جمرود میں کار بم دھماکا، بچوں سمیت سولہ ہلاک

آخری وقت اشاعت:  پير 17 دسمبر 2012 ,‭ 07:55 GMT 12:55 PST

دھماکے سے بازار میں موجود کئی گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں کار بم دھماکے میں سولہ افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ دھماکا پیر کی صبح گیارہ بجے تحصیل جمرود کی فوجی مارکیٹ کے سامنے کھڑی ایک کار میں ہوا ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ہلاک شدگان عام شہری ہیں جن میں تین خواتین اور پانچ بچے بھی شامل ہیں۔

دھماکے کے فوری بعد جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور انتظامیہ کے اہلکار کے مطابق لاشوں اور زخمیوں کو ضلعی ہسپتال جمرود اور میڈیکل کمپلیکس حیات آباد منتقل کیا گیا ہے جہاں متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

اہلکار نے خدشہ ظاہر کیا کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

حکام کے مطابق دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی ایک آلٹو موٹر کار تھی جسے نامعلوم افراد نے وہاں کھڑا کیا تھا۔ اہلکار کے مطابق مقامی انتظامیہ نے موٹر کار کے ٹکڑوں کو قبضے میں لے لیا ہے اور تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

مقامی آبادی کے مطابق فوجی مارکیٹ تحصیل جمرود کے عمارت کے بالکل سامنے ہے اور قریب ہی سکاؤٹس فورس کا قلعہ اور دوسرے سرکاری دفاتر کے علاوہ کئی تعلیمی ادارے واقع ہیں۔

دھماکے سے بازار میں موجود کئی گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں جبکہ دکانوں کو بھی جزوی نقصان پہنچا ہے

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی جمرود میں عام شہریوں پر کئی بار حملے ہو چکے ہیں جن میں درجنوں لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

رواں برس جنوری اور اپریل میں جمرود میں دو مسافر ویگنیں دھماکوں کا نشانہ بنی تھیں جن میں درجنوں افراد مارے گئے تھے جبکہ گزشتہ سال جمرود کی ایک مسجد میں ہونے والے خودکُش حملے میں پچاس سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔