’عدالتوں کا مقصد فیصلوں پر عملدرآمد ہے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 دسمبر 2012 ,‭ 17:57 GMT 22:57 PST

صدر زرداری کی ایک ہی وقت میں دو عہدے رکھنے کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست پر مزید سماعت لاہور ہائی کورٹ میں جمعرات کو ہوگی۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا ہے کہ عدالتوں کا مقصد اپنے فیصلوں اور قانون پر عمل درآمد کروانا ہے کسی کو سزا یا نااہل قرار دینا نہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے یہ ریمارکس بدھ کو صدر آصف علی زرداری کے بیک وقت دو عہدے رکھنے کے خلاف دائر توہینِ عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔

لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے وفاقی حکومت کی متفرق درخواست منظور کر لی جس میں یہ استدعا گئی تھی کہ صدر کے دو عہدوں کے معاملے میں وفاق کے وکیل کو صدارتی استثنٰیْ کے بارے میں دلائل دینے کی اجازت دی جائے۔

گزشتہ سماعت کے موقع پر وفاقی حکومت کے وکیل وسیم سجاد نے اپنے دلائل مکمل کرلیے تھے جس کی وجہ اضافی دلائل کے لیے درخواست دینا پڑی۔

لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ کی سربراہی چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کر رہے ہیں جبکہ دیگر ارکان میں جسٹس ناصر سعید ، جسٹس شیخ نجم الحسن ، جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس منصور علی شامل ہیں۔

بدھ کو کارروائی کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے اس نکتہ پر دلائل دیئے کہ صدر مملکت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔

اے کے ڈوگر ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ اگر عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوگا تو اس سے یہ تاثر ابھرے گا کہ ملک میں کوئی عدالت نہیں ہے۔ وکیل کے مطابق عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے سے ملک میں افرتفری پیدا ہوگی۔

اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے آئین کے آرٹیکل تریسٹھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس آرٹیکل کے تحت صدر مملکت کو عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے پر نااہل قرار دیا جاسکتا ہے ۔

بنچ کے رکن جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ آئین کا یہ آرٹیکل ارکان پارلیمان کی نااہلی کے لیے ہے یہ صدر مملکت پر کس طرح لاگو ہوگا؟

اس پر وکیل کا کہنا تھا کہ صدر کے عہدے کی اہلیت اور رکن اسمبلی بننے کی اہلیت ایک جیسی ہے اس لیے نااہلیت کا عمل بھی ایک جیسا ہوگا۔

بنچ کے رکن جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آئین میں صدر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا ایک طریقۂ کار ہے اور اگر پاکستان کی عوام یہ سجھتی ہے کہ صدر مملکت عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں کر رہے تو وہ ان کے مواخذے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔

اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے یہ نکتہ اٹھایا کہ توہینِ عدالت کے قانون کے تحت عدالتی احکامات سے روگردانی کرنے والے کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔

صدر زرداری کی ایک ہی وقت میں دو عہدے رکھنے کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست پر مزید سماعت جمعرات کو ہوگی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔