پشاور ایئرپورٹ: ’حملہ آوروں کی شناخت ہو گئی‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 دسمبر 2012 ,‭ 01:50 GMT 06:50 PST

شدت پسند حملوں میں غیر ملکی عنصر

پاکستان میں غیر ملکی شدت پسندوں کی تعداد کتنی ہے اور کیا ان کی آمد کا سلسلہ بند نہیں ہوا ہے؟ انہی سوالات کے جواب تلاش کرنے کی کوشش پشاور میں ہمارے ساتھی رفعت اللہ اورکزئی نے کی ہے۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ پشاور ایئر پورٹ پر حملے کرنے والے شدت پسندوں کی شناخت ہو گئی ہے جن میں تین کا تعلق چیچنیا، چار کا پاکستان جبکہ باقی تین کا تعلق کرغزستان، داغستان اور ازبکستان سے تھا۔

خیبر پختونخواہ اسمبلی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا کہ پشاور ایئر پورٹ پر حملہ اور اس کے بعد پاؤکہ گاؤں میں سکیورٹی اہلکاروں کے آپریشن میں دس شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ پہلا حملہ ایئر پورٹ پر پانچ شدت پسندوں نے کیا جن میں سے تین پاکستانی اور دو کا تعلق چیچنیا سے تھا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اتوار کی صبح پاؤکہ گاوں میں سکیورٹی اہلکاروں کے آپریشن میں دو مختلف مقامات پر پانچ عسکریت پسندوں کا ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ان میں ایک پاکستانی، ایک کرغستانی، ایک ازبکستانی، ایک داغستانی اورایک چیچن عسکریت پسند تھا۔

پشاور میں ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ میاں افتخار نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تحریک طالبان اور غیر ملکی عسکریت پسند تنظیموں کے رابطے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں یہی وجہ ہے حملہ غیر ملکی شدت پسندوں نے کیا اور اس کی ذمہ داری مقامی طالبان نے قبول کی ہے۔

’پہلا حملہ ایئر پورٹ پر پانچ شدت پسندوں نے کیا جن میں سے تین پاکستانی اور دو کا تعلق چیچنیا سے تھا‘

یاد رہے تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان کا کہنا ہے کہ تمام حملہ آور پاکستانی تھے اور وہ اردو زبان بولتے تھے۔

صوبائی وزیر اطلاعات کے مطابق دہش گرد تنظیموں نے اب اپنے تربیت یافتہ حملہ آور استعمال کرنا شروع کر دیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ شدت پسند تنظیمیں اب دم توڑ رہی ہیں۔

انھوں نے غیر ملکی شدت پسندوں کے بارے میں کہا کہ ابتدا میں ان لوگوں کو افغانستان میں جاری جنگ کے لیے لایا گیا اور پھر افغانستان میں تورا بورا آپریشن کے بعد یہ شدت پسند پاکستان داخل ہو گئے تھے۔

میاں افتخار حسین کے مطابق ان حملوں کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور اس وقت اس مقام پر توجہ ہے جہاں سے پہلے راکٹ داغے گئے تھے تاکہ وہاں سے معلوم ہو سکے کہ حملے کے پیچھے باقی کون لوگ ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔