بینظیر قتل مقدمے میں مارک سیگل طلب

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 15 دسمبر 2012 ,‭ 13:13 GMT 18:13 PST
بینظیر بھٹو

بینظیر بھٹو کے قتل کے معاملے کی جانچ گذشتہ پانچ برسوں سے جاری ہے۔

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں امریکی شہری مارک سیگل سمیت چھ افراد کو گواہی کے لیے پانچ جنوری کوطلب کیا ہے۔ مارک سیگل کو طلب کرنے کا مطالبہ استغاثہ کے طرف سے کیا گیا ہے۔

اس مقدمے میں استغاثہ کے وکیل چوہدری ذوالفقار کےمطابق سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے سنہ دو ہزار سات میں اُس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف کی طرف سے اُنہیں لکھےگئے دھمکی آمیز ای میلز اور دیگر مواد مارک سیگل کو بھیجی تھیں۔

اس کے علاوہ بینظیر بھٹو کی طرف سے ایک خط کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اگر اُنہیں مار دیا گیا تو اس کی ذمہ داری چار افراد پر ہوگی جس میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف، نائب وزیر اعظم چوہدری پرویز الہی اور انٹیلیجنس بیورو کے سابق سربراہ اعجاز شاہ بھی شامل ہیں۔

عدالت نے اس مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دیا ہوا ہے اور اُن کی جائیداد کی قرقی سے متعلق درخواست پر بھی عدالتی کارروائی جاری ہے۔

اس سے پہلے بھی مارک سیگل اس مقدمے کی تحقیقات کے سلسلے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کو بھی بیان دے چکے ہیں۔

سنیچر کے روز راولپنڈی کے انسداد دہشت گردی کے جج حبیب الرحمن نے اس مقدمے کی کارروائی روالپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم عدالت میں کی۔

"ان چھ گواہان کی گواہی اس مقدمے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں پچپن گواہان کی فہرست عدالت میں پیش کی گئی ہے جس میں سے ابھی تک سترہ گواہوں کی شہادتیں قلمبند کی گئی ہیں جبکہ اس مقدمے کو پانچ سال ہونے کو ہیں"

اس مقدمے کی کارروائی کے بارے میں سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے میں عدالت نے دیگر پانچ افراد کو بھی گواہی کے لیے طلب کیا ہے جس میں ایس ایس پی آپریشن یاسین فاروق، ایس پی اشفاق انور، ڈاکٹر مصدق حیسن اور ریسکیو 1122 کے ڈائریکٹر عبدالرحمن شامل ہیں۔

ڈاکٹر مصدق حسین نے بینظیر بھٹو کا آپریشن کیا تھا جب اُنہیں ستائیس دسمبر سنہ دوہزار سات کو لیاقت باغ روالپنڈی کے باہر ہونے والے خودکش حملے کے بعد شدید زحمی حالت میں راولپنڈی جنرل ہسپتال میں لایا گیا تھا۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ان چھ گواہان کی گواہی اس مقدمے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں پچپن گواہان کی فہرست عدالت میں پیش کی گئی ہے جس میں سے ابھی تک سترہ گواہوں کی شہادتیں قلمبند کی گئی ہیں جبکہ اس مقدمے کو پانچ سال ہونے کو ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی اپنی جوڈیشل پالیسی میں کہا ہے کہ تمام پرانے مقدمات پر روزانہ کی بنیاد پر عدالتی کارروائی کی جائے۔

چوہدری ذوالفقار نے الزام عائد کیا کہ اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزمان اس مقدمے کی کارروائی میں تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس مقدمے میں راولپنڈی پولیس کے سابق سربراہ ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس پی راول ٹاؤن خرم شہزاد کو بھی غفلت مجرمانہ اور ملزموں کی اعانت کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا تاہم بعد میں ہائی کورٹ نے اُنہیں ضمانت پر رہا کر دیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔