سوات: ’عدالتوں سے سزائیں کم، دورانِ حراست ہلاکتیں زیادہ‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 دسمبر 2012 ,‭ 02:43 GMT 07:43 PST

پاکستان کی وادئ سوات میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں طالبان کی بےدخلی کو تین سال ہوچکے ہیں لیکن یہاں حکومت اور شدت پسندوں کے درمیان ایک جنگ آج بھی جاری ہے۔

یہ جنگ ان افراد کو سزا دلوانے کی ہے جن پر دہشتگردی میں ملوث ہونے یا دہشتگردوں کی معاونت کے الزامات ہیں۔عام خیال ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی نہ آنے کی ایک وجہ ان میں ملوث افراد کو سزائیں نہ ملنا بھی ہے۔

سزا دلوانے کی ’جنگ‘

سوات میں دہشت گردی کے مرتکب درجنوں افراد کو جہاں عدالتوں نے ثبوت کی عدم دستیابی کی وجہ سے رہا کیا ہے وہیں ایسے زیرِ حراست افراد بھی ہیں جن کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کے لیے بھی استغاثہ کے پاس کافی ثبوت موجود نہیں۔

بی بی سی اردو کو ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق سوات میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں دو ہزار سات سے جون دو ہزار بارہ تک جن مقدمات کی کارروائی مکمل کی جا سکی ان میں سزا دینے کی شرح پانچ فیصد سے بھی کم ہے۔

حاصل شدہ معلومات کے مطابق سوات میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دو ہزار سات سے جون دو ہزار بارہ تک کل نو سو چودہ مقدمات رجسٹرڈ ہوئے تھے جن میں مجموعی طور صرف چھ مقدمات میں عدالت کی طرف سے ملزمان کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔

ملاکنڈ ڈویژن میں انسدادِ دہشتگردی کی دوسری عدالتوں سے بھی مقدمات میں ملزمان کو سزائیں دینے کی شرح بہت کم رہی ہے۔

ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کے شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ دہشت گردی کے اکثر مقدمات میں ملزمان کی رہائی کی وجہ گواہوں اور دوسرے ثبوتوں کی عدم موجودگی ہے۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ایسے مقدمات بھی ہیں جن کی رپورٹیں تھانوں میں ایک سال یا اس سے زیادہ عرصہ کے بعد درج کرائی گئیں اس لیے ان ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں جرم ثابت کرنا بہت مشکل ہے۔

سرکاری اہلکار نے مزید بتایا کہ دہشت گردی کے دوران سوات میں جو افراد قتل یا بم دھماکوں میں ہلاک ہوئے ان کی لاشوں کے پوسٹ مارٹم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔

"بعض معاملات میں ملزمان کے خلاف گواہی تو دور کی بات واقعے کی تصدیق کے لیے عدالت میں گواہی کے لیے بندہ نہیں ملتا۔ اس لیے کہ لوگ عدالتوں میں طالبان کے ساتھیوں کے خلاف گواہی دینے سے ڈرتے ہیں"

محمد یار ملیزئی ایڈووکیٹ

’ظاہر ہے ایسے مقدمات میں عدالتوں سے ملزمان کو سزا دلوانا ناممکن ہوتاہے۔ سرکاری استغاثہ کی جانب سے دہشت گردی کے بعض واقعات کے مقدمات عدم ثبوت کی وجہ سے عدالت میں پیش ہی نہیں کیے جاتے اور اسی وجہ سے طالبان کے جو مبینہ ساتھی اور حمایتی پکڑے گئے ہیں ان کو عدالتوں سے رہائی ملتی ہے‘۔

ایک اور سرکاری اہلکار نے بتایا کہ دو ہزار گیارہ میں حکومت نے ایکشن (این ایڈ آف سول پاور) ریگولیشن متعارف کروایا تھا لیکن انتظامی مسائل کی وجہ سے اس قانون پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ اس قانون کے تحت دہشت گردی کے کسی ملزم کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے سزا دلوانے کے لیے سکیورٹی فورس کے ایک اہلکار کی گواہی بھی کافی قرار دی گئی تھی۔

سوات میں وکالت کے پیشے سے وابستہ صابر شاہ کا کہنا ہے کہ ایکشن (این ایڈ آف سول پاور) ریگولیشن شروع سے متنازع ہونے کی وجہ سے اس کے تحت کسی ملزم پر مقدمہ نہیں چلایا گیا اور اسے غیر آئینی اور غیر شرعی ہونے کی بنیاد پر ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے اور جب تک اس کے حوالے سے کوئی عدالتی فیصلہ نہیں آتا اس پر عمل درآمد کرنا مشکل ہے۔

ایک اور مقامی وکیل محمد یار ملیزئی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے اکثر مقدمات میں بالواسطہ اور بلاواسطہ ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ملزمان کو عدالتوں کی طرف سے رہائی ملتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’دنیا بھر میں یہ انصاف کا بنیادی اصول ہے کہ بغیر ثبوت کے کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی اور یہاں پر بھی عدالتوں کے پاس بھی کوئی اختیار نہیں کہ وہ بغیر گواہی اور ثبوت کے کسی کو سزا دیں‘۔

ایکشن (این ایڈ آف سول پاور) ریگولیشن

دو ہزار گیارہ میں حکومت نے ایکشن (این ایڈ آف سول پاور) ریگولیشن متعارف کروایا تھا لیکن انتظامی مسائل کی وجہ سے اس قانون پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ اس قانون کے تحت دہشت گردی کے کسی ملزم کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے سزا دلوانے کے لیے سکیورٹی فورس کے ایک اہلکار کی گواہی بھی کافی قرار دی گئی تھی۔

محمد یار ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ عدم ثبوت کی بنیادی وجہ تخریبی کارروائی کا ایسے حالات میں واقع ہونا ہے جہاں ملزمان کی پہچان کرنا مشکل تھا اور ’بعض معاملات میں ملزمان کے خلاف گواہی تو دور کی بات واقعے کی تصدیق کے لیے عدالت میں گواہی کے لیے بندہ نہیں ملتا۔ اس لیے کہ لوگ عدالتوں میں طالبان کے ساتھیوں کے خلاف گواہی دینے سے ڈرتے ہیں‘۔

محمد یار ایڈووکیٹ نے کہا کہ اگر حکومت چاہتی ہے کہ دہشت گردی کے مقدمات میں ملزمان کو سزا ہو تو سرکاری تحقیقاتی اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا اور انہیں یہ اہلیت دینی ہوگی کہ وہ سائنسی بنیادوں پر تحقیق کر سکیں اور بالواسطہ ثبوت کی عدم موجودگی میں بلاواسطہ ثبوت اکٹھے کر کے عدالت میں پیش کریں۔

زیرِ حراست ہلاکتیں

اسی قانونی بحرانی کیفیت میں ایک دوسرا مسئلہ سکیورٹی فورسز کے زیرِ حراست افراد کی ہلاکتوں کا ہے۔

اس بابت سرکاری سطح پر کوئی ٹھوس اعدادوشمار تو موجود نہیں لیکن انتہائی محتاط اندازوں اور اخباری اطلاعات کے مطابق گزشتہ پونے دو برس میں ایسے واقعات کی تعداد ایک سو بیس سے زائد ہے۔

سوات میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے نمائندے شیر خان کا کہنا ہے کہ ’سوات میں فوجی آپریشن کے دوران تین ہزار سے زائد افراد گرفتار ہوئے۔ ان میں سے کچھ رہا ہوگئے، کچھ کو سزا ہوئی لیکن بہت سے حراست کے دوران ہلاک ہوگئے‘۔

ان کے مطابق ہلاک ہونے والے ان افراد کی حتمی تعداد جاننا بہت مشکل ہے کیونکہ آپریشن کے دوران ہونے والے گرفتاریوں اور ہلاکتوں کی تعداد کا ریکارڈ موجود نہیں اور فوج یہ معلومات کسی دوسری ایجنسی کو نہیں دیتی‘۔

پاکستانی فوج کے مطابق دوران حراست بیس سے تیس قیدیوں کی اموات مختلف بیماریوں کے باعث ہوئی ہیں

قیدیوں کے اموات کے حوالے سے جب سوات میں آئی ایس پی آر کے ترجمان کرنل عارف سے بات ہوئی تو انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دوران حراست بیس سے تیس کے درمیان قیدیوں کی اموات مختلف بیماریوں کے باعث ہوئی ہیں۔

کرنل عارف نے بتایا کہ سنہ دو ہزار آٹھ سےگرفتار شدت پسندوں کی حراست کو اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت قانونی قرار دیا گیا اور انہیں وہ تمام سہولیات دی گئی ہیں جو کہ دیگر جیلوں میں عام قیدیوں کو حاصل ہیں تاہم زیرِحراست قیدیوں سے ملنے کی اجازت کسی کو نہیں ہوتی۔

پشاور ہائی کورٹ نے بھی اس سال ستمبر میں دوران حراست ہلاکتوں کا معاملہ اٹھایا تھا جس کے بعد قومی اور سوات کے مقامی اخبارات میں ان ہلاکتوں کی خبریں آنا کم ہوگئی ہیں۔ گرفتار شدت پسندوں کو عدالتوں میں پیشی کے حوالے سےانچارج آپریشن راہ راست کے میجر جنرل غلام قمر نے بتایا کہ ان کی کاغذی کارروائی مکمل ہے اور انہیں بہت جلد عدالتوں میں پیش کیا جائے گا۔

طالبان کے ہاتھوں ہلاکتیں

وادی سوات میں آپریشن کے بعد متعدد علاقوں میں طالبان کی گرفت کمزور ہوئی ہے لیکن ان کا اثر و رسوخ اب بھی قائم ہے۔ طالبان کی جانب سے بھی حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں اور اپنی عدالتیں، اپنا قانون رکھنے کے علاوہ طالبان بغیر کسی شنوائی کے مخالفین کو ہلاک کرنے کے بھی مرتکب ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ طالبان کی جانب سے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو یرغمال بنانے کے بعد ہلاک کرنے اور بعد میں ان کی لاشوں کی بےحرمتی کرنے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

طالبان نے رواں سال بھی کئی ایسی ویڈیوز جاری کی جن میں ہلاک کیے جانے والے فوجیوں کے محض سر دکھائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ طالبان کی جانب سے ارادی یا غیر ارادی طور پر سویلین مقامات پر خودکش حملوں میں بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک اور زخمی بھی ہوئے ہیں۔

’جرم ثابت کرنا مشکل ہے‘

’گرفتار شدہ شدت پسندوں کی عدالتوں سے رہائی پر عوامی تشویش بالکل بجا ہے‘

ملاکنڈ ڈویژن میں پاکستانی فوج کے کمانڈر میجر جنرل غلام قمر نے کہا ہے کہ موجودہ قوانین میں تبدیلی لائے بغیر سوات میں فوجی آپریشن کے دوران گرفتار کیے جانے والے شدت پسندوں کے خلاف عدالتوں میں جرم ثابت کرنا بہت مشکل ہے۔

وادی سوات کے ضلع خوازہ خیلہ میں اپنے دفتر میں بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آج تک جتنے بھی انسداد دہشت گردی کے قوانین بنے ہیں، ان میں بہت سی خامیاں ہیں۔

’ان قوانین میں بہت سی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے کیونکہ جس طریقے سے دہشت گردی کے خلاف (سوات میں) یہ آپریشنز ہوئے، ان میں تمام اس طریقے سے ثبوت فراہم نہیں کیے جا سکتے اور نہ ہی ان قوانین پر عمل کیا جا سکتا ہے جو ابھی ہیں‘۔

میجر جنرل غلام قمر کا کہنا تھا کہ سوات میں آپریشن کے دوران گرفتار شدہ شدت پسندوں کی عدالتوں سے رہائی پر عوامی تشویش بالکل بجا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس صورتحال سے کسی حد تک نمٹنے کے لیے ایک عارضی قانون لایا گیا ہے جس کے ذریعےگرفتار شدت پسندوں کو حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مقدمات کے لیے مزید قانونی تبدیلیاں بھی لائی جا رہی ہیں۔

اس سوال پر کہ سوات آپریشن کے دوران گرفتار کیے گئے شدت پسندوں کے خلاف عدالتوں میں جرم ثابت کیوں نہیں ہو رہے، جنرل قمر نے کہا کہ ’ہماری حتی الوسع یہ کوشش ہوتی ہے کہ عدالت کے سامنے ملزم کو تمام شواہد اور ثبوتوں کے ساتھ پیش کیا جائے۔ لیکن اس کے بعد عدالت کا کام ہوتا ہے، یہ اس کی صوابدید ہوتی ہے۔ جو عدالت حکم دے گی وہ سب کے لیے ماننا لازم ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ گواہوں کی عدم دستیابی کے باعث جو شدت پسند رہا ہو رہے ہیں ان کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ ’قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ مقامی عمائدین بھی ان افراد پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اس لیے ان کی طرف سے شدت پسندی میں دوبارہ ملوث ہونے کا امکان نہیں ہے‘۔

’عدالتیں نرمی برتتی ہیں‘

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیرِ اطلاعات میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث بیشتر افراد کو سزائیں نہ ملنے کی وجوہات میں عدالتوں کا نرم رویہ اور حکومت کی جانب سے قانون سازی میں ناکامی ہے۔

پشاور میں بی بی سی اردو سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی میں ملوث افراد کو سزا نہ ملنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کے واقعات میں ملوث بیشتر خودکش حملہ آور بچے ہوتے ہیں اور اب اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچے اگر گرفتار بھی کر لیے جائیں تو ان کے ساتھ بچوں کی طرح کا سلوک کرنا پڑتا ہے‘۔

ان کا موقف تھا کہ یہ بچے نہ صرف عدالتوں کی نرمی سے بلکہ انسانی حقوق کے تناظر میں اور حکومت کی جانب سے قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے سزا سے بچ جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ عدالت سے درخواست کرتے ہیں کہ اگر کوئی خودکش جیکٹ کے ساتھ کسی کیمرے کے سامنےگرفتار ہو جاتا ہے تو اسے پھانسی کی سزا دی جائے اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو کیونکہ ملزم قتل کا ارادہ کر چکا ہوتا ہے تو اسے کم سے کم عمر قید کی سزا تو دی جا سکتی ہے۔

یاد رہے چند ہفتے پہلے یہاں پشاور میں پولیس نے ایک خود کش حملہ آور کو اس کے ساتھی کے ہمراہ گرفتار کر لیا تھا اور بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکاروں نے حملہ آور کی بارود سے بھری جیکٹ اتار کر اسے ناکارہ کر دیا تھا۔ یہ تمام مناظر یہاں نجی چینلز پر براہ راست دکھائے گئے تھے۔

میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث افراد کو سزا دے کر اس طرح کے مزید واقعات سے بچا جا سکتا ہے اور اس سے دہشت گردوں کے ارادے کمزور ہوں گے۔

صوبائی وزیر اطلاعات کے مطابق سنہ دو ہزار نو سے اب تک دہشت گردوں کے حملوں میں کمی واقع ہوئی ہے اور اب تک سکیورٹی اہلکاروں نے چار سو پچھہتر حملے پسپا کیے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ پولیس کو مزید فعال کر دیا گیا ہے اور اب خیبر پختونخواہ حکومت کو فوج یا ایف سی کو طلب کرنے کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ اس صوبے میں پولیس ایک سیمی فوج بن چکی ہے۔

خیال رہے کہ حکومتی دعوؤں کے باوجود خیبر پختونخواہ کے مختلف شہروں میں پولیس پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور دو ماہ میں دو سپرنٹنڈنٹ پولیس افسران سمیت متعدد پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔


250 مقدمات،صرف 29 کا فیصلہ

پاکستان کے چاروں صوبوں میں شدت پسندی اور بم دھماکوں سے متعلق گزشتہ تین برس میں درج کیے گئے ڈھائی سو سے زائد مقدمات میں سے صرف اُنتیس مقدمات کا فیصلہ ُسنایا جا سکا ہے جبکہ باقی ماندہ مقدمات انسداد دہشت گردی اور دیگر عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

جن مقدمات کا فیصلہ سُنایا گیا ہے اُس میں تیس کو خودکش حملہ آوروں کو سہولت فراہم کرنے اور بم تیار کرنے میں سزا دی گئی جبکہ گرفتار ہونے والے افراد کی بڑی تعداد کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کرد یا گیا ہے۔

ملک کے چاروں صوبوں کی پراسیکیوشن برانچ اور پولیس ذرائع سے حاصل کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق گُزشتہ تین برس کے دوران شدت پسندی، خودکش حملوں اور بم دھماکوں کے سب سے زیادہ مقدمات صوبہ خیبر پختونخوا میں درج کیے گئے جن کی تعداد ایک سو چار ہے جبکہ بلوچستان میں پچاسی، صوبہ پنجاب میں اڑتالیس اور صوبہ سندھ میں تئیس مقدمات درج ہوئے۔

پنجاب

آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں تین برس میں خودکش اور بم حملوں سے متعلق اڑتالیس مقدمات میں سے چھ مقدمات کے تیرہ ملزمان پر جُرم ثابت ہونے پر اُنہیں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے سزائیں سُنائی ہیں، بائیس مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ بیس مقدمات کی تفتیش ابھی جاری ہے۔

پنجاب میں تین برس میں اڑتالیس مقدمات میں سے چھ میں تیرہ ملزمان پر جُرم ثابت ہونے پر اُنہیں سزائیں سُنائی گئیں

انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج ہونے والے مقدمات کا فیصلہ ایک ماہ کے اندر اندر ہونا ہوتا ہے لیکن مقررہ مدت تک پولیس کی طرف سے تفتیش نامکمل ہونے اور استغاثہ کی طرف سے شواہد پیش نہ کیے جانا ان مقدمات کو وقت پر نہ نمٹائے جانے کی بڑی وجوہات ہیں۔

یاد ہے کہ پنجاب میں جی ایچ کیو، واہ آرڈیننس فیکٹری، پاکستانی فوج کے سرجن جنرل اور کامرہ میں فضائیہ کی بس پر ہونے والے خودکش حملوں کے مقدمات میں گرفتار ہونے والے متعدد افراد رہا ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ اسلام آباد میں فرنٹیئر کانسٹیبلری، سپیشل برانچ اور اقوام متحدہ کے خوراک کے ادارے کے دفتر کے باہر ہونے والے حملوں کے مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد بھی عدم ثبوت کی بنا پر رہائی پا چکے ہیں۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نےگورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں مجرم ممتاز قادری کو موت کی سزا سُنائی ہے جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمل روک دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس کے خلاف حکومت کی طرف سے کوئی اپیل بھی دائر نہیں کی گئی۔

خیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا میں درج ہونے والے مقدمات میں سے اکثریت سکیورٹی فورسز پر حملے کی ہے جن کی تعداد تیس ہے جبکہ سڑک کے کنارے نصب بم دھماکوں کے پندرہ مقدمات درج ہیں۔اس کے علاوہ باقی مقدمات میں پولیس اہلکاروں اور عوام کو شدت پسندی کا نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان میں گزشتہ تین برس میں شدت پسندی کے ڈھائی سو سے زائد واقعات پیش آئے

صوبائی پراسیکیوشن برانچ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ان مقدمات میں پولیس نے تین سو کے قریب افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں سے اکثریت عدم ثبوت کی بنا پر بری ہو چکی ہے جبکہ ان مقدمات میں سات افراد پر جُرم ثابت ہونے پر دو کو عمر قید اور بقیہ کو بالترتیب پانچ سال اور سات سال قید کی سزا سُنائی گئی ہے۔

اہلکار کے بقول ان مقدمات میں ساٹھ سے زائد افراد اب بھی صوبے کی مختلف جیلوں میں ہیں جن کے خلاف مقدمات کی سماعت متعلقہ عدالتوں میں ہو رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق صوبے میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کے الزام میں گرفتار ہونے والوں کی ایک بڑی تعداد وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کی انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کے پاس بھی قید ہے۔

بلوچستان

صوبہ بلوچستان میں گُزشتہ تین سال کے دوران پچاسی سے زائد مقدمات انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے۔ ان میں سے زیادہ مقدمات پولیس اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کے علاوہ ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد اور ایران جانے والے زائرین کو نشانہ بنائے جانے کے تھے۔

ایسے مقدمات میں سب سے زیادہ رواں سال درج کیے گئے ہیں جن کی تعداد پینتیس ہے جبکہ پولیس نےان مقدمات میں پچاس سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے۔

بلوچستان میں ہی فرنٹیئر کور سے تعلق رکھنے والے پانچ اہلکاروں کو مئی دو ہزار گیارہ میں ایک خاتون سمیت چار نہتے افراد کو گولی مارنے پر انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے عمرقید کی سزا سُنائی گئی ہے۔ ان اہلکاروں نے اس فیصلے کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔

سندھ

صوبہ خیبر پختونخوا سب سے زیادہ حملوں کا نشانہ بنا

صوبہ سندھ میں بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے تئیس مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد کی تعداد ایک سو تیس کے قریب ہے۔ ان مقدمات میں سے تین مقدمات کا فیصلہ سُنایا گیا ہے جس میں ایک شخص کو عمر قید کی سزا سُنائی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف کالعدم تنظیموں کی طرف سے متعدد بم دھماکوں اور خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد قانون نافد کرنے والے ادارے ان مقدمات کی تفتیش پر اُتنی توجہ نہیں دیتے جتنی مقدمے کو اپنے انجام تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے۔

یار ہے کہ حکومت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کو موثر بنانے اور دہشت گردی کے مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا ہے۔اس بل میں قانون نافد کرنے والے اداروں کو مزید اختیارات دینے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

لواحقین کا مظاہرہ: تصاویر

خیبر پختوا نخوا کے ضلع سوات میں سنہ دو ہزار نو میں فوجی آپریشن کے بعد لاپتہ اور زیر حراست افراد کی خواتین رشتہ داروں نے حقوقِ انسانی کے عالمی دن کےموقع پر اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ان خواتین کا مطالبہ ہے کہ ریاست کم سے کم انہیں ان کے پیاروں کی خیروعافیت سے متعلق معلومات دے۔ ملاکنڈ ڈویژن سے آنے والی یہ بھی نہیں جانتیں کہ ان کے رشتہ دار زندہ بھی ہیں یا نہیں۔

زیرِ حراست ہلاکتیں

سکیورٹی فورسز کی زیرِ حراست قیدیوں کی ہلاکتیں (اخباری ذرائع)

2012

1۔ بارہ ستمبر: احمد زیب ولد عزیز الرحمان سکنے امام ڈھیری(دی نیوز)

2۔ بارہ ستمبر: گل یار ولد شاہ گل سکنہ اشار بنڑ، چار باغ(دی نیوز)

3۔ بارہ ستمبر: فضل محمد ولد مذوب ملا سکنہ بازخیلہ مٹہ (زما سوات ڈاٹ کام)

4۔ بارہ ستمبر: ودود ولد فضل معبود سکنہ دولت خیال قمبر (زما سوات ڈاٹ کام)

5۔ گیارہ ستمبر: حیدر علی سکنہ گلی باغ، خوازہ خیلہ (دی نیوز)

6۔ پانچ ستمبر: امین الحق سکنہ اشار بنڑ

7۔ چار ستمبر: آذادے ولد فقیرے سکنہ ڈیران پٹے، مٹہ

8۔ چار ستمبر: گل ذادہ ولد امیر زادہ سکنہ دمغار کانجو

9۔ یکم ستمبر: محمد زمین ولد خان ذادہ سکنہ مالم جبہ

10۔ تیس اگست: سید عمر شاہ ولد قندہار میاں سکنہ یخ تنگے

11۔ تیس اگست: حضرت سید ولد سید عمر سکنہ منگلتان، چارباغ

12۔ تیس اگست: ابراہیم ولد شیر رحمان سکنہ اشار بنڑ

13۔ تیس اگست: سرفراز ولد کٹورے، کوزہ بانڈی

14۔ انتیس اگست: الیاس ولد دلبر سکنہ بنجوٹ

15۔ انتیس اگست: عرفان ولد دوست محمد سکنہ چار باغ

16۔ ستائیس اگست: محمد حنیف عرف خاپیرے ولد سید محمد، چار باغ

17۔ ستائیس اگست: نیک زادہ ولد غلام دوست منگتان، چار باغ

18۔ چھبیس اگست: عبدالرحمان (دل کا دورہ پڑنے سے): سوات نیوز ڈاٹ کام

19۔ سترہ اگست: صاحب زادہ ولد احمد خان شموزئی

20۔ عبداللہ ولد عبدالشکور، کوزہ بانڈی

21۔ چھ اگست: برکت علی ولد احمد جان سکنہ میر

22۔ چار اگست: محمد الیاس ولد دلبر خان (دل کا دورہ پڑنے سے): دی نیوز

23۔ تین اگست: افضل خان ولد شجاع

24۔ بارہ جولائی: ارشاد ولد شیرین

25۔ انتیس جون: رحمان علی ولد عبدالمالک سکنہ چار باغ

26۔ انتیس جون: زورطلب ولد عبالمالک سکنہ چار باغ

27۔ چودہ اپریل: عمرزادہ ولد انذرتنگے سکنہ منگلور

28۔ اختر علی ولد ملوک سکنہ گاؤں عالم گنج، چار باغ

29۔ گیارہ جنوری: عزیز ولد زور محمد سکنہ چار باغ

2011

29۔ تیس دسمبر: بخت روان سکنہ قمبر

31۔ اختر علی ولد عالمگیر سکنہ گل کدہ

32۔ سید علی شاہ ولد قندہار میاں سکنہ یخ تنگے

33۔ اختر علی ولد ملوک

34۔نظیر الحق سکنہ خواجہ آباد

35۔دوست محمد سکنہ پانڑ مینگورہ

سرکاری ذرائع

1۔ خان زادہ ولد عبدلمالک سکنہ ڈیران پٹے مٹہ

2۔ حیات اسمان ولد دواخان سکہ تختہ بند رحیم آباد

3۔ حسین شاہ سکنہ تلیگرام کبل

4۔ مظفر حسین ولد حنیف اللہ سکنہ سعید آباد سالنڈہ

5۔ علی اکبر ولد فضل سبحان سکنہ خیرآباد گالوچ کبل

6۔ اکبر خان ولد ودود سکنہ کبل سوات

7۔ حبیب اللہ جان ولد محمد جان سکنہ کبل

8۔ گل اکبر ولد لائبر سکنہ فوڈ پٹے سیر تلیگرام

9۔ محمد زادہ ولد خان زادہ سکنہ تلیگرام

10۔ دیر عالم ولد نمروز سکنہ ڈومل گے مٹہ

11۔ عبدالرحمان ولد بونیرے سکنہ چمتلئی خوازہ خیلہ

12۔ صالح الرحمان ولد شمس العمر سکنہ خوازہ خیلہ

13۔ فضل وہاب سکنہ خوازہ خیلہ

14۔ فقیر جان ولد میاں جان سکنہ سر بانڈہ، مٹہ

15۔ مہابت خان ولد منجھے سکنہ چار باغ

16۔ گل ولد زرمین خان سکنہ کلائی پورن

17۔ گل بی ولد سر زمین سکنہ ڈیران پٹے مٹہ

18۔ شمس الدین ولد یوسف سکنہ دیولئ کبل

19۔ فضل محمد ولد چمن خان سکنہ اشار بنٹر چار خان

20۔ اسد اللہ ولد برال خان سکنہ اشار بنٹر چار خان

21۔ فضل محمد ولد مزروپ ہلال سکنہ باز خیلہ مٹہ

22۔ نثار ولد روان سکنہ دولت خیل قمبر

23۔ ددود ولد فضل محمود سکنہ دولت خیل قمبر

24۔ گلیار ولد شاہ گل عمر سکنہ اشار بنٹر چار خان

25۔ احمد زیب ولد عزیز الرحمن سکنہ امام ڈھیری

26۔ حیدر علی ولد محمد درویش سکنہ گلی باغ

27۔ محمد روم ولد سید معرین سکنہ گٹ منگلور

28۔ فضل وہاب ولد بونیرے سکنہ اشار بنٹر

29۔ امین الحق ولد شیر بہادر سکنہ اشار بنٹر

30۔ آذاد ولد فقیر سکنہ ڈیران پٹے مٹہ

31۔ محمد زمین ولد خان ذادہ سکنہ کوٹ ملم جبہ

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔