیا تھا۔ ان کی واشنگ مشین میدان میں ٹوٹی اور بکھری ہوئی نظر آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ تیسرا روز ہے وہ آسمان کے نیچے بیٹھے ہوئے ہیں مگر کسی نے مدد تو دور کی بات ایک وقت کا کھانا بھی فراہم نہیں۔

کراچی میں کئی مندر اور دھرم شالا رہائشی کالونیاں، گیراج یا دفاتر میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت کراچی میں تقریباً ساڑھے چار سو مندر تھے جو بعد میں کم ہو کر سو ہوگئے اور ان میں سے بھی تقریباً آدھے ہی پوجا کرنے والوں کے لیے کھلے ہیں۔

مندروں کا انتظام اویکیو پراپرٹی ٹرسٹ کے حوالے کیا گیا تھا، وفاقی محکمے کا دفتر لاہور میں قائم کیا گیا۔ پہلے مندر، دھرم شالا کے کمپاؤنڈ کرائے پر تھے اور آہستہ آہستہ یہ نجی املاک بن گئے۔ آئین میں حالیہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد یہ محکمہ صوبوں کے حوالے ہونا ہے مگر ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔

صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور موہن لال کوہستانی کا کہنا ہے کہ اویکیو ٹرسٹ میں اقلیتی نمائندہ ہونا چاہیے تھے اور یہ املاک ہندو کمیونیٹی کی زیر نگرانی رہنے دی جاتی تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔

انہوں نے بتایا کہ اب قانون سازی کی جا رہی ہے، جس کے مطابق اگر مندر، چرچ، گورد وارے اور گئوشالا پر کوئی قبضہ کرتا ہے تو حکومت فوری طور پر اس پر مقدمہ درج کرائیگی جس کے تحت ملزم کو دس سال سزا اور دس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔