’یہاں نہ آؤ یہ علاقہ غیر ہے‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 دسمبر 2012 ,‭ 16:45 GMT 21:45 PST

کراچی میں پولیو ٹیم کو ہدف بنائے جانے کی پیشگی اطلاعات نہیں تھیں

پاکستان میں پولیو مہم کچھ خاندانوں کا ذریعہ معاش بھی ہے، ان میں گلناز کا خاندان بھی شامل ہے، جو قائد آباد کے علاقے میں اس مہم کی نگران ہیں۔

منگل کی صبح کو گلناز نگہت، ان کی بہن رخسانہ اور بھابی فہمیدہ تین ٹیموں کی صورت میں گھروں میں جاکر بچوں کو قطرے پلانے کے لیے روانہ ہوئیں، اس مہم کا آج دوسرا دن تھا۔

گلناز کے مطابق انہیں بارہ بجے کے قریب موبائل فون پر بتایا گیا کہ ان کی کسی ٹیم پر فائرنگ کی گئی، جس کے بعد انہوں نے رخسانہ سے رابطہ کیا، جس نے خیریت کا بتایا دوسری ٹیم نے بھی آگاہ کیا کہ کوئی واقعہ پیش نہیں آیا مگر فہمیدہ اور مدیحہ کا موبائل فون سے جواب موصول نہیں ہو رہا تھا۔

پریشانی کے عالم میں جب گلناز گلشن بونیر پہنچیں تو انہیں بھانجی مدیحہ اور بھابی فہمیدہ کی ہلاکت کے بارے میں معلوم ہوا۔

جناح ہسپتال میں جواں سال بیٹی مدیحہ کی لاش پر آنسو بہاتے ہوئے رخسانہ اپنی بیٹی کے بال ٹھیک کرتی رہی اور اس کے جوگرز ہاتھ میں اٹھا لیے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر کا آپریشن ہوا ہے جس کے باعث وہ کام کاج نہیں کرسکتے، کرائے کا مکان ہے اور چار چھوٹے بچے ہیں۔’ ڈھائی سو روپے روزانہ ملتے تھے، اس لیے بیٹی کو بھی اس کام پر لگا دیا کہ کچھ نہ کچھ مدد ہوجائیگی مگر غریبوں کو دیتا کوئی نہیں چھین ہر کوئی لیتا ہے۔‘

چار دن کے ہزار روپے ملتے تھے

انگریزوں کے کہنے پر قطرے پلاتے ہو

پولیو مہم سے وابستہ محکمۂ صحت کے ملازمین اور رضاکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں پہلے بھی دھمکایا گیا تھا۔ مقتولہ مدیحہ کی والدہ رخسانہ بی بی کے مطابق لوگ انہیں کہتے تھے کہ انگریزوں کے کہنے پر آکر یہ قطرے پلاتے ہو، جس پر وہ چپ ہوجاتے تھے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ اور دیگر علاقوں میں سخت مذہبی رجحان رکھنے والے لوگ پولیو کے قطرے پلانے کی مخالفت کرتے رہے ہیں مگر کراچی میں پچھلے چند سالوں میں اس کی مخالفت میں اضافہ ہوا ہے۔ محکمۂ صحت کے مطابق یہ مخالفت چار یونین کونسلوں سے شروع ہوئی اور اب چار ٹاؤنز تک پھیل چکی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسی اطلاعات نہیں تھی کہ کراچی میں پولیو ٹیموں کو ٹارگٹ کیا جائے گا، مکمل نگرانی اور منظم منصوبہ بندی کے تحت کی گئی ہے۔

پولیو مہم سے وابستہ محکمۂ صحت کے ملازمین اور رضاکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں پہلے بھی دھمکایا گیا تھا۔ مقتولہ مدیحہ کی والدہ رخسانہ بی بی کے مطابق لوگ انہیں کہتے تھے کہ انگریزوں کے کہنے پر آکر یہ قطرے پلاتے ہو، جس پر وہ چپ ہوجاتے تھے۔

سپروائزر گلناز کا کہنا ہے کہ انہیں لوگ کہتے تھے کہ ہم محسود ہیں، یہ علاقہ غیر ہے یہاں نہ آیا کرو، انہوں نے ان سے سوال کیا کہ یہ کیسے علاقہ غیر ہوسکتا ہے۔

’ کچھ لڑکوں نے بدتمیزی بھی کی تھی، میں نے انہیں کہا کہ ہم اپنی محنت مزدوری کرتے ہیں کیوں تنگ کرتے ہو، اس بارے میں میں نے اپنے انچارج ڈاکٹر کو آگاہ کیا تھا انہوں نے مشورہ دیا کہ میں ان لڑکوں کے گھر جاکر شکایت کروں۔‘

پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں پولیو ٹیموں پر حملے کے بعد یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ کیا اب یہ ٹیمیں دوبارہ ان ’حساس ‘ علاقوں میں دوبارہ جائیں گی اور بچوں کا مستقبل بچانے کے لیے اپنی زندگی خطرے میں ڈالیں گی۔ جبکہ اسی شہر میں کئی ایسے علاقے بھی ہیں جہاں پولیس اور رینجرز بھی جانے سے کتراتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔