’ٹیم بنا بھی لی تو زندگی کی ضمانت کون دے گا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 20 دسمبر 2012 ,‭ 22:27 GMT 03:27 PST

پولیو مہم کے رضاکار عدم تحفظ کا شکار

کراچی میں محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ جب تک سکیورٹی فراہم نہیں کی جائےگی پولیو مہم بحال نہیں ہوگی۔گلشن بونیر کی پولیو نگران نے ملازمت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے گھروں سے صرف آدھے کلومیٹر دور دو رضاکاروں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ رپورٹ: ریاض سہیل

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

گلشن بونیر میں پولیو مہم کی مقامی انچارج گل ناز بھانجی اور بھابھی کی ہلاکت کے بعد ملازمت جاری رکھنا نہیں چاہتیں۔ اٹھارہ سالہ مدیحہ شاہ اور چار بچوں کی والدہ فہمیدہ کو منگل کو اسی علاقے میں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

لانڈھی ٹاؤن کا یہ علاقہ ایک کچی بستی ہے، جائے وقوع سے آدھا کلومیٹر دور مقتول فہمیدہ اور مدیحہ شاھ کے مکانات ہیں۔

پولیو مہم کی انچارج گل ناز کا کہنا تھا کہ یہ تو ان کی رشتے دار خواتین تھیں جو کچھ نہیں کہا گیا اگر غیر ہوتیں تو وہ ان کے لواحقین کو کیا جواب دیتیں، اس علاقے میں اب کون اس مہم میں شامل ہوگا۔ اگر وہ ٹیم بنابھی لی تو زندگی کی ضمانت کون دے گا۔

مدیحہ شاھ کی والدہ رخسانہ پر بھی فائرنگ ہوئی تھی لیکن وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوئیں۔ انہیں مقامی لوگوں نے بتایا کہ پہلے ان کی بیٹی کو دائیں جانب گولی ماری گئی جو دل کو چیر گئی اور اسی دوران ان کی بھابی فہمیدہ نے ایک مکان کی طرف بھاگنے کی کوشش کی تو ان کی گردن پر نشانہ لگایا گیا۔

قائد آباد پولیس اسے لوگوں کی کہانی قرار دیتی ہے اور الزام عائد کرتی ہے کہ لوگ تعاون نہیں کرتے۔

غربت کا شکار یہ خواتین گھر کے مردوں کی مخالفت کے باوجود بچوں کی بہتر پرورش کے لیے پولیو مہم کا حصہ بنی تھیں۔ مقتولہ فہمیدہ کے شوہر ریاض شاہ ڈرائیور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے تو انہوں نے بیوی کو روکا تھا مگر اس نے یہ دلیل دی کہ آپ کی بہن اور بھانجی یہ کام کرتی ہیں تو انہوں نے اجازت دے دی۔

پولیو مہم کی انچارج گل ناز کا کہنا تھا کہ یہ تو ان کی رشتے دار خواتین تھیں جو کچھ نہیں کہا گیا اگر غیر ہوتیں تو وہ ان کے لواحقین کو کیا جواب دیتیں، اس علاقے میں اب کون اس مہم میں شامل ہوگا۔ اگر وہ ٹیم بنابھی لیں تو زندگی کی ضمانت کون دے گا۔

ریاض شاہ کا کہنا ہے کہ انہیں ہرگز علم نہیں تھا کہ اس کام میں اس قدر خطرہ ہے۔ وہ مقامی لوگوں کے گھیرے میں تھے جو اظہار افسوس کے لیے آئے تھے۔ ان کے مطابق یہ لوگ بھی اس واقعے کو غلط قرار دیتے ہیں۔

فہمیدہ اور مدیحہ کو جس جگہ قتل کیا گیا، اس سے پہلے واقع ایک میدان میں بچے کرکیٹ کھیلنے میں مصروف تھے۔ پورے علاقے میں ایسا کوئی تاثر ہی نظر نہیں آیا کہ یہاں کوئی ایسا واقعہ پیش آیا ہے۔

میدان کے ساتھ ہی دیوار پر ایک اسلامی اکیڈمی موجود تھی جس پر تحریر تھا ’بچے ہمارا مستقبل ہیں دیکھنا یہ ہے کہ ہم ان کا مستقبل کیسے سنوارتے ہیں‘۔

اس سے پہلے دوپہر کو جب فہمیدہ اور مدیحہ کے گھر جانے کے لیے ہم مدد کے لیے قائد آْباد پولیس تھانے پہنچے تھے تو ایک اہلکار نے ہمیں مشورہ دیا کہ جب بھی پشتون آبادی میں آئیں تو قمیض شلوار پہن کر آئیں۔ بعد میں تھانے کے کئی اہلکار بھی قمیض شلوار میں نظر آئے۔

جینز اور شرٹ پہنے ہوئے واحد شخص سب انسپکٹر نے بتایا کہ وہ قمیض شلوار نہیں پہنتے لیکن تھانے تک محدود رہتے ہیں۔

ڈیوٹی افسر نے گلشن بونیر اکیلا نہ جانے کا مشورہ دیا لیکن ہماری درخواست پر ایک پولیس موبائل اور تین موٹر سائیکلوں پر سوار اہلکاروں کے ساتھ ہماری روانگی ہوئی۔

پولیس کا جس گلی سے بھی گذر ہوتا لوگ حیرانگی سے ان کی طرف دیکھتے۔ ایسا محسوس ہوتا جیسے پولیس پہلی بار یہاں آئی ہے۔ بعض مقامات پر پیپلز پارٹی اور عوامی نینشنل پارٹی کے جھنڈے جھولتے نظر آئے مگر دیواریں زیادہ تر کالعدم تنظیم کے نعروں سے بھری ہوئی تھیں۔

پولیس کا جس گلی سے بھی گذر ہوتا لوگ حیرانگی سے ان کی طرف دیکھتے۔ ایسا محسوس ہوتا جیسے پولیس پہلی بار یہاں آئی ہے۔ بعض مقامات پر پیپلز پارٹی اور عوامی نینشنل پارٹی کے جھنڈے جھولتے نظر آئے مگر دیواریں زیادہ تر کالعدم تنظیم کے نعروں سے بھری ہوئی تھیں۔ یہاں سے عوامی نیشنل پارٹی کے امان اللہ محسود رکن صوبائی اسمبلی ہیں۔ امان اللہ کا اس صورتحال پر کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

علاقے میں سڑکیں ٹوٹی ہوئی تھیں جبکہ جگہ جگہ کچرا بکھرا ہوا تھا۔ ایک مدرسے پر یہ ہدایت تحریر تھی کہ ’مدرسے کے اوقات میں یہاں بیٹھنا منع ہے‘۔ ایک مسجد کے باہر ’گاڑی قریب نہ کھڑی کرنے‘ اور دوسری مسجد پر ’گانا بجا کر گذرنے پر منع ہے‘ کا ہدایت نامہ موجود تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اکثر آبادی محسود، سوات اور ہزارہ وال لوگوں پر مشتمل ہے جو ان علاقوں میں وہاں پر آپریشن کے بعد یہاں آئی ہے۔ انہوں نے اس پہاڑی علاقے میں گھر بنائے اور اپنے سٹائل میں زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں اور اس میں وہ مداخلت برداشت نہیں کرتے۔

ملک کے سب سے بڑے اور ماڈرن شہر میں یہ سٹائل آزاد خیال شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک سر درد بنتا جا رہا ہے جس کی دوا فی الحال کسی کے پاس دستیاب نہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔