سخت سکیورٹی میں بشیر بلور کی نمازِ جنازہ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 23 دسمبر 2012 ,‭ 05:05 GMT 10:05 PST

رات بھر پشاور میں بشیر بلور کی رہائش گاہ پر سوگوار جمع رہے۔ تصویر بشکریہ عوامی نیشنل پارٹی

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور خیبر پختون خوا کے سینئر صوبائی وزیر بشیر بلور کی نمازِ جنازہ پشاور چھاؤنی کے کرنل شیر خان سٹیڈیم میں ادا کی جائے گی جس کے لیے متعدد سیاسی جماعتوں کے رہنما پشاور پہنچے ہیں۔

بشیر بلور کی میت ایک ایمبولینس کے ذریعے کرنل شیر خان سٹیڈیم میں پہنچائی گئی جہاں کثیر تعداد میں عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن نمازِ جنازہ کے لیے جمع تھے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی، گورنر مسعود کوثر کے علاوہ وزیر داخلہ رحمان ملک، صدر پاکستان کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر، پاکستان مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور جنرل سیکریٹری مشاہد حسین سید بھی جنازے میں شرکت کے لیے کرنل شیر خان سٹیڈیم پہنچ چکے ہیں۔

سنیچر کی رات پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے جلسے پر ہونے والے خود کش حملے میں سینئر صوبائی وزیر بشیر بلور سمیت نو افراد ہلاک ہوگئے جن کے سوگ میں صوبہ خیبر پختون خوا میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

پشاور میں دکانیں اور بازار سوگ میں بند ہیں جبکہ جنازے کے بعد بشیر بلور کی تدفین سید حسن پیر بادشاہ بیری باغ کے قبرستان میں ہوگی۔

نمازِ جنازہ میں ادائیگی کے لیے ملک بھر سے عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن پشاور پہنچے ہیں۔

رات بھر پشاور میں بشر بلور کی رہائش گاہ پر بڑی تعداد میں سوگوار جمع رہے جہاں جزباتی مناظر دیکھے گئے۔

سینئر وزیر بشیر بلور کا جلسے میں پہنچنے پر استقبال کیا جا رہا ہے جس میں ہونے والےخود کش حملے میں وہ ہلاک ہوگئے۔

خود کش حملے میں بشیر بلور کے علاوہ ان کے پرائیوٹ سیکرٹری نور محمد، کابلی تھانہ کے ایس ایچ او عبدالستار خٹک اور چھ دیگر افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

کابلی تھانہ کے ایس ایچ او عبدالستار خٹک کی نماز جنازہ رات گیارہ بجے پولیس لین میں ادا کی گئی جس میں خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی اور گورنر مسعود کوثر نے بھی شرکت کی جس کے بعد انہیں ان کے آبائی علاقے کرک میں دفن کر دیا گیا۔

حملے میں تئیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں لیڈی ریڈنگ ہپستال منتقل کیا گیا ہے اور ان سب کی حالت تسلی بخش ہے۔

ایس ایس پی پشاور خالد ہمدانی نے ہمارے نمائندے دلاور خان وزیر کو سنیچیر کی رات کو بتایا تھا کہ سینئر وزیر بشیر احمد بلور آپریشن کے دوران ہسپتال میں ہلاک ہوئے۔

بشیر احمد بلور کے بھائی اور عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما حاجی غلام احمد بلور بھی اس جلسے میں موجود تھے لیکن وہ محفوظ رہے۔ بشیر احمد بلور پر اس سے پہلے بھی کئے حملے ہو چکے تھے جن میں وہ بچ گئے تھے۔

تحریک طالبان نے سنیچیر کی رات حملے کی ذمہ داری قبول کر لی تھی جسے انہوں نے اکوڑہ خٹک سے تعلق رکھنے والے مولانا نصیب خان کی ہلاکت کا بدلہ بتایا۔ مولانا نصیب خان کو کچھ عرصہ پہلے اغوا کیا گیا تھا جس کے بعد ان کی لاش ملی تھی۔

مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے اس حملے کی مذمت کی گئی ہے۔

ان سیاسی رہنماؤں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری، پاکستان مسلم لیگ کے میاں نواز شریف سمیت کئی دیگر رہنما شامل تھے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ’دہشت گردی عوامی نیشنل پارٹی تک نہیں رکے گی بلکہ یہ دہشت گرد جمہوری نظام کے خلاف ہیں اور وہ ہمیں سب کو ایک ایک کر کے نشانہ بنائیں گے۔‘

بشیر بلور کے بیٹے عثمان بلور نے میڈیا سے بات کرے ہوئے کہا کہ ’اپنے والد کی طرح میں اور میرا بھائی اپنی جان دے دیں گے مگر اس دہشت گردی کے خلاف ضرور لڑیں گے۔‘

پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے اس موقع پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا نام لے کر لکھا کہ میں ان کے اس حملے کی پر زور مذمت کرتا ہوں جو بشیر بلور پر حملے کے زمہ دار ہیں انہیں تلاش کر کے انصاف کے کٹہرے تک لایا جانا چاہیے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ٹوئٹر کے ذریعے اپنی مذمت کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ ایک دکھ کی بات ہے اور کہا کہ وہ اس کھلی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بشیر بلور ایک بہادر انسان تھے جنہوں نے بہادری سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے بھی اس واقعے کی مذمت کی لیکن انہوں نے طالبان اور دہشت گردی کے تعلق میں کوئی بات نہیں کی۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔