پشاور ایئرپورٹ پر راکٹ اور زمینی حملے: چار ہلاک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 15 دسمبر 2012 ,‭ 17:23 GMT 22:23 PST

پشاور شہر گذشتہ کئی برسوں سے شدت پسندی کی زد میں ہے

پشاور ایئرپورٹ پر سنیچر کی شام راکٹوں اور زمینی حملوں میں چار افراد ہلاک اور چالیس سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔اسی ایئرپورٹ پر پاکستانی فضائیہ کا اڈا بھی واقع ہے۔

پشاور کے سپرنٹنڈنٹ پولیس خالد ہمدانی نے ہمارے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تین راکٹ آ کر گرے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ دھماکوں سے ایئرپورٹ کی دیوار منہدم ہو گئی ہے، جب کہ پولیس کی ٹیمیں وہاں پہنچ گئی ہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق ائر پورٹ پر زمینی حملہ کرنے والے پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے جن کی لاشیں ایک دیوار کے ساتھ پڑی ہیں۔

ترجمان کے مطابق شدت پسندوں کی لاشوں کو بم ڈزپوزل سکواڈّ کی مدد سے کلئر کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ علاقے میں سرچ اپریشن جاری ہے

ان کا کہنا تھا کہ ڈیوٹی پر موجود محافظوں کی چوستی کی وجہ سے شدت پسند ائر پورٹ کے اندر داخل نہیں ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت دھماکہ خیز مواد سے بری گاڑی ائرپورٹ کی دیورا سے ٹکرائی گئی جس کی وجہ سے عام شہری زخمے ہوگئے۔

پشاور کے ڈی سی او نے میڈیا سے بات کرتے کہا ہے کہ حملے کے بعد وہاں شدید دو طرفہ فائرنگ کا جو سلسلہ شروع ہو گیا تھا وہ اب رک گیا ہے، اور صورتِ حال کو قابو میں کر لیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ خدشات کے پیشِ نظر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے جس کی وجہ سے حملہ آور ایئرپورٹ کے اندر داخل ہونے میں ناکام رہے۔

ان کے مطابق کچھ راکٹ شہری علاقوں میں گرے جن کی وجہ سے جانی نقصان ہوا ہے۔

دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس سے آس پاس کے کئی مکانات کے شیشے ٹوٹ گئے۔

پاکستان ٹیلی ویژن کی خبر کے مطابق ایئرپورٹ پر آنے والی پروازوں کا شیڈیول متاثر ہوا ہے اور ایئرپورٹ پر اترنے اور اڑنے والی پروازوں کو روک دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ قبائلی علاقوں میں ہونے والے فوجی آپریشنوں میں استعمال ہونے والے گن شپ ہیلی کاپٹر پشاور ایئرپورٹ ہی سے اڑتے ہیں اور یہاں ہیلی کاپٹر تیار رہتے ہیں۔

اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے ۔ تحریک طالبان کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے راکٹوں اور خودکش بمبار کی مدد سے فوجی اثاثوں اور حکومت کو نشانہ بنایا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی طالبان عسکریت پسند ملک کے کئی حصوں میں دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ اسی سال اگست میں کامرہ بیس پر مسلح حملہ کیا گیا تھا جس میں نو عسکریت پسند مارے گئے تھے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی نے وزیر دفاع نوید قمر کے حوالے سے بتایا کہ ایئر پورٹ کو کلئر کر دیا گیا ہے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق ایئر پورٹ کا ٹرمنل بلڈنگ محفوظ ہے۔

حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کو خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

وزیرِاعظم راجہ پرویز اشرف نے خیبر پختون خوا کے وزیرِ اعلیٰ امیر حیدر ہوتی کو فون کر کے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا، اور انھیں وفاقی حکومت کے تعاون کا یقین دلایا۔

صدر آصف علی زرداری نے بھی اس واقعے میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ایئرپورٹ مکمل طور پر محفوظ حالت میں ہے۔

پی ٹی وی نے مزید بتایا ہے کہ پشاور ایئرپورٹ کی طرف جانے والے راستوں کو بند کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کے بعض نجی ٹی وی چینل پر نشر کی جانے والی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دھماکے کے مقام پر لوگ سراسیمگی کی حالت میں ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں اور مسلح پولیس اہلکاروں کے دستے علاقے میں پہنچ گئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔