’عدالتوں سے سزائیں کم، دورانِ حراست ہلاکتیں زیادہ‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 دسمبر 2012 ,‭ 09:22 GMT 14:22 PST

پاکستان کی وادئ سوات میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں طالبان کی بےدخلی کو تین سال ہو چکے ہیں لیکن یہاں حکومت اور شدت پسندوں کے درمیان ایک جنگ آج بھی جاری ہے۔

یہ جنگ ان افراد کو سزا دلوانے کی ہے جن پر دہشتگردی میں ملوث ہونے یا دہشتگردوں کی معاونت کے الزامات ہیں۔عام خیال ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی نہ آنے کی ایک وجہ ان میں ملوث افراد کو سزائیں نہ ملنا بھی ہے۔

سوات میں دہشت گردی کے مرتکب درجنوں افراد کو جہاں عدالتوں نے ثبوت کی عدم دستیابی کی وجہ سے رہا کیا ہے وہیں ایسے زیرِ حراست افراد بھی ہیں جن کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کے لیے بھی استغاثہ کے پاس کافی ثبوت موجود نہیں۔

بی بی سی اردو کو ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق سوات میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں دو ہزار سات سے جون دو ہزار بارہ تک جن مقدمات کی کارروائی مکمل کی جا سکی ان میں سزا دینے کی شرح پانچ فیصد سے بھی کم ہے۔

حاصل شدہ معلومات کے مطابق سوات میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دو ہزار سات سے جون دو ہزار بارہ تک کل نو سو چودہ مقدمات رجسٹرڈ ہوئے تھے جن میں مجموعی طور صرف چھ مقدمات میں عدالت کی طرف سے ملزمان کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔

ملاکنڈ ڈویژن میں انسدادِ دہشتگردی کی دوسری عدالتوں سے بھی مقدمات میں ملزمان کو سزائیں دینے کی شرح بہت کم رہی ہے۔

ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کے شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ دہشت گردی کے اکثر مقدمات میں ملزمان کی رہائی کی وجہ گواہوں اور دوسرے ثبوتوں کی عدم موجودگی ہے۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ایسے مقدمات بھی ہیں جن کی رپورٹیں تھانوں میں ایک سال یا اس سے زیادہ عرصہ کے بعد درج کرائی گئیں اس لیے ان ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں جرم ثابت کرنا بہت مشکل ہے۔

سرکاری اہلکار نے مزید بتایا کہ دہشت گردی کے دوران سوات میں جو افراد قتل یا بم دھماکوں میں ہلاک ہوئے ان کی لاشوں کے پوسٹ مارٹم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔

"بعض معاملات میں ملزمان کے خلاف گواہی تو دور کی بات واقعے کی تصدیق کے لیے عدالت میں گواہی کے لیے بندہ نہیں ملتا۔ اس لیے کہ لوگ عدالتوں میں طالبان کے ساتھیوں کے خلاف گواہی دینے سے ڈرتے ہیں"

محمد یار ملیزئی ایڈووکیٹ

’ظاہر ہے ایسے مقدمات میں عدالتوں سے ملزمان کو سزا دلوانا ناممکن ہوتاہے۔ سرکاری استغاثہ کی جانب سے دہشت گردی کے بعض واقعات کے مقدمات عدم ثبوت کی وجہ سے عدالت میں پیش ہی نہیں کیے جاتے اور اسی وجہ سے طالبان کے جو مبینہ ساتھی اور حمایتی پکڑے گئے ہیں ان کو عدالتوں سے رہائی ملتی ہے‘۔

ایک اور سرکاری اہلکار نے بتایا کہ دو ہزار گیارہ میں حکومت نے ایکشن (این ایڈ آف سول پاور) ریگولیشن متعارف کروایا تھا لیکن انتظامی مسائل کی وجہ سے اس قانون پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ اس قانون کے تحت دہشت گردی کے کسی ملزم کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے سزا دلوانے کے لیے سکیورٹی فورس کے ایک اہلکار کی گواہی بھی کافی قرار دی گئی تھی۔

سوات میں وکالت کے پیشے سے وابستہ صابر شاہ کا کہنا ہے کہ ایکشن (این ایڈ آف سول پاور) ریگولیشن شروع سے متنازع ہونے کی وجہ سے اس کے تحت کسی ملزم پر مقدمہ نہیں چلایا گیا اور اسے غیر آئینی اور غیر شرعی ہونے کی بنیاد پر ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے اور جب تک اس کے حوالے سے کوئی عدالتی فیصلہ نہیں آتا اس پر عمل درآمد کرنا مشکل ہے۔

ایک اور مقامی وکیل محمد یار ملیزئی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے اکثر مقدمات میں بالواسطہ اور بلاواسطہ ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ملزمان کو عدالتوں کی طرف سے رہائی ملتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’دنیا بھر میں یہ انصاف کا بنیادی اصول ہے کہ بغیر ثبوت کے کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی اور یہاں پر بھی عدالتوں کے پاس بھی کوئی اختیار نہیں کہ وہ بغیر گواہی اور ثبوت کے کسی کو سزا دیں‘۔

محمد یار ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ عدم ثبوت کی بنیادی وجہ تخریبی کارروائی کا ایسے حالات میں واقع ہونا ہے جہاں ملزمان کی پہچان کرنا مشکل تھا اور ’بعض معاملات میں ملزمان کے خلاف گواہی تو دور کی بات واقعے کی تصدیق کے لیے عدالت میں گواہی کے لیے بندہ نہیں ملتا۔ اس لیے کہ لوگ عدالتوں میں طالبان کے ساتھیوں کے خلاف گواہی دینے سے ڈرتے ہیں‘۔

محمد یار ایڈووکیٹ نے کہا کہ اگر حکومت چاہتی ہے کہ دہشت گردی کے مقدمات میں ملزمان کو سزا ہو تو سرکاری تحقیقاتی اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا اور انہیں یہ اہلیت دینی ہوگی کہ وہ سائنسی بنیادوں پر تحقیق کر سکیں اور بالواسطہ ثبوت کی عدم موجودگی میں بلاواسطہ ثبوت اکٹھے کر کے عدالت میں پیش کریں۔

زیرِ حراست ہلاکتیں

دہشت گردی کے اکثر مقدمات میں ملزمان کی رہائی کی وجہ گواہوں اور دوسرے ثبوتوں کی عدم موجودگی ہے

اسی قانونی بحرانی کیفیت میں ایک دوسرا مسئلہ سکیورٹی فورسز کے زیرِ حراست افراد کی ہلاکتوں کا ہے۔

اس بابت سرکاری سطح پر کوئی ٹھوس اعدادوشمار تو موجود نہیں لیکن انتہائی محتاط اندازوں اور اخباری اطلاعات کے مطابق گزشتہ پونے دو برس میں ایسے واقعات کی تعداد ایک سو بیس سے زائد ہے۔

سوات میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے نمائندے شیر خان کا کہنا ہے کہ ’سوات میں فوجی آپریشن کے دوران تین ہزار سے زائد افراد گرفتار ہوئے۔ ان میں سے کچھ رہا ہوگئے، کچھ کو سزا ہوئی لیکن بہت سے حراست کے دوران ہلاک ہوگئے‘۔

ان کے مطابق ہلاک ہونے والے ان افراد کی حتمی تعداد جاننا بہت مشکل ہے کیونکہ آپریشن کے دوران ہونے والے گرفتاریوں اور ہلاکتوں کی تعداد کا ریکارڈ موجود نہیں اور فوج یہ معلومات کسی دوسری ایجنسی کو نہیں دیتی‘۔

پاکستانی فوج کے مطابق دوران حراست بیس سے تیس قیدیوں کی اموات مختلف بیماریوں کے باعث ہوئی ہیں

قیدیوں کے اموات کے حوالے سے جب سوات میں آئی ایس پی آر کے ترجمان کرنل عارف سے بات ہوئی تو انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دوران حراست بیس سے تیس کے درمیان قیدیوں کی اموات مختلف بیماریوں کے باعث ہوئی ہیں۔

کرنل عارف نے بتایا کہ سنہ دو ہزار آٹھ سےگرفتار شدت پسندوں کی حراست کو اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت قانونی قرار دیا گیا اور انہیں وہ تمام سہولیات دی گئی ہیں جو کہ دیگر جیلوں میں عام قیدیوں کو حاصل ہیں تاہم زیرِحراست قیدیوں سے ملنے کی اجازت کسی کو نہیں ہوتی۔

ایکشن (این ایڈ آف سول پاور) ریگولیشن

دو ہزار گیارہ میں حکومت نے ایکشن (این ایڈ آف سول پاور) ریگولیشن متعارف کروایا تھا لیکن انتظامی مسائل کی وجہ سے اس قانون پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ اس قانون کے تحت دہشت گردی کے کسی ملزم کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے سزا دلوانے کے لیے سکیورٹی فورس کے ایک اہلکار کی گواہی بھی کافی قرار دی گئی تھی۔

پشاور ہائی کورٹ نے بھی اس سال ستمبر میں دوران حراست ہلاکتوں کا معاملہ اٹھایا تھا جس کے بعد قومی اور سوات کے مقامی اخبارات میں ان ہلاکتوں کی خبریں آنا کم ہوگئی ہیں۔ گرفتار شدت پسندوں کو عدالتوں میں پیشی کے حوالے سےانچارج آپریشن راہ راست کے میجر جنرل غلام قمر نے بتایا کہ ان کی کاغذی کارروائی مکمل ہے اور انہیں بہت جلد عدالتوں میں پیش کیا جائے گا۔

طالبان کے ہاتھوں ہلاکتیں

وادی سوات میں آپریشن کے بعد متعدد علاقوں میں طالبان کی گرفت کمزور ہوئی ہے لیکن ان کا اثر و رسوخ اب بھی قائم ہے۔ طالبان کی جانب سے بھی حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں اور اپنی عدالتیں، اپنا قانون رکھنے کے علاوہ طالبان بغیر کسی شنوائی کے مخالفین کو ہلاک کرنے کے بھی مرتکب ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ طالبان کی جانب سے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو یرغمال بنانے کے بعد ہلاک کرنے اور بعد میں ان کی لاشوں کی بےحرمتی کرنے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

طالبان نے رواں سال بھی کئی ایسی ویڈیوز جاری کی جن میں ہلاک کیے جانے والے فوجیوں کے محض سر دکھائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ طالبان کی جانب سے ارادی یا غیر ارادی طور پر سویلین مقامات پر خودکش حملوں میں بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک اور زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔