وانا: خودکش حملے میں تین فوجی اہلکار ہلاک

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 دسمبر 2012 ,‭ 10:23 GMT 15:23 PST

زیڑی کالونی میں کئی فوجی دفاتر موجود ہیں اور کالونی کے قریب کیڈیٹ کالج وانا اور گرلز کالج وانا بھی واقع ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے شہر وانا کے قریب بدھ کی صبح ایک دھماکے میں تین فوجی اہلکار ہلاک جبکہ تئیس زخمی ہوگئے ہیں۔

وانا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وانا شہر سے مغرب کی جانب پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر تحصیل برمل کے علاقے زیڑی نور میں زیڑی نور فوجی کالونی کے سامنے ایک چیک پوسٹ پر خودکش کار بم دھماکا ہوا جس میں چیک پوسٹ کا برج اور قریب ہی واقع طبی امداد ی مرکز تباہ ہو گیا ہے۔

فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے بارود سے بھری ایک گاڑی کالونی کے سامنے واقع ایک چوکی کے مینار سے دے ماری جس کے بعد دھماکا ہوا۔ دھماکے میں تین اہلکار ہلاک جبکہ تئیس زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ زخمیوں میں زیادہ تر اہلکار ایسے ہیں جو طبی مرکز کے اندر پہلے سے موجود تھے۔

انھوں نے کہا کہ دھماکا انتہائی شدید تھا اور اس کے نتیجے میں قریبی طبی امدادی مرکز کی چھت گر گئی۔ اہلکار کے مطابق یہ ایک عارضی سنٹر تھا جو جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے دوران معمولی زخمی ہونے والے فوجیوں کے لیے بنایا گیا تھا۔

زیڑی کالونی میں کئی فوجی دفاتر موجود ہیں اور کالونی کے قریب کیڈیٹ کالج وانا اور گرلز کالج وانا بھی واقع ہیں۔

تاہم علاقے کی پولیٹیکل انتظامیہ نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ گاڑی ایک کچے راستے سے چوکی کی جانب آ رہی تھی کہ سکیورٹی اہلکاروں نے اس کو روکنے کے لیے اشارہ کیا۔ گاڑی نہ روکنے پر سکیورٹی اہلکاروں نے گاڑی پر ایک راکٹ داغا جس کے نتیجے میں ایک بڑا دھماکا ہوا۔

یاد رہے کہ ماضی میں بھی اسی چیک پوسٹ پر ایک واقعے میں سکیورٹی اہلکاروں نے ایک مسافر بس پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں دس عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

اس واقعے سے چند دن پہلے وانا میں مقامی طالبان کے سربراہ مُلا نذیر پر بھی ایک خودکش حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوئے تھے۔

مقامی لوگوں کے مطابق مُلا نذیر پر خودکش حملے کا الزام مقامی پولیٹیکل انتظامیہ نے تحریک طالبان پاکستان پر لگایا تھا جس کے بعد سے وانا میں آباد احمدزئی وزیر قبائل نے محسود قبائل کو علاقہ چھوڑ نے کے لیے کہا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ مُلا نذیر پر ہونے والے حملے کے بعد مقامی پولیٹکل انتظامیہ، فوجی اہلکاروں اور احمدزئی وزیر قبائل کے عمائدین کے درمیان دو دفعہ جرگے ہوئے جس میں حکام نے جرگے پر واضح کیا تھا کہ وانا میں امن و امان کی خرابی کی وجہ علاقے میں موجود محسود قبائل کی موجودگی ہے۔

دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان حلقہ محسود کے ترجمان عاصم محسود نے بی بی سی کو بتایا کہ مُلا نذیر پر حملے سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ محسود قبائل اور وزیر قبائل کے درمیان کسی قسم کے اختلافات نہیں ہیں، البتہ بعض عناصر محسود قبائل اور وزیر قبائل کو لڑانا چاہتے ہیں۔

انھوں نے اُمید ظاہر کی کہ وزیر قبائل وانا میں محسود قبائل کے متاثرین کے ساتھ اچھا رویہ رکھیں گے اور ان کو علاقے سے بے دخل کرنے میں جلد بازی سے کام نہیں لیں گے۔

دوسری طرف وانا سے یہ بھی اطلاع ہے کہ وانا میں موجود زیادہ تر محسود قبائل علاقے سے چلے گئے ہیں اور جو معمولی تعداد میں رہ گئے ہیں وہ بھی جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔