ملالہ کے لیے دخترِ پاکستان کے خطاب کی قرارداد منظور

آخری وقت اشاعت:  پير 10 دسمبر 2012 ,‭ 16:29 GMT 21:29 PST

قومی اسمبلی میں یہ قرارداد روبینہ سعادت قائم خوانی نے پیش کی تھی

پاکستان کی قومی اسمبلی نے طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی ملالہ یوسفزئی کو ’دخترِ پاکستان‘ کا خطاب دینے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔

قومی اسمبلی میں ملالہ یوسفزئی کی پاکستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے کوششوں کے اعتراف میں ان کو اس خطاب سے نوازا گیا ہے۔

قومی اسمبلی میں یہ قرارداد روبینہ سعادت قائم خوانی نے پیش کی تھی۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے دہشت گردی میں ملوث بچوں کے مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں چلانے کے لیے قانون میں ترمیم کا بل آج قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔

یہ بل وزارت داخلہ کے پارلیمانی سیکریٹری رائے مجتبیٰ کھرل نے پیش کیا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ خود کش حملے ہوں یا دہشت گردی کی دیگر وارداتیں ان میں اکثر شدت پسند بچوں کو استعمال کرتے ہیں اور پاکستان میں جوینائل جسٹس سسٹم آرڈیننس مجریہ سنہ دو ہزار کے تحت بچوں کے خلاف مقدمات جوینائل عدالتوں میں ہی چلیں گے۔

لیکن اب ترمیمی بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث بچوں کے مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں چلیں گے اور ایسے ملزمان کو سزائے موت سمیت تمام سخت سزائیں دیگر ملزمان کی طرح دی جاسکیں گی۔

ادھر آج قومی اسمبلی میں میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی ایکٹ میں ترمیم کا بل بھی منظور کر لیا ہے۔ اس بل کا مقصد اس سکیورٹی فورس کو ایک قومی اور بین الاقوامی سطح پر دنیا کی دیگر ایجنسیوں کے ہم پلہ بنانا ہے۔

اب اس کا نام پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی ہوگا اور اس کی حیثیت قانون نافذ کرنے والے ادارے کی ہوگی۔ امریکہ اور بھارت سمیت پہلے ہی اس طرح کی ایجنسیاں کام کر رہی ہیں۔ اس کی بنیادی ذمہ داری سمندری حدود کی نگرانی کرنا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔