’پاکستان اپنے اہداف حاصل نہیں کر پائے گا‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 دسمبر 2012 ,‭ 17:50 GMT 22:50 PST

پاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن اور بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنے ’ملینیئم ڈویلپمنٹ گولز‘ یعنی اکیسویں صدی کے آغاز میں مقرر کردہ اہداف حاصل نہیں کر سکے گا۔

بدھ کو اسلام آباد میں جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ چند سالوں میں پاکستان میں زچگی میں ہلاکتوں کی شرح کم ہوئی ہے تاہم یہ ابھی بھی قدرے زیادہ ہے۔

مقررہ اہداف کے حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو سنہ دو ہزار پچیس تک اس شرح کو موجودہ سطح کے نصف تک لانا ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق پانچ سال سے کم عمر کے پینتیس فیصد بچوں کی ہلاکتیں خوراک کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہیں اور دو صوبوں میں بچوں میں خوراک کی کمی کی سطح ہنگامی معیار سے زیادہ ہے۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے پاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن کے نائب چیئرمین ڈاکٹر نعیم الحق کا کہنا تھا کہ رپورٹ کی تحقیق کے مطابق پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی ہلاکتوں کا تیسرا حصہ قابلِ علاج بیماریوں کی وجہ سے ہوتا ہے اور ان میں سے ساٹھ فیصد کا تعلق پانی اور صفائی کے مسائل کی وجہ سے ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بچوں کی تقریباً نصف آبادی کو حفاظتی ٹیکے نہیں لگائے جاتے اور پنجاب کے علاوہ تمام صوبوں میں ٹیکے لگانے کی شرح کم ہوئی ہے۔

سنہ دو ہزار گیارہ تک پاکستان ان چار ممالک میں شامل تھا جہاں ابھی تک پولیو کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

جن بچوں کو سکولوں میں داخل ہونا چاہیے، ان میں سے تقریباً نصف سکول نہیں جاتے اور بچیوں میں یہ شرح بڑھ کر تقریباً پچھہتر فیصد ہے۔

گذشتہ پانچ سالوں میں بچوں کی پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کی شرح بھی گری ہے۔

رپورٹ کے ایک تجزیہ کے مطابق جن ماؤں کی تعلیم اور بچوں کی صحت کا ایک گہرا تعلق ہے اور بچوں کی مائیں جتنی تعلیم یافتہ ہیں، اُن کے بچوں میں خوراک کی کمی اور دیگر مسائل کا امکان اتنا ہی کم ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔