ججز تعیناتی، صدارتی ریفرنس پر فیصلہ محفوظ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 14 دسمبر 2012 ,‭ 07:21 GMT 12:21 PST

یہ ریفرنس اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تقرری کیس میں آئین کی شق 186 کے تحت دائر کیا گیا ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تقرری سے متعلق صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے دائر کیے گئے ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

اس ریفرنس کی سماعت جسٹس خلجی عارف حسین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ کر رہا ہے۔

یہ ریفرنس اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تقرری کیس میں آئین کی شق 186 کے تحت دائر کیا گیا ہے۔

جمعہ کو سماعت میں درخواست گزار ندیم احمد ایڈووکیٹ کے وکیل اکرم شیخ نے دلائل دیے۔

یاد رہے کہ صدر کی طرف سے جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں ججز کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے کی وجہ سے شوکت عزیز صدیقی اور نورالحسن اپنے عہدوں سے الگ ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کے بارے میں انیسویں آئینی ترمیم سپریم کورٹ کے ایک عبوری حکم کی روشنی میں پاکستانی آئین کا حصہ بنی تھی۔

سپریم جوڈیشل کمیشن نو ارکان پر مشتمل ہیں جن میں سپریم کورٹ کے پانچ سنئیر ججز کے علاوہ وزیر قانون ، اٹارنی جنرل، پاکستان بار کونسل کا ایک نمائندہ اور متعقلہ صوبے کی ہائی کورٹ کا چیف جسٹس یا سینئیر جج شامل ہوتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔