کشمیر دو طرفہ نہیں، سہ طرفہ مسئلہ ہے: میر واعظ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 15 دسمبر 2012 ,‭ 15:44 GMT 20:44 PST

میر واعظ عمر فاروق کشمیری رہنماؤں کے وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے علیٰحدگی پسند رہنماؤں کا ایک وفد پاکستان پہنچ گیا ہے۔ اس وفد کی قیادت آل پارٹیز حریت کانفرنس کے اپنے دھڑے کے سربراہ میر واعظ عمرفاروق کر رہے ہیں۔

پاکستان آمد پر لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر فاروق نے کہا کہ کشمیر دو طرفہ نہیں بلکہ سہ فریقی مسئلہ ہے اور جب تک تینوں فریق اس مسئلے کے حل کی کوششوں میں شامل نہ ہوں، تب تک مسئلے کے حل کی امید نہیں کی جاسکتی۔

میر واعظ عمر فاروق بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے علیٰحدگی پسند رہنماؤں کا وفد لے کر ہفتے کی شام کو بھارت سے پاکستان پہنچے ہیں۔

آل پارٹیز حریت کانفرنس کا سات رکنی وفد پاکستان کے حکومتی ارکان کے علاوہ حزبِ مخالف کی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے بارے میں بات چیت کرے گا۔

وفد کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے یہ امید ظاہر کی کہ ان کے پاکستان آنے سے اس عمل کو فروغ ملے گا جس عمل کے ذریعے کشمیر کے مسئلے کا حل نکالا جاسکے۔

میر واعظ عمر فاروق کا کہنا ہے کہ ان کا وفد حکومت کی درخواست پر آیا ہے تاہم وہ حکومت سے باہر جماعتوں کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

وفد کے ارکان میں عبدالغنی بھٹ، بلال غنی لون، میاں محمد اشرف، آغا سید حسن موسوی، محمد مصدق اور مختار احمد شامل ہیں۔

میر واعظ عمر فاروق کے مطابق وہ پاکستانی قیادت سے ملاقات کے دوران یہ جانیں گے کہ پاکستانی قیادت مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے کیسے آگے بڑھنا اور کشمیر قیادت کو کس طرح اس عمل کا حصہ بنانا چاہتی ہے۔

"عالمی سطح پر تنازعات حل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ فلسطین کو اقوامِ متحدہ میں غیر مبصر ریاست کا درجہ ملا ہے۔"

میر واعظ عمر فاروق

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی ملاقاتوں میں یہ معلوم کریں گے کہ کشمیر کے حل کے لیے کیا کاوشیں ہو رہی ہے۔

حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ عالمی سطح پر تنازعات حل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ فلسطین کو اقوامِ متحدہ میں غیر مبصر ریاست کا درجہ ملا ہے۔

میر واعظ نے کہا کہ ’یقیناً ان کا اس بات پر ایمان ہے کہ جموں کشمیر کے عوام کی تحریک بھی پایۂ تکمیل تک پہنچے گی۔‘ حریت کانفرنس کے رہنما نے یہ امید ظاہر کی کہ کشمیری جذبات، احساسات اور منگوں کے مطابق کشمیرکے مسئلے کا حل نکالے گا۔

حریت کانفرنس کے وفد کے سربراہ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اپنے دورۂ پاکستان کے دوران پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی قیادت سے بھی ملاقات کریں۔

حریت کانفرنس کے رہنماؤں کا وفد پندرہ سے بائیس دسمبر تک پاکستان میں قیام کرے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔