مزدوروں سے بدسلوکی، پاکستان کا افغانستان سے احتجاج

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 دسمبر 2012 ,‭ 12:29 GMT 17:29 PST

پاکستان اور افغانستان کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف سرحدی تنازعات ہوئے ہیں جن میں سرحد کے دونوں اطراف فائرنگ اور دراندازی کے واقعات بھی شامل ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر انتیس پاکستانی مزدوروں کے ساتھ افغان سکیورٹی فورسز نے بدسلوکی کی اور انہیں مارا پیٹا جس پر دفتر خارجہ نے افغان حکومت سے سخت احتجاج کیا ہے

اس واقعے کے بعد کچھ دیر کے لیے طورخم کی افغان پاکستان سرحد بند کر دی گئی جسے اب کھول دیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ نے افغان ناظم الامور کو صبح دفتر خارجہ طلب کر کے ان سے شدید احتجاج کیا اور کابل میں پاکستانی سفیر نے بھی حکومت پاکستان کی جانب سے ایسے ہی احتجاج ریکارڈ کروایا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ ان تمام پاکستانیوں کے پاس درست سفری دستاویزات تھیں جس کے باوجود ان سے بد سلوکی کی گئی۔

پاکستان نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے اس میں ملوث اہلکاروں کو سزا دی جائے اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جائے۔

کابل میں افغان وزارت خارجہ کے دفتر کے ایک اہلکار نے بی بی سی سے بات کر تے ہوئے بتایا کہ اس بارے میں ان کا دفتر تفصیلات کا منتظر ہے اور جب تفصیلات ملیں گی تو اس پر رد عمل دیا جائے گا۔

سنیچر کو دفتر بند ہونے کی وجہ سے افغان وزارت خارجہ کے ترجمان موجود نہیں تھے اسی طرح اسلام آباد میں بھی افغان سفارت خانے سے رابطے کی کوشش کی گئی مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔