پاکستان: مہنگائی کی ایک اور لہرکا خدشہ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 دسمبر 2012 ,‭ 09:56 GMT 14:56 PST

پاکستان میں گندم کی قیمت عالمی قیمت کے مقابلے میں تیس فیصد زیادہ ہے۔

پاکستان کا مرکزی اسٹیٹ بینک اور حکومت ایک ایسے وقت میں جب معاشی حالات خراب ہیں اور حکومت کو کڑی تنقید کا سامنا ہے افراط زر میں کمی کو مشکل حالات میں اپنی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں جبکہ حقائق شاید اتنے اطمینان بخش نہیں ہیں۔

مالی سال دو ہزار تیرہ کے پہلے پانچ ماہ یعنی جولائی تا نومبر کے دوران افراط زر کی شرح میں مسلسل کمی ہوئی حتیٰ کہ نومبر میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ کی شرح چھ اعشاریہ نو فیصد پر آگئی جو گذشتہ پانچ سال کی کم ترین سطح ہے۔ اس دوران ایک وقت میں ملک میں افراط زر پچیس فیصد کی بُلند ترین سطح پر بھی پہنچا۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس وقت اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کی شرح پانچ اعشاریہ تین فیصد ہے۔

افراط زر میں کمی کو بنیاد بنا کر مرکزی بینک نےچودہ دسمبر کو مالیاتی پالیسی میں شرحِ سود میں بھی آدھے فیصد کی کمی کردی۔ جس کے بعد ملک میں شرح سود نو اعشاریہ پانچ فیصد ہو گئی۔ ملک میں شرح سود اٹّھارہ ماہ قبل چودہ فیصد تھی جو بتدریج کم ہو کر اب نو اعشاریہ پانچ فیصد پر آگئی ہے۔ شرح سود میں کمی کے لیے اسٹیٹ بینک پر نجی شعبے کا بہت دباؤ تھا۔ تجزیہ کار کہتے ہیں اس فیصلے کے پیچھے سیاسی مصلحت بھی خارج از امکان نہیں۔

افراط زر کی شرح میں کمی کے باوجود عوام پر مہنگائی کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ عام آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے۔ آبادی کا ایک بڑا حِصّہ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوگیا ہے۔

حکومت کی اصلاحِ احوال میں ہچکچاہٹ

اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے چیف اکنامسٹ صائم علی کہتے ہیں کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ، مقامی گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ، روپے کی قدر میں کمی وغیرہ ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے قیمتوں یعنی افراطِ زر میں اضافہ ناگزیر نظر آتا ہے۔ جس سے آنے والے مہینوں میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں بڑھیں گی۔ صائم علی کا کہنا ہے حکومت کی طرف سے بلا روک ٹوک بھاری قرضے لینے کا نہ رکنے والا سلسلہ بھی افراط زر کو بڑھاوا دینے کا اہم سبب ہے اور رہے گا۔

مشرف دور کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد پچّیس فیصد رہ گئی ہے۔ اگرچہ بعد میں ایسی کوئی رپورٹ تو جاری نہیں کی گئی مگر مختلف تنظیمیں کے تحقیق کے مطابق برسوں سے جاری معاشی بدحالی کی وجہ سی ایسے لوگوں کی تعداد دگنی یا شاید اس سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کے مالی سال دو ہزار تیرہ کی دوسری ششماہی میں (جنوری تا جون) افراط زر میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے چیف اکنامسٹ صائم علی کہتے ہیں کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ، مقامی گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ، روپے کی قدر میں کمی وغیرہ ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے قیمتوں یعنی افراطِ زر میں اضافہ ناگزیر نظر آتا ہے۔ جس سے آنے والے مہینوں میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں بڑھیں گی۔ صائم علی کا کہنا ہے حکومت کی طرف سے بلا روک ٹوک بھاری قرضے لینے کا نہ رکنے والا سلسلہ بھی افراط زر کو بڑھاوا دینے کا اہم سبب ہے اور رہے گا۔

خود اسٹیٹ بینک کا بھی کہنا ہے کے آنے والے مہینوں میں افراط زر میں اضافہ ہو گا اور مالی سال کے اختتام تک افراط زر بجٹ میں دیے گئے ہدف کے مطابق نو اعشاریہ پانچ فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ یعنی افراط زر موجودہ چھ اعشاریہ نو فیصد سے بڑھ جائے گا۔

تجزیہ کار اسے مہنگائی کی ایک اور لہر کا خدشہ قرار دیتے ہیں۔

بقول صائم علی پاکستان میں گندم کی قیمت عالمی قیمت کے مقابلے میں تیس فیصد زیادہ ہے۔ گذشتہ پانچ برس میں ایک عام آدمی کے مصارفِ زندگی میں ستّر فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ اس کے مقابلے میں فرد اور کنبے کی آمدنی میں اضافہ بہت معمولی ہے۔ اس مدّت میں تنخواہوں میں اوسط اضافہ محض ایک فیصد رہا۔

"افراط زر میں کمی کا مطلب مہنگائی میں کمی نہیں بلکہ مہنگائی میں اضافے کی شرح میں کمی ہے۔"

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے تجزیہ کار نعمان خان

تجزیہ کاروں کی آراء کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کے در حقیقت افراد اور کنبوں کی آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ شرح نمو گرنے کی وجہ سے بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور معاوضے بھی کم ہوئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں عام آدمی میں مہنگائی کا مقابلہ کرنے کی قوت بری طرح متا ثر ہوئی ہے۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے تجزیہ کار نعمان خان کہتے ہیں ’افراط زر میں کمی کا مطلب مہنگائی میں کمی نہیں بلکہ مہنگائی میں اضافے کی شرح میں کمی ہے۔‘

نعمان خان کے مطابق افراط زر کا بڑا حصہ درآمدی ہوگا۔ پاکستان اپنی ضروریات کا اسّی فیصد تیل درآمد کرتا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملک میں اشیا کی قیمتوں میں اسی تناسب سے اضافے کی وجہ بنے گا۔ روپے کی قدر میں کمی بھی درآمدات کی قیمتوں میں اضافہ کرے گی۔ مقامی طور پر اشیا کی رسد وترسیل کے نظام میں کمزوریاں بھی قیمتوں کو متاثر کرتی رہیں گی۔ توقع کی جا رہی ہے جنوری کے مہینے میں ملک میں گیس کی قیمتو ں بھی اضافہ کیا جانے والا ہے۔

اگر ملک کی اقتصادی کارکردگی کو دیکھیں تو پتا چلتا ہے کے پاکستان اس وقت خطے میں سب سے خراب اقتصادی کارکردگی کا حامل ملک ہے۔ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بھی پاکستانی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں سے مطمئن نہیں اور معاشی اصلاحات کا مطالبہ کر رہا ہے۔

ملک میں ایک طرف الیکشن کا سال ہے اور حکومت اصلاحِ احوال کے لئے سخت اقدامات سے گریزاں لگتی ہے جبکہ دوسری جانب ایسے فیصلوں کی توقع کی جارہی ہے جن سے حکومت کو وقتی سیاسی فائدے حاصل ہوسکیںقطع نظر اس کے کہ ان کی معاشی قیمت کچھ بھی ادا کرنی پڑے ۔

ایسے حالات میں مستقبل قریب میں مہنگائی کے جِن کو قابو میں رکھنا محال لگتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔