رجسٹرار غیرحاضر، معاملہ پارلیمان کے حوالے

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 دسمبر 2012 ,‭ 09:49 GMT 14:49 PST

پارلیمنٹ بالادست ہے اور ہم اس موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: ندیم افضل چن

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین کے کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہونے پر اُن کا معاملہ پارلیمنٹ کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کمیٹی نے عدالتِ عظمیٰ کے بجٹ کے حسابات پر جواب دہی کے لیے رجسٹرار کو پیش ہونے کے لیے منگل تک کی حتمی مہلت دی تھی تاہم وہ آج بھی پیش نہیں ہوئے۔

معاملے کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں بند کمرے میں منعقد ہوا۔

اس اجلاس میں شریک بعض ارکان نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس اجلاس میں حکومتی اتحاد میں شامل بعض جماعتوں کے ارکان اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے وارنٹ جاری کیے جائیں تاہم اکثریت نے اس مطالبے کو رد کردیا اور معاملے کو پارلیمنٹ کو بھیجنے کی تجویز دی۔

اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ندیم افضل چن نے بتایا کہ اجلاس میں اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کو بجھوا دیا جائے اور اس آئندہ چند روز میں عمل ہوگا

اُنہوں نے کہا کہ ’پارلیمنٹ بالادست ہے اور ہم اس موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

بات چیت کے دوران ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایوان صدر سمیت چھ ایسے ادارے ہیں جن کے وصول شدہ اخراجات ہیں لیکن اس میں کسی کو بھی استثنیٰ نہیں دیا گیا اور ’اگر آج سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو استثنیٰ دیا گیا تو کل دیگر ادارے بھی استثنیٰ مانگیں گے‘۔

"اگر آج سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو استثنیٰ دیا گیا تو کل دیگر ادارے بھی استثنیٰ مانگیں گے۔"

ندیم افضل چن

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نے کہا یہ کسی ادارے کے ساتھ لڑائی نہیں ہے بلکہ آئین کی پاسداری کا معاملہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی میں ججز کے رویے پر بات نہیں ہوتی بلکہ یہ قوم کا پیسہ ہے جس کے بارے میں جاننا اُن کا حق ہے کہ یہ رقم کہاں خرچ ہور ہی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ جمعرات کو سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ عدالت قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا بہت احترام کرتی ہے تاہم قانون اور آئین کے مطابق سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی ضرورت نہیں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اس معاملے کو کئی فل کورٹ اجلاسوں میں زیرِ بحث لایا گیا اور یہی فیصلہ ہوا کہ آئین و قانون کے تحت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سپریم کورٹ کے اکاؤنٹس کی چھان بین کی قابلیت نہیں رکھتی چنانچہ رجسٹرار کو اس کے سامنے پیش ہونے کی ضرورت نہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔