وانا میں دھماکہ، شدت پسند کمانڈر ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 دسمبر 2012 ,‭ 07:31 GMT 12:31 PST

مولوی عباس چند ماہ قبل ہی علاقے میں واپس آئے تھے

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ایک دھماکے میں شدت پسند کمانڈر مولوی عباس سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ دھماکہ ایجنسی کے صدر مقام وانا میں رستم بازار میں واقع پھلوں کی منڈی میں ہوا ہے اور اس میں چار افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

مقامی ذرائع نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ دھماکے کا نشانہ منڈی میں واقع مولوی عباس کے بھائی جلیل کا دفتر بنا۔

دھماکے کے وقت مولوی عباس اس دفتر میں اپنے ساتھیوں سمیت موجود تھے اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

ہلاک ہونے والے شدت پسند کمانڈر مولوی عباس غیر ملکی شدت پسندوں سے تعلق کے لیے جانے جاتے تھے۔

وہ دو ہزار سات میں جنوبی وزیرستان کے اہم طالبان کمانڈر ملا نذیر کی ازبک شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے دوران علاقہ چھوڑ کر شمالی وزیرستان چلے گئے تھے۔ چند ماہ قبل ہی وہ ملا نذیر کی جانب سے اجازت ملنے پر علاقے میں واپس آئے تھے۔

خیال رہے کہ رستم بازار ہی میں گزشتہ ماہ ایک خودکش حملے میں ملا نذیر خود بھی زخمی ہوئے تھے جبکہ اس حملے میں چھ افراد مارے بھی گئے تھے۔

مُلا نذیر پر خودکش حملے کا الزام مقامی پولیٹیکل انتظامیہ نے تحریک طالبان پاکستان پر لگایا تھا جس کے بعد سے وانا میں آباد احمدزئی وزیر قبائل نے محسود قبائل کو علاقہ چھوڑ نے کے لیے کہا تھا اور وانا سے ہزاروں محسود متاثرین علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔