’پولیو ٹیموں پر حملے ظالمانہ، ناقابلِ معافی ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 دسمبر 2012 ,‭ 15:50 GMT 20:50 PST

پولیو مہم کو بڑھتے ہوئے خطرات

کیو: کراچی اور پشاور میں پولیو کی ٹیموں پر حملوں کے نتیجے میں پانچ رضاکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں کئی رکاوٹیں رہی ہیں، جن میں اب سکیورٹی کے خطرات شامل ہوگئے ہیں۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

پاکستان میں جاری پولیو مہم کے آخری دن بھی قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملے کیے گئے ہیں جن میں ایک خاتون اہلکار سمیت دو افراد ہلاک اور ایک رضاکار شدید زخمی ہوا ہے۔

ان ہلاکتوں کے بعد تین روزہ مہم کے دوران ہلاک ہونے والے سرکاری اہلکاروں اور رضاکاروں کی تعداد سات ہوگئی ہے۔

ان حملوں پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان گی مون نے پولیو کے قطرے پلانے کی ٹیموں پر حملوں کو ’ظالمانہ، احساس سے عاری اور ناقابل معافی‘ قرار دیا ہے۔

سال کے آخر کی پریس کانفرنس پر اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ پولیو کے قطرے پلانے والے کارکن پاکستان بھر میں ملک سے پولیو کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں۔

ان حملوں کے بعد اقوامِ متحدہ نے پاکستان میں جاری پولیو مہم میں شریک اپنے عملے کو واپس بلا لیا ہے اور یونیسف اور عالمی ادارۂ صحت کے فیلڈ سٹاف کو مزید احکامات تک پولیو مہم میں شرکت سے روک دیا گیا ہے۔

بدھ کو فائرنگ کے واقعات صوبہ خیبر پختونخوا کے تین شہروں پشاور، رسالپور اور چارسدہ میں پیش آئے۔

چارسدہ میں مقامی پولیس کے مطابق بٹگرام کے علاقے میں نامعلوم افراد نے پولیو ٹیم کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس سے اس میں سوار دو افراد ہلاک ہوگئے۔

ہلاک ہونے والوں میں سے ایک خاتون ٹیم سپروائزر اور دوسرا گاڑی کا ڈرائیور تھا۔

چارسدہ کے ہی علاقے ڈھیری زرداد میں بھی پولیو کے قطرے پلانے والی خواتین کی ٹیم کو خوفزدہ کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی گئی۔

ایک مقامی پولس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ موٹر سائیکل سواروں نے ہوائی فائرنگ کر کے ٹیم کو ڈرانے کی کوشش کی گئی اور فائرنگ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

پاکستان میں پولیو کیسز کی تعداد کا موازنہ

سنہ 2011 2012
بلوچستان 73 4
قبائلی علاقہ 55 20
گلگت بلتستان 1 1
خیبر پختونخوا 21 25
پنجاب 8 2
سندھ 32 4

(ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزیشن)

اس سے قبل پشاور میں بدھ کی صبح تھانہ خزانہ کے علاقے شیرو جنگی میں پولیو ٹیم پر فائرنگ کی گئی تھی۔ ایک مقامی پولیس اہل کارنے بی بی سی کو بتایا کہ دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے پولیو کی ٹیم پر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں ایک طالبعلم رضاکار شدید زخمی ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ زخمی ہونے والے رضا کار کو سر میں گولی لگی ہے اور انہیں لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ نوشہرہ کی تحصیل رسالپور میں بھی پولیو ٹیم پر فائرنگ کی گئی ہے۔

مقامی پولیس اہلکار کے مطابق بہرام کلے کے علاقے میں ہونے والی اس فائرنگ سے کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا لیکن فائرنگ کے بعد لوگ گھروں سے باہر نکل آئے اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

خیبرپختونخوا میں پولیو مہم کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر جانباز آفریدی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان حملوں کے بعد صوبے کے کچھ علاقوں میں مہم ملتوی کر دی گئی ہے جبکہ باقی صوبے میں مہم جاری رکھنے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے ہنگامی اجلاس جاری ہے۔

پاکستان میں پولیو

غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں 2012 میں پولیو کے چھپن مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 2011 میں یہ تعداد ایک سو اٹھانوے تھی

یونیسف کے ترجمان مائیکل کولمین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ دونوں تنظیموں نے صوبہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں منگل کو ہونے والے حملوں کے بعد کام بند کر دیا تھا تاہم بدھ کو مزید حملوں کے بعد پاکستان بھر میں کام معطل کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مہم میں شریک ’سپورٹ سٹاف‘ سے کہا گیا ہے کہ وہ واپس رپورٹ کریں۔

پاکستان میں سترہ سے انیس دسمبر تک سال کی آخری پولیو مہم منعقد ہو رہی ہے اور مہم کے دوسرے دن منگل کو کراچی اور پشاور میں پولیو ٹیموں پر حملوں میں پانچ خواتین اہلکار ہلاک اور چار افراد زخمی ہوگئے تھے۔

اس سے قبل مہم کے پہلے دن کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں مہم سے وابستہ ایک اہلکار کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ان حملوں کے بعد حکومتِ پنجاب نے بھی قطرے پلانے والی ٹیموں کے ساتھ پولیس اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پنجاب کے سیکرٹری صحت کیپٹن ریٹائرڈ عارف ندیم نے منگل کو صوبے کے مختلف اضلاع کے ضلعی رابطہ افسران سے رابطہ کر کے حساس علاقوں میں پولیو ٹیم کے ساتھ پولیس اہلکار تعینات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

محکمہ صحت پنجاب کے مطابق صوبائی سیکرٹری نے جن اضلاع کی انتظامیہ کو حفاظتی انتظامات کرنے کی ہدایت کی ہے ان میں راولپنڈی، ڈیرہ غازی خان ، اٹک، میانوالی اور راجن پور شامل ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔