پشاور:لاپتہ افراد کی فہرست عدالت میں پیش

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 دسمبر 2012 ,‭ 14:38 GMT 19:38 PST
فائل فوٹو،

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے پشاور ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کے بارے میں ایک فہرست جمع کروائی ہے جس کے مطابق ایک سو نوے افراد حراستی مراکز بھیجے گئے ہیں۔

صوبے کے سیکرٹری داخلہ کے مطابق مزید دو سو افراد کی فہرست آئندہ سماعت پر پیش کر دی جائے گی۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ دوست محمد خان نے گزشتہ سماعت پر حکومت اور دیگر خفیہ ایجنسیوں سے کہا تھا کہ لاپتہ افراد کی فہرست ہر حالت میں منگل کو پیش کی جائے۔

سیکرٹری داخلہ اعظم خان نے عدالت کو بتایا کہ چودہ دسمبر کو چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا اور خفیہ اداروں کے ساتھ منعقدہ ایک اجلاس میں یہ فہرست تیار کی گئی تھی۔

پشاور سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق لاپتہ افراد کے ایک وکیل شاہ نواز ایڈووکیٹ نے بتایا کہ اس فہرست کے مطابق ایک سو نوے افراد صوبے میں قائم حراستی مراکز بھیجے گئے ہیں جبکہ پینتالیس افراد کو بے گناہ قرار دے کر رہا کر دیا گیا ہے، پانچ افراد گرے یا زیر تفتیش قرار دیے گئے ہیں اور انہیں خیبر ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ کے حوالے کر دیا گیا ہے کہ ان کی تفتیش کو مکمل کیا جائے۔

اس فہرست میں چھیاسی افراد کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان سے تحقیقات مکمل کی جا رہی ہیں اور مذید دو سو افراد کی فہرست بھی آئندہ سماعت پر پیش کر دی جائے گی۔

چیف جسٹس نے اس مقدمے کی آئندہ سماعت کے لیے اکیس جنوری کی تاریخ مقرر کی ہے۔

منگل کو وکلاء کے مطابق کوئی اسی سے زیادہ لاپتہ افراد کے بارے میں دائر درخواستوں کی سماعت کی گئی ہے۔

خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں سے لاپتہ افراد کے بارے میں متعدد درخواستیں پشاور ہائی کورٹ اور سوات میں قائم ایک عدالت میں دائر کی جا چکی ہیں۔

لاپتہ افراد کے بیشتر رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ ان کے عزیزوں کو پولیس یا خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار لے گئے اور پھر ان کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔

کوئی چھ ماہ پہلے ایک ہزار سے زائد افراد کی ایک فہرست پشاور ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ بیشتر افراد کو حراستی مراکز بھیج دیا گیا ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ یہ حراستی مراکز قبائلی علاقوں کے بارے میں نئے قانون کے تحت قائم کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ منگل کو لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس دوست محمد خان نے پولیٹکل ایجنٹ خیبر ایجنسی کو طلب کیا تھا اور ان سے لاپتہ افراد کے قتل اور ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بارے میں دریافت کیا۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل خیبر پختونخوا فاروق شاہ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ عدالت نے پولیٹکل ایجنٹ کو دوبارہ وقت دیا ہے کہ وہ تحقیقات مکمل کرے کہ آیا یہ لوگ کیسے ہلاک کیے گئے ہیں ، کیا انہیں زہر دے کر مارا گیا ہے اور یا ان کے قتل کی کوئی اور وجہ ہے۔

پشاور اور اس کے مضافات سے کچھ عرصے سے لاپتہ افراد کی لاشیں مل رہی ہیں جس پر چیف جسٹس دوست محمد خان نے از خود نوٹس لیا تھا۔ یاد رہے کہ ڈیڑھ ماہ میں پچیس افراد کی بوریوں میں بند لاشیں پشاور اور اس کے مضافات سے ملی تھیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔