’فہرستوں کی تصدیق کے لیے فوج کی مدد لیں‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 دسمبر 2012 ,‭ 08:45 GMT 13:45 PST

الیکشن کمیشن نے گذشتہ برس ووٹوں کی تصدیق کا عمل مکمل کیا تھا تاہم کراچی میں امن وامان کی خراب صورت حال کی وجہ سے ووٹوں کی تصدیق کا عمل مکمل نہیں ہو سکا تھا

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے کراچی کی انتخابی فہرستوں سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو شہر میں ووٹر فہرستوں کی تصدیق کے لیے فوج اور ایف سی سے مدد لینے کا حکم جاری کیا ہے۔

عدالت نے فوج کی مدد سے ان فہرستوں کی گھر گھر جا کر تصدیق کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے جاری کردہ فیصلے میں انتخابی حکام کو کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی شہری کا ووٹ اس کی مرضی کے بغیر منتقل نہیں کیا گیا۔

یہ حکم کراچی میں امن وامان کی خراب صورت حال کی روشنی میں دیا گیا ہے تاہم عدالت نے یہ نہیں بتایا کہ الیکشن کمیشن کتنے عرصے میں یہ عمل مکمل کرے گا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کو کراچی میں ووٹوں کے غلط اندارج سے متعلق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور جماعت اسلامی کے امیر منور حسن کی طرف سے دائر درخواستوں پر فیصلہ سُنایا۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق ان درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ دوسرے شہروں سے آنے والے ہزاروں افراد جو کہ عرصۂِ دراز سے کراچی میں مقیم ہیں، اُن کے ووٹ اُن کے آبائی شہروں کی بجائے کراچی میں درج کیے جائیں۔

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران متحدہ قومی موومنٹ نے بھی ایک درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ گھر گھر ووٹوں کی تصدیق کا عمل صرف کراچی میں ہی نہیں بلکہ پورے ملک تک پھیلا دیا جائے۔

عدالت نے ایم کیو ایم کے اعتراضات کو بھی سُنا۔ خیال رہے کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے سپریم کورٹ کی طرف سے کراچی میں نئی حلقہ بندیوں اور فوج کی خدمات حاصل کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی فہرست کے مطابق کراچی میں ووٹوں کی تعداد اڑسٹھ لاکھ باون ہزار کے قریب ہے۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی مدد سے تیار کی گئی رپورٹ کے مطابق پورے ملک میں تین کروڑ اکہتر لاکھ جعلی ووٹ ہیں۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہر شخص کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے اور ملک میں اس وقت جمہوری پارلیمانی نظام فروغ پا رہا ہے اور اس کے لیے شفاف ووٹوں کا اندراج بھی انتہائی ضروری ہے۔

عدالت نے اس درخواست کی سماعت کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا ہے اور الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ ووٹوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ کو اس سے متعلق آگاہ کیا جائے۔

الیکشن کمیشن نے گذشتہ برس ووٹوں کی تصدیق کا عمل مکمل کیا تھا، تاہم کراچی میں امن وامان کی خراب صورت حال کی وجہ سے ووٹوں کی تصدیق کا عمل مکمل نہیں ہو سکا تھا اور الیکشن کمیشن نے نادرا کے ریکارڈ پر ہی اکتفا کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔