سپریم کورٹ رجسٹرار کو پیشی کیلیے آخری مہلت

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 14 دسمبر 2012 ,‭ 15:12 GMT 20:12 PST

گزشتہ چار برسوں سے رجسٹرار سپریم کورٹ کے بجٹ حسابات کے بارے میں پارلیمان کی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

سپریم کورٹ کے رجسٹرار ایک مرتبہ پھر عدالتِ عظمیٰ کے بجٹ کے حسابات پر جواب دہی کے لیے پاکستان کی قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے ہیں اور اب کمیٹی نے انہیں پیش ہونے کے لیے منگل تک کی حتمی مہلت دی ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین ندیم افضل چن نے جمعہ کو اجلاس کے بعد بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار توہین پارلیمان کر رہے ہیں اور اگر منگل کو وہ پیش نہیں ہوئے تو ان کا وارنٹ جاری کیا جائے گا یا معاملہ پارلیمان کو بھیجیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ سنہ دو ہزار چار تک سپریم کورٹ کے رجسٹرار پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش ہوتے رہے ہیں اور اب یہ عذر پیش کرنا کہ ججوں کے کردار کو زیر بحث نہیں لایا جاسکتا، درست نہیں۔

ندیم افضل چن نے کہا ’میں واضح کرتا ہوں کہ کمیٹی کے اجلاس میں ہم معزز جج صاحبان کا کردار زیر بحث نہیں لانا چاہتے بلکہ سپریم کورٹ کو ملنے والے بجٹ کے درست استعمال کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں‘۔

ندیم افضل چن نے کہا کہ ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس، الیکشن کمیشن، وزارت دفاع، پارلیمان اور دیگر اداروں کا بجٹ بھی ’کنسالیڈیٹیڈ فنڈ‘ سے جاتے ہیں اور جب وہ پارلیمان کو جواب دہ ہیں تو سپریم کورٹ کیوں نہیں؟

"میں واضح کرتا ہوں کہ کمیٹی کے اجلاس میں ہم معزز جج صاحبان کا کردار زیر بحث نہیں لانا چاہتے بلکہ سپریم کورٹ کو ملنے والے بجٹ کے درست استعمال کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں۔"

ندیم افضل چن

’جب پیسے پارلیمان سے لیتے ہیں تو جواب بھی دینا ہوگا۔۔۔ہم نے وزارت قانون اور سپریم کورٹ بار کے صدر یاسین آزاد، جسٹس (ر) طارق محمود اور دیگر وکلا سے مشاورت کی ہے اور ان سب کا کہنا ہے کہ آئین و قانون کے تحت بجٹ کے حساب کتاب کے لیے رجسٹرار کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش ہونا ہے۔۔ تو پھر یہ کہنا کہ فل کورٹ کا فیصلہ ہے کہ پیش نہیں ہونا، نامناسب بات ہے‘۔

جمعرات کو سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ عدالت قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا بہت احترام کرتی ہے تاہم قانون اور آئین کے مطابق سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی ضرورت نہیں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اس معاملے کو کئی فل کورٹ اجلاسوں میں زیرِ بحث لایا گیا اور یہی فیصلہ ہوا کہ آئین و قانون کے تحت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سپریم کورٹ کے اکاؤنٹس کی چھان بین کی قابلیت نہیں رکھتی چنانچہ رجسٹرار کو اس کے سامنے پیش ہونے کی ضرورت نہیں۔

جمعہ کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حکمران پیپلز پارٹی کے نور عالم خان سمیت بعض اراکین نے رجسٹرار کے رویے کو توہین آمیز قرار دیا۔ نور عالم نے کہا کہ ‘افسوس ناک بات ہے کہ سپریم کورٹ قانون کا احترام نہیں کر رہی۔۔ عزت عزت داروں کو دی جاتی ہے رجسٹرار کو پولیس کے ذریعے گرفتار کروا کے کمیٹی کے سامنے پیش کریں‘۔

"گزشتہ چار برسوں سے رجسٹرار سپریم کورٹ کے بجٹ حسابات کے بارے میں پارلیمان کی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوتے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سابق چیئرمین اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے بھی رجسٹرار کے موقف کو غلط قرار دیتے ہوئے انہیں پیش ہونے کے لیے خط لکھے تھے"

اعجاز مہر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

اس تجویز کی مسلم لیگ (ن) نے مخالفت کی اور ان کے ایک رکن ایاز صادق نے کہا کہ ایسا کرنے سے پارلیمان اور عدلیہ میں کشیدگی بڑھ جائے گی لیکن وہ اس تجویز سے متفق تھے کہ معاملہ پارلیمان کو بھیجا جائے۔

پیپلز پارٹی کی رکن یاسمین رحمٰن اور دیگر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار سنہ دو ہزار چار تک پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش ہوتے رہے ہیں اب کیوں نہیں ہوتے۔

ان کے بقول یا تو سپریم کورٹ سنہ دو ہزار چار تک غلط تھی یا اب غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹرار کمیٹی کو جوابدہ ہیں اور کمیٹی کو آئین، قانون اور پارلیمان کی بالادستی پر سمجہوتہ نہیں کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ گزشتہ چار برسوں سے رجسٹرار سپریم کورٹ کے بجٹ حسابات کے بارے میں پارلیمان کی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوتے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سابق چیئرمین اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان بھی رجسٹرار کے موقف کو غلط قرار دیتے ہوئے انہیں پیش ہونے کے لیے خط لکھتے تھے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔