ایجنسیوں کو قانونی انداز میں جاسوسی کی اجازت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 20 دسمبر 2012 ,‭ 15:48 GMT 20:48 PST
پاکستان قومی اسمبلی

حکومت نے اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر یہ ایک تاریخی قانون منظور کرایا ہے: وزیراعظم

پاکستان کی قومی اسمبلی نے وہ فیئر ٹرائل بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت چھ سکیورٹی ایجنسیوں کو مشتبہ افراد کے ٹیلیفون ٹیپ کرنے، ای میل کی نگرانی اور سی سی ٹی وی سمیت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شواہد اکٹھے کرنے کی اجازت ہو گی۔

ٹیکنالوجی کی نگرانی کے ذریعے حاصل کردہ ان معلومات کو عدالتوں میں بطور شہادت بھی پیش کیا جا سکے گا۔

فیئر ٹرائل نامی بل جمعرات کو ایوان زیریں میں پیش ہوا۔ مسلم لیگ (ن) اور متحدہ قومی موومنٹ نے اعتراض کیا اور کہا کہ بل میں خامیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس قانون کے غلط اطلاق کو روکنے کے لیے ان کی پیش کردہ ترامیم شامل کی جائیں۔

حکومت نے تیس سے زائد ترامیم کے ساتھ یہ بل منظور کرا لیا۔ اس بل کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ عدالتوں میں الیکٹرانک آلات اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اکٹھے کردہ شواہد کو قانون شہادت کے تحت ٹھوس شواہد تسلیم کیا جائے۔

بل کی منظوری کے بعد وزیراعظم نے کہا ہے کہ حکومت نے اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر یہ تاریخی قانون منظور کرایا ہے۔

اس بل کے بارے میں سابق وزیرِقانون اور مسلم لیگ ن کے سرکردہ رکن قومی اسمبلی زاہد حامد نے کہا کہ وہ اس بل کے بنیادی مقاصد سے اتفاق کرتے ہیں اور یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ مشتبہ افراد کے ٹیلفون فون ٹیپ کرنے، ای میل کی نگرانی اور سی سی ٹی وی سمیت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شواہد اکٹھے کرنے کی ذمہ داری یا اجازت کن ایجنسیوں کو ہوگی؟ انہوں نے کہا کہ پہلے والے بل میں تو اس کام کے لیے سولہ ایجنسیوں کو اجازت دی گئی تھی لیکن احتجاج کے بعد آئی ایس آئی، آئی بی اور پولیس کے ساتھ تین اور اداروں کو فہرست اس میں شامل کر لیا گیا ہے، جن میں ملٹری انٹیلی جنس، نیول اور ایئر فورس انٹیلی جنس شامل ہیں۔

بل کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں پر شواہد اکٹھے کرنے کے حوالے سے ایک جیسا قانون لاگو ہو گا۔ چاہے یہ شواہد ایف آئی آر کاٹنے سے قبل اکٹھے کیے گئے ہوں پھر بھی یہ شواہد عدالت میں پیش کیے جاسکیں گے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کی اس تشویش کے بارے میں کہ اس قانون کو شک کی بنیاد پر کسی کے بھی خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، زاہد حامد نے کہا کہ ترامیم کے بعد اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ کے ساتھ شک نہیں بلکہ شواہد بھی شامل کیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سزا بھی رکھی گئی ہے اور اس کے تحت جمع کیے جانے والے شواہد کا استعمال کہیں اور کیا گیا تو تین سال قید اور جرمانہ بھی رکھا گیا ہے۔

اس بل کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اختیارات کو بھی ریگولیٹ کیا جائے گا۔

بل کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں پر شواہد اکٹھے کرنے کے حوالے سے ایک جیسا قانون لاگو ہو گا۔ اگرچہ یہ شواہد ایف آئی آر کاٹنے سے قبل اکٹھے کیے گئے ہوں پھر بھی یہ شواہد عدالت میں پیش کیے جاسکیں گے۔

اس موقع پر وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اس بل کا دہشت گردوں کو شکست دینے میں اہم کردار ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کی منظوری سے بین الاقوامی سطح پر یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کو مستحکم کر کے پاکستان دہشت گردی کے خاتمے میں سنجیدہ ہے۔

وزیرِ دفاع سید نوید قمر نے اسمبلی میں کہا کہ دہشت گرد اکثر شواہد نہ ہونے کے باعث رہا ہو جاتے تھے لیکن اس بل کے بعد ایسا نہیں ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوشش کی گئی ہے کہ اس کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ملک کی سکیورٹی صورتحال دیکھتے ہوئے اس بل کی حمایت کی گئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔