پنجاب کےگورنر لطیف کھوسہ مستعفی

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 دسمبر 2012 ,‭ 14:25 GMT 19:25 PST

پنجاب کے مستعفی گورنر سردار لطیف کھوسہ اٹارنی جنرل پاکستان اور وزیر اعظم کے مشیر کے عہدوں پر بھی کام کرچکے ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گورنر سردار لطیف کھوسہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

انہوں نے کراچی میں صدر پاکستان آصف علی زرداری سے ملاقات کی جس میں انہوں نے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ ملاقات میں وزیر قانون فاروق ایچ نائیک بھی موجود تھے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ نئے بننے والے گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود جلد ہی لاہور میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

مخدوم احمد محمود کا تعلق پنجاب کے علاقے رحیم یار خان ایک سیاسی خاندان سے ہے اور ان کا تعلق پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سے ہے۔

ہمارے نمائندے اعجاز مہر کے مطابق مخدوم احمد محمود سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی رشتہ دار ہیں اور موجودہ پیر پگاڑا کے پھوپی زاد بھائی ہیں۔

ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ وہ ابتدا میں سرائیکی صوبے کے مخالفت کرتے رہے ہیں جبکہ بہاولپور صوبے کی حمایتی رہے ہیں۔

پنجاب کے مستعفیٰ گورنر سردار لطیف کھوسہ کو سلمان تاثیر کی ہلاکت کے بعد جنوری دو ہزار گیار میں گورنر پنجاب بنایا گیا تھا۔سلمان تاثیر کو چار جنوری دو ہزار گیارہ کو اسلام آباد میں ان کے محافظ نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

سردار لطیف کھوسہ گورنر پنجاب بننے سے پہلے اٹارنی جنرل پاکستان اور وزیر اعظم کے مشیر کے عہدوں پر کام کرچکے تھے۔

سردار لطیف کھوسہ تین مرتبہ ہائی کورٹ بار ملتان بنچ کے صدر منتخب ہوئے اور ملک میں وکلا: کی سب بڑی نمائندہ تنظیم پاکستان بارکونسل کے تین مرتبہ رکن چنے گئے۔

سردار لطیف کھوسہ نے بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات میں ان کی پیروی کی اور دو ہزار دو کے عام انتخابات کے بعد وہ پیپلز پارٹی کیطرف سے سینیٹر منتخب ہوئے۔

پیپلز پارٹی کی مقتول سربراہ بینظیر بھٹو سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں اپنی جلاوطنی کے بعد جب لاہور میں آئیں تو انہوں نے سردار لطیف کھوسہ کے گھر میں قیام کیا اور اس جگہ انہیں نظر بند کردیا گیا تھا۔یہ بینظیر بھٹو کا لاہور کا آخری دورہ تھا اور یہ نظر بندی بھی ان کی زندگی کی آخری نظربندی تھی۔

سردار لطیف کھوسہ کوانیس اگست دو ہزار آٹھ کو جسٹس ریٹائرڈ ملک محمد قیوم کی جگہ اٹارنی جنرل مقرر کیا گیا تھا لیکن ایک سال کے بعد ہی انہیں اس وقت اٹارنی جنرل کے عہدے سے ہٹا دیا گیا جب مغفور شاہ نامی شخص نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی جس میں ان پر ایک مقدمے میں مدعی کو بری کروانے کے لیے ججوں کے نام پر اُن سے تیس لاکھ روپے لینے کا الزام لگایا گیا تھا۔

سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ اُن کے خلاف بدعنوانی کی درخواست چیف جسٹس آف پاکستان افتحار محمد چوہدری کی ایماء پر دی گئی ہے اور ان کی برطرفی میں چیف جسٹس پاکستان کا ہاتھ ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔