اسلام آباد: چھتیس لاکھ افراد ٹیکس دھارے سے باہر

آخری وقت اشاعت:  پير 3 دسمبر 2012 ,‭ 17:29 GMT 22:29 PST

پاکستان میں چھتیس لاکھ افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جو ٹیکس کے دھارے سے باہر ہیں

ڈیٹا بیس رجسٹریشن کے قومی ادارے نادرا نے ٹیکس کے دھارے میں لانے کے لیے ایسے چھتیس لاکھ افراد کی نشاندہی کی ہے جو عرصہ دارز سے ٹیکس ادا نہیں کر رہے اور جس کی وجہ سے قومی خزانے میں اربوں روپے جمع نہیں ہو رہے تھے۔

فیڈرل بورڈ آف ریوینو نے نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کی مدد سے ان افراد کی شناخت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹیکس کے قومی دھارے میں شامل نہ ہونے کی صورت میں ان افراد کے خلاف کریمینل (فوجداری) دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔

نادرا کے ایک اہلکار زاہد بشیر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کاروباری حضرات کی نشاندہی کا طریقۂ کار یہ کہ جو افراد سال میں متعدد بار بیرونی ممالک کا دورہ کرتے ہیں اور اُن کے پاس ایک سے زائد گاڑیاں ہیں اور ان کے متعدد بینک اکاؤنٹس بھی ہیں لیکن وہ ٹیکس کے دھارے میں نہیں ہیں تو ان کی نشان دہی کی گئی۔

نادرا کے اہلکار کے مطابق اس ضمن میں ایسے افراد کا ڈیٹا ائرپورٹس، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور مختلف بینکوں سے اکٹھا کیا گیا ہے۔

نادرا کے اہلکار کے مطابق چند روز تک مزید ایسے تین سے چار لاکھ افراد کی بھی نشاندہی کرلی جائے گی جو ابھی تک ٹیکس ادا نہیں کررہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کا ریکارڈ فیڈرل بورڈ اف ریونیو (ایف بی آر) کو بھجوا دیا گیا ہے۔

فیڈرل بورڈ اف ریونیو نے اس ضمن میں ٹیکسں ایمنیسٹی سکیم کا مسودہ بھی تیار کیا ہے جسے قومی اسمبلی کے آئندہ ہونے والے اجلاس میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

ٹیکس ہدف

ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق ان افراد کے ٹیکس کے قومی دھارے میں شامل ہونے کے بعد چھیانوے ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے اور اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے رواں مالی سال میں ٹیکس جمع کرنے کا ہدف دو ہزار تین سو اکیاسی ارب روپے رکھا ہے

اس سکیم کے تحت چھتیس سے چالیس لاکھ افراد کو ایک مخصوص رقم جُرمانے کے طور پر ادا کرنا ہوگی جو پچاس ہزار سے لے کر ستر ہزار روپے تک ہوگی جس کے بعد ان افراد کو ٹیکس کے قومی دھارے میں شامل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پچاس لاکھ روپے کی جائیداد پر ایک فیصد ٹیکس دے کر اُس کو قانونی حیثیت دی جاسکتی ہے۔

ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق ان افراد کے ٹیکس کے قومی دھارے میں شامل ہونے کے بعد چھیانوے ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے اور اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے رواں مالی سال میں ٹیکس جمع کرنے کا ہدف دو ہزار تین سو اکیاسی ارب روپے رکھا ہے۔

گُذشتہ مالی سال کے دوران حکومت نے ٹیکس جمع کرنے کا ہدف ایک ہزار نو سو باون ارب روپے رکھا تھا تاہم ایف بی آر یہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔ یاد رہے کہ پاکستان میں مالیاتی سال یکم جولائی سے شروع ہوتا ہے۔

ایف بی ار کے اہلکار شاہد نذیر کے مطابق پارلیمنٹ سےیہ سکیم منظور ہونے کے بعد ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون نے اس سکیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بہت سا کالا دھن سفید ہو جائے گا اور سے حکومت کو کوئی قابل ذکر فائدہ بھی نہیں ہوگا اس لیے اس سکیم کا از سرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔