پولیو حملے: ایک اور زخمی چل بسا

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 20 دسمبر 2012 ,‭ 10:25 GMT 15:25 PST

گذشتہ تین روز میں پاکستان کے متعدد شہروں میں پولیو ٹیموں پر حملے کیے گئے ہیں

پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے اہل کاروں پر ہونے والے حملوں میں زخمی ہونے والا ایک اور شخص چل بسا۔

جمعرات کے روز پشاور میں 21 سالہ ہلال نے زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ دیا۔ انھیں سر میں گولی ماری گئی تھی۔ ان کی نمازِ جنازہ پشاور میں پڑھی گئی۔

خبررساں ادارے اے ایف پی نے ڈاکٹروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلال کو بدھ کی شام ہی سے ’طبی طور پر مردہ‘ قرار دیا جا چکا تھا، اور اس کے بعد سے انھیں لائف سپورٹ سسٹم پر رکھا گیا تھا۔

دریں اثنا پاکستانی پارلیمان کے ایوانِ بالا نے انسداد پولیو مہم کی ٹیموں پر حملوں کی مذمتی قرارداد منظور کر لی ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق سینیٹ میں قائدِ اعوان جہانگیر بدر نے جمعرات کے دن پولیو ٹیموں پر حملوں کی مذمتی قرارداد پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

بین الصوبائی رابطے کے وزیر میر ہزار خان بجرانی نے سینیٹ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ تین روز میں پولیو کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے 11 کارکنوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے جن میں چھ خواتین بھی شامل ہیں۔

سرکاری ٹیلی ویژن کی خبر کے مطابق ہزار خان بجرانی نے امید ظاہر کی کہ مذمتی قرارداد سے پولیو کے خلاف کام کرنے والے کارکنوں کو تقویت ملے گی۔

منگل سے مسلح افراد نے پاکستان بھر میں بچوں کو پولیو کے حفاظتی ٹیکے لگانے والی ٹیموں پر حملے کیے ہیں۔ یہ پولیو مہم اقوامِ متحدہ کی معاونت سے چلائی جا رہی تھی۔

"یہ بے شک ایک دھچکا ہے لیکن پولیو کے خاتمے کی مہم کو ہر صورت جاری رہنا ہے۔"

یونی سیف کی ترجمان

ان حملوں کے بعد اقوامِ متحدہ نے پاکستان میں جاری پولیو مہم میں شریک اپنے عملے کو واپس بلا لیا ہے۔ اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ نے بچوں کے ادارے یونیسف اور عالمی ادارۂ صحت کے اہل کاروں کو مزید احکامات تک پولیو مہم میں شرکت سے روک دیا ہے۔

پولیو کے خلاف مہم کا تعطل پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے لیے دھچکا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں اب بھی یہ مرض پایا جاتا ہے۔

یونی سیف کے ترجمان عظمت عباس نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا، ’پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کر سکیورٹی صورتِ حال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘

بدھ کے روز یونی سیف کی ایک ترجمان نے کہا تھا کہ ’یہ بے شک ایک دھچکا ہے لیکن پولیو کے خاتمے کی مہم کو ہر صورت جاری رہنا ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔