لال مسجد کمیشن: رجسٹریشن کا آغاز انیس سے

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 20 دسمبر 2012 ,‭ 00:09 GMT 05:09 PST

ایک رکنی کمیشن وفاقی شرعی عدالت کے جج جسٹس شہزاد شیخ کی سربراہی میں قائم ہوا ہے

لال مسجد میں کیے جانے والے فوجی آپریشن سے متعلق عدالتی کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جو اپنا بیان اور شواہد پیش کرنا چاہتے ہیں وہ کمیشن کے سامنے انیس سے چھبیس دسمبر کو پیش ہوں۔

سپریم کورٹ نے چار دسمبر کو پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے دور میں اسلام آباد میں واقع لال مسجد میں کیے جانے والے فوجی آپریشن سے متعلق تحقیقات کے لیے یہ عدالتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ وہ لوگ جو اس واقعے کے سلسلے میں اپنا بیان یا شواہد پیش کرنا چاہتے ہیں وہ کمیشن سیکریٹیریٹ میں رجسٹر کرا لیں۔

نوٹیفیکیشن کے مطابق رجسٹریشن کا یہ عمل انیس سے چھبیس دسمبر تک جاری رہے گا۔

یاد رہے کہ یہ ایک رکنی کمیشن وفاقی شرعی عدالت کے جج جسٹس شہزاد شیخ کی سربراہی میں قائم ہوا ہے۔

رجسٹریشن کے لیے معلومات درکار

پورا نام

والدین کا نام

مستقل اور عارضی پتہ

شناختی کارڈ نمبر

فون نمبرز

معلومات کی نوعیت

یہ کمیشن چھ نکات سے متعلق تحقیقات کرے گا جن میں لال مسجد آپریشن کی وجوہات، اس آپریشن میں ہلاک ہونے والے مرد، خواتین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی تعداد اور ان کی لاشیں شناخت کرنے کے حوالے سے بھی تحقیقات ہوں گی۔

یہ عدالتی کمیشن اس بات کی بھی تحقیق کرے گا کہ کیا ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں ورثا کے حوالے کی گئیں اور ہلاک ہونے والے افراد کے ورثا کو معاوضے کی رقم ادا کی گئی یا نہیں اور کیا آپریشن کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوئی۔

اس کمیشن کے قیام کا حکم چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے لال مسجد آپریشن کے خلاف دائر درخواست کی سماعت پر دیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔