زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم، اختیار صوبوں کو منتقل

آخری وقت اشاعت:  پير 17 دسمبر 2012 ,‭ 15:34 GMT 20:34 PST

آئین کے مطابق مشترکہ مفادات کی کونسل ’سی سی آئی‘ صدرِ پاکستان نے تشکیل دینی ہوتی ہے اور اس کے سربراہ وزیراعظم ہوتے ہیں۔ چاروں وزراء اعلیٰ اور وفاق سے وزیراعظم کے نامزد کردہ تین اراکین اس کے رکن ہوتے ہیں۔

وفاقی حکومت نے صوبوں کو مطلع کیا ہے کہ زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم کا کام تیس جون سنہ دو ہزار پندرہ تک وفاق کرے گا اور اس کے بعد یہ کام صوبوں کو سونپ دیا جائے گا۔

وفاق نے صوبوں کو یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس عرصے تک زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم کا طریقہ کار وضح کرلیں اور ضروری قانون سازی بھی کرلیں۔

یہ فیصلہ گزشتہ ماہ مشترکہ مفادات کی کونسل ’سی سی آئی‘ میں پنجاب کی درخواست پر کیا گیا تھا جس کے بارے میں اب صوبوں کو اس کے منٹس بھیجے گئے ہیں۔ اکیس صفحات پر مشتمل ’سی سی آئی‘ کے اجلاس کے منٹس کی کاپی بی بی سی کے پاس دستیاب ہے۔

اس دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت زکوٰۃ کا محکمہ صوبوں کو منتقل کیا گیا ہے لیکن صوبوں نے کہا کہ نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ میں وفاق اور صوبوں میں وسائل کی تقسیم کا فارمولہ پہلے ہی طے ہے اس لیے نئے ویج ایوارڈ تک یہ معاملہ وفاق کے پاس رہے گا۔

آٹھ نومبر کو کونسل کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ شوگر ملز والے بجلی بنا سکتے ہیں اور ملک میں چھہتر ملز ہیں اور اس کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ’نیپرا‘ کو فوری طور پر اس بجلی کے نرخ طے کرنے چاہیں۔

انہوں نے ہوا، کوئلے، شمسی توانائی، بایو گیس اور دیگر ذرائع سے بننے والی بجلی کے نرخ طے کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ صوبے ان شعبوں میں خود سے سرمایہ کاروں کو ترغیب دے سکیں۔ جس پر کونسل نے ‘نیپرا‘ کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر نرخوں کا تعین کرے۔

"یہ کونسل انیس سو تہتر کے آئین میں موجود تھی لیکن ماضی کی سیاسی اور فوجی حکومتوں میں اس کو کم ہی اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ لیکن سنہ دو ہزار دس میں اٹھارویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد ہر تین ماہ میں اس کونسل کا اجلاس منعقد ہونا لازمی ہے۔ وزیراعظم کسی صوبے کی درخواست پر خصوصی اجلاس بھی طلب کرسکتے ہیں۔ بین الصوبائی رابطوں کی وزارت اس کونسل کے سیکریٹریٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ اب تک اس کونسل نے چون معاملات کے بارے میں فیصلے کیے ہیں اور بیشتر اتفاق رائے سے ہوئے ہیں۔ اب تک چھیالیس فیصلوں پر عمل ہوچکا ہے اور آٹھ پر عملدرآمد ہو رہا ہے۔"

نامہ نگار ، اعجاز مہر

مشترکہ مفادات کی کونسل ’سی سی آئی‘ وفاق اور صوبوں میں یا صوبوں کے آپس میں کسی معاملے پر اختلاف رائے کی صورت میں مشاورت اور مسائل کو افہام تفہیم سے معاملات کو حل کرنے کا اعلیٰ مشاورتی فورم ہے۔

آئین کے مطابق کونسل صدرِ پاکستان نے تشکیل دینی ہوتی ہے اور اس کے سربراہ وزیراعظم ہوتے ہیں۔ چاروں وزراء اعلیٰ اور وفاق سے وزیراعظم کے نامزد کردہ تین اراکین اس کے رکن ہوتے ہیں۔

کوئی بھی فیصلہ اکثریت رائے کی بنا پر ہوتا ہے اور اگر کسی فریق کو اعتراض ہو تو حتمی فیصلے کا فورم پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں ہوگا۔

یہ کونسل انیس سو تہتر کے آئین میں موجود تھی لیکن ماضی کی سیاسی اور فوجی حکومتوں میں اس کو کم ہی اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ لیکن سنہ دو ہزار دس میں اٹھارویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد ہر تین ماہ میں اس کونسل کا اجلاس منعقد ہونا لازمی ہے۔ وزیراعظم کسی صوبے کی درخواست پر خصوصی اجلاس بھی طلب کرسکتے ہیں۔

بین الصوبائی رابطوں کی وزارت اس کونسل کے سیکریٹریٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ اب تک اس کونسل نے چون معاملات کے بارے میں فیصلے کیے ہیں اور بیشتر اتفاق رائے سے ہوئے ہیں۔ اب تک چھیالیس فیصلوں پر عمل ہوچکا ہے اور آٹھ پر عملدرآمد ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔