’پاکستان سے دس سال میں 2500 ملین ڈالر بیرون ملک منتقل‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 دسمبر 2012 ,‭ 01:45 GMT 06:45 PST

پاکستان سے سنہ دو ہزار دس میں 729 ملین ڈالر غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقل کیے گئے

امریکی گروپ گلوبل فنانشل انٹیگریٹی کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک دہائی میں ترقی پذیر ممالک کو جرائم، بدعنوانی اور ٹیکس چوری کے باعث چھ کھرب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

گلوبل فنانشل انٹیگریٹی نےاپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ مختلف ممالک سے غیر قانونی طور پر فنڈز بیرون ملک لے جانے میں اضافہ دیکھنے کو آیا ہے۔

اس فہرست میں چین پہلے نمبر، میکسیکو دوسرے اور ملائیشیا تیسرے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان کا درجہ اس فہرست میں چورانوے ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق پچھلے دس برسوں میں پاکستان سے اوسطاً ڈھائی سو ملین ڈالر سالانہ یعنی ایک دہائی میں کُل ڈھائی ہزار ملین ڈالر غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقل ہوئے ہیں۔

گلوبل فنانشل انٹیگریٹی کےڈائریکٹر ریمنڈ بیکر کا کہنا ہے ’ترقی پذیر ممالک سے بڑی رقم غیر قانونی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں، ٹیکس چوری کے لیے محفوظ ممالک اور ترقی یافتہ ممالک کے بینکوں میں منتقل کی جا رہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اس رقم کو روک کر بیٹھے ہیں جو امیر اور غریب ممالک کی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔‘

ریمنڈ بیکر نے مزید کہا کہ یہ رپورٹ عالمی سربراہان کے لیے ایک عندیہ ہے کہ وہ اس غیر قانونی منتقلی کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔

ایک دہائی میں

2001 صفر

2002 صفر

2003 44 ملین ڈالر

2004 صفر

2005 202 ملین ڈالر

2006 صفر

2007 505 ملین ڈالر

2008 728 ملین ڈالر

2009 298 ملین ڈالر

2010 729 ملین ڈالر

رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار دس میں چین سے 420 بلین ڈالر غیر قانونی طور پر منتقل کیے گئے اور اس اعداد و شمار کے ساتھ چین سرِفہرست ہے۔

رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان سے سنہ دو ہزار دس میں 729 ملین ڈالر غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقل کیے گئے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں پاکستان کے کے قومی احتساب بیورو کے سربراہ فصیح بخاری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بدعنوانی کے باعث پاکستان کو چھ سے سات ارب روپے یومیہ کا نقصان ہو رہا ہے۔

اس سے قبل عالمی تنظیم ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کی تازہ رپورٹ کے مطابق بدعنوانی کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان ایک سو انتالیسویں نمبر پر آگیا ہے۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق انڈیکس کی درجہ بندی میں پاکستان کی گراوٹ ظاہر کرتی ہے کہ یہاں بدعنوانی کے رجحان میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمین سہیل مظفر ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ اٹھائیس تاریخ کو رول آف لا انڈیکس دو ہزار بارہ کی ایک رپورٹ میں پاکستان کو دنیا کے ستانوے ممالک میں سے ساتواں بدعنوان ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔