’کیا صدر غیر آئینی مشاورت ماننےکا بھی پابند ہے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 دسمبر 2012 ,‭ 05:18 GMT 10:18 PST

ریفرنس میں ججز کی تعیناتی کے بارے میں جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کے کردار کے بارے میں رائے مانگی گئی ہے

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری سے متعلق پیدا ہونے والے آئینی تنازع پر سپریم کورٹ کی رائے کے لیے ریفرنس دائر کردیا گیا ہے۔

یہ ریفرنس آئین کے آرٹیکل ایک سو چھیاسی کے تحت دائر کیا گیا ہے جس میں اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تعیناتی اور سنیارٹی کے بارے میں متعدد سوالات اُٹھائے گئے ہیں۔

ایڈووکیٹ آن ریکارڈ مہر خان ملک کی وساطت سے سپریم کورٹ میں جمع کروائےگیے اس ریفرنس میں سپریم کورٹ سے رائے مانگی گئی ہے کہ اگر کوئی غیر آئینی اقدام کیاگیا ہو تو کیا صدر جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کو نظرثانی کے لیے بھجوا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ اس ریفرنس میں ججز کی تعیناتی کے بارے میں جوڈیشل کونسل اور پارلیمانی کمیٹی کے کردار کے بارے میں رائے مانگی گئی ہے۔

اس ریفرنس میں اس بات کا بھی ذکر کیاگیا ہے کہ اگر ججز کی سنیارٹی طے ہوجائے تو کیا جوڈیشل کمیشن کو اسے تبدیل کرنے کا اختیار ہے۔

صدرِ مملکت نے اس ریفرنس میں سپریم کورٹ سے اس بات پر بھی رائے مانگی ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں تعیناتی کے لیے ججز کا نام دینے کا اختیار جوڈیشل کمیشن کے چیئرمین کو ہے یا کمیشن کا کوئی رکن کسی نام تجویز کرسکتا ہے اور کیا آئین اس کی اجازت دیتا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کا چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن کا سربراہ ہوتا ہے اور کمیشن کے اجلاس میں پیش کیے جانے والے ججز کے ناموں کا اعلان متفقہ رائے یا کثرت رائے سے کیا جاتا ہے۔

صدارتی ریفرنس میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ عدالتی کمیشن میں نامزدگی کا کیا معیار ہے اور کیا جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کو مخفی رکھنے کا مقصد اس کی شفافیت کو برقرار رکھنا ہے۔

اس ریفرنس میں اس بات پر بھی سپریم کورٹ سے رائے مانگی گئی ہے کہ بائیس اکتوبر کو جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج انور کاسی کی موجودگی سے کیا اس کمیشن کی حثیت غیر قانونی نہیں ہوجاتی۔

صدر کا سوال

صدرِ مملکت نے اس ریفرنس میں سپریم کورٹ سے اس بات پر بھی رائے مانگی ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں تعیناتی کے لیے ججز کا نام دینے کا اختیار جوڈیشل کمیشن کے چیئرمین کو ہے یا کمیشن کا کوئی رکن کسی نام تجویز کرسکتا ہے اور کیا آئین اس کی اجازت دیتا ہے۔

اس اجلاس میں کثرت رائے سے انور کاسی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ہے جبکہ وزارت قانون کے مطابق محمد ریاض اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینیئر جج ہیں۔

اس ریفرنس میں اس قانونی نکتے پر بھی رائے مانگی گئی ہے کہ کیا جب دو جج ایک ہی دن تعینات ہوں اور جس کی عمر زیادہ ہو اُس کو سینیئر تصور کیا جاتا ہے اور کیا جونئیر جج کی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تعیناتی آئینی ہے۔

بائیس اکتوبر کے اجلاس میں جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس اقبال حمیدالرحمٰن کو سپریم کورٹ میں جج تعینات کرنے، جسٹس انور کاسی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنے، اسلام آباد ہائی کورٹ میں تعینات جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو مستقل کرنے اور جسٹس نورالحسن کو مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کی گئی تھی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اعلی عدالتوں میں ججز کی تقرری سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے لیے جسٹس خلجی عارف حیسن کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا ہے جو دس دسمبر سے صدرارتی ریفرنس کی سماعت کرے گا۔

بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس طارق پرویز، جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس شیخ عظمت سعید شامل ہیں۔

اس سے پہلے جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت جسٹس خلجی عارف حیسن کی سربراہی میں ہی چار رکنی بینچ کر رہا تھا۔ اس بیبچ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس اعجاز احمد چوہدری بھی شامل تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔