بشیر بلور کو پشاور میں سپرد خاک کر دیا گیا

آخری وقت اشاعت:  اتوار 23 دسمبر 2012 ,‭ 12:25 GMT 17:25 PST
بشیر بلور

سنیچر کو پشاور میں خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء اور سینئر صوبائی وزیر بشیر بلور کو سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ اس حملے میں نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یہ خود کش حملہ پشاور کے مشہور قصہ خوانی بازار کے گنجان آباد علاقے ڈھکی نعلبندی میں ہوا تھا۔ حملے میں بشیر بلور کے علاوہ ان کے پرائیویٹ سیکرٹری نور محمد، کابلی تھانہ کے ایس ایچ او عبدالستار خٹک اور چھ دیگر افراد کی بھی ہلاکت ہوئی۔

بشیر بلور سپرد خاک

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء اور خیبر پختون خوا کے سینئر صوبائی وزیر بشیر بلور کی نمازِ جنازہ پشاور چھاؤنی کے کرنل شیر خان سٹیڈیم میں ادا کی گئی جس کے بعد ان کی میت سید حسن پیر بادشاہ بیری باغ کے قبرستان لے جائی گئی جہاں ان کو سپرد خاک کر دیا گیا۔

سٹیڈیم میں کثیر تعداد میں عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن نمازِ جنازہ کے لیے جمع تھے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی، گورنر مسعود کوثر کے علاوہ وزیر داخلہ رحمان ملک، صدر پاکستان کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر، پاکستان مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور جنرل سیکریٹری مشاہد حسین سید نے بھی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔

پشاور میں دکانیں اور بازار سوگ میں بند ہیں جبکہ نمازِ جنازہ میں ادائیگی کے لیے ملک بھر سے عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن پشاور پہنچے ہیں۔

خود کش حملے میں بشیر بلور کے علاوہ ان کے پرائیوٹ سیکرٹری نور محمد، کابلی تھانہ کے ایس ایچ او عبدالستار خٹک اور چھ دیگر افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

کابلی تھانہ کے ایس ایچ او عبدالستار خٹک کی نماز جنازہ سنیچر کی رات گیارہ بجے پولیس لین میں ادا کی گئی جس میں خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی اور گورنر مسعود کوثر نے بھی شرکت کی جس کے بعد انہیں ان کے آبائی علاقے کرک میں دفن کر دیا گیا۔

حملے میں تئیس افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں لیڈی ریڈنگ ہپستال منتقل کیا گیا اور ان سب کی حالت تسلی بخش ہے۔

ایس ایس پی پشاور خالد ہمدانی نے ہمارے نمائندے دلاور خان وزیر کو سنیچیر کی رات کو بتایا تھا کہ سینئر وزیر بشیر احمد بلور آپریشن کے دوران ہسپتال میں ہلاک ہوئے تھے۔

بشیر احمد بلور کے بھائی اور عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما حاجی غلام احمد بلور بھی اس جلسے میں موجود تھے لیکن وہ محفوظ رہے۔ بشیر احمد بلور پر اس سے پہلے بھی کئے حملے ہو چکے تھے جن میں وہ بچ گئے تھے۔

تحریک طالبان نے سنیچیر کی رات حملے کی ذمہ داری قبول کر لی تھی جسے انہوں نے اکوڑہ خٹک سے تعلق رکھنے والے مولانا نصیب خان کی ہلاکت کا بدلہ بتایا۔ مولانا نصیب خان کو کچھ عرصہ پہلے اغوا کیا گیا تھا جس کے بعد ان کی لاش ملی تھی۔

بشیر بلور ایک نڈر رہنما

صوبہ خیبر پختون خوا کے سینئر وزیر بشیر احمد بلور کے ساتھ بھی بالآخر وہی کچھ ہوگیا جس کا بہت پہلے سے خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا۔

وہ جس طرح ہر فورم اور میڈیا میں کھل کر طالبان کی مخالفت کرتے تھے اور ان کو ’ملک دشمن اور دہشت گردوں‘ کے نام سے یاد کرتے تھےاس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ یقیناً شدت پسندوں کے ہِٹ لِسٹ پر ہوں گے۔

بشیر احمد بلور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی عمر انہتر برس بتائی جاتی ہے۔ انہوں نے انیس سو ستر میں عوامی نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست کا آغاز کیا۔

وہ پہلی مرتبہ انیس سو نوے میں پشاور کے حلقہ پی ایف ون سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ انیس سو نوے سے دو ہزار آٹھ تک مسلسل پانچ مرتبہ اپنے حلقے سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے ہیں۔

دو ہزار دو میں جب مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد ایم ایم اے نے پشاور سمیت پورے صوبہ بھر میں انتخابات میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی جس میں اے این پی کے کئی اہم رہنما ہارے گئے تھے، اس الیکشن میں بھی بشیر احمد بلور اپنی نشست جیتنے میں کامیاب رہے۔

طالبان حملوں کی مذمت

گزشتہ تین سالوں سے ان دونوں وزراء نے اس بات کو اپنی اولین ذمہ داری بنا رکھا تھا کہ پشاور یا صوبے کے کسی دوسرے شہر میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آتا تو یہ دونوں وزراء منٹوں میں لپک کر جائے وقوعہ پر پہنچ جاتے اور ذرائع ابلاغ سے بات کرنے میں عوام کو حوصلہ دینے کی بات کرتے اور طالبان حملوں کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے تھے۔

بشیر احمد بلور تین مرتبہ صوبائی وزیر کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ ان کے پاس سینئر وزیر، لوکل باڈیز اور کمیونیکشن کے قلمدان رہے ہیں۔ انہوں نے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی اور وہ پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ممبر بھی تھے۔

سوات میں دو ہزار نو میں جب طالبان اور حکومت کے مابین آخری امن معاہدہ ٹوٹ گیا تو عوامی نیشنل پارٹی نے ہر فورم پر کھل کر طالبان کی مخالفت شروع کردی۔ اس مخالفت میں بشیر احمد بلور اور صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین سب سے زیادہ پیش پیش رہے۔

گزشتہ تین سالوں سے ان دونوں وزراء نے اس بات کو اپنی اولین ذمہ داری بنا رکھا تھا کہ پشاور یا صوبے کے کسی دوسرے شہر میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آتا تو یہ دونوں وزراء منٹوں میں لپک کر جائے وقوعہ پر پہنچ جاتے اور ذرائع ابلاغ سے بات کرنے میں عوام کو حوصلہ دینے کی بات کرتے اور طالبان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے تھے۔

چند دن پہلے جب رات کے وقت شدت پسندوں نے پشاور کے ہوائی اڈے پر حملہ کیا تو ابھی علاقے میں فائرنگ جاری تھی کہ بشیر احمد بلور اچانک جائے وقوعہ کے قریب پہنچ گئے۔

بلور خاندان

بشیر احمد بلور کا شمار عوامی نیشنل پارٹی کی سینیئر رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ خیبر پختون خوا میں بلور خاندان ایک مضبوط کاروباری اور سیاسی خاندان کے طورپر جانا جاتا ہے۔ اس خاندان کے تقریباً تمام افراد اے این پی سے منسلک ہیں۔ مقتول بشیر احمد بلور کے تین بھائی ہیں جن میں دو بھائیوں کا شمار عوامی نیشنل پارٹی کے اہم رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ ان کے بڑے بھائی غلام احمد بلور وفاقی وزیر ریلوئے ہیں جبکہ الیاس بلور سینیٹر ہیں۔ ان کے ایک بھائی عزیز احمد بلور کے بارے میں بتایا جاتا ہے وہ سول سروسز میں رہ چکے ہیں۔

ان دونوں وزراء کی اس دلیری کا تمام سیاسی جماعتیں بھی اعتراف کرتی رہی ہیں۔ بشیر احمد بلور پر اس سے پہلے بھی دو مرتبہ قاتلانہ حملے ہوچکے ہیں جبکہ صوبائی وزیر میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے میاں راشد حسین بھی طالبان حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

کئی دفعہ اس طرح بھی ہوا ہے کہ بشیر احمد بلور یا میاں افتخار حسین کسی دھماکے والے جگہ پر پہنچتے تو صحافی وہاں سے ہٹ جاتے تھے کیونکہ انہیں خوف ہوتا تھا کہ یہ دونوں تو طالبان کے ہٹ لسٹ پر ہیں کہیں ان کے پیچھے کوئی خودکش حملہ آور ہی نہ ہو۔ لیکن تمام تر خطرات کے باوجود یہ دونوں وزراء مسلسل طالبان کی مخالفت کرتے رہے۔

بشیر احمد بلور کا شمار عوامی نیشنل پارٹی کی سینیئر رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ خیبر پختون خوا میں بلور خاندان ایک مضبوط کاروباری اور سیاسی خاندان کے طورپر جانا جاتا ہے۔ اس خاندان کے تقریباً تمام افراد اے این پی سے منسلک ہیں۔ مقتول بشیر احمد بلور کے تین بھائی ہیں جن میں دو بھائیوں کا شمار عوامی نیشنل پارٹی کے اہم رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ ان کے بڑے بھائی غلام احمد بلور وفاقی وزیر برائے ریلوے ہیں جبکہ الیاس بلور سینیٹر ہیں۔

مرحوم کے دو بیٹے ہارون بلور اور عثمان بلور بھی سیاست میں سرگرم ہیں۔ ہارون بلور ٹاؤن ون پشاور کے ناظم جبکہ عثمان بلور خیبر پختون خوا چیمبر آف کامرس کے صدر رہ چکے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ ضلع پشاور کی سطح پر اے این پی کو منظّم کرنے میں بلور خاندان کا اہم کردار رہا ہے جس میں بالخصوص بشیر احمد بلور پیش پیش رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پارٹی میں کئی مواقعوں پر اختلافات بھی پیدا ہوئے لیکن اس خاندان نے اے این پی سے اپنی مخلصی اور تعلق پر کوئی آنچ نہیں آنے دی۔

بشیر بلور کی ہلاکت پر رد عمل

صدرِ پاکستان اور وزیراعظم کے علاوہ مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے بشیر پر ہونے والے خود کش حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ’دہشت گردی عوامی نیشنل پارٹی تک نہیں رکے گی بلکہ یہ دہشت گرد جمہوری نظام کے خلاف ہیں اور وہ ہمیں سب کو ایک ایک کر کے نشانہ بنائیں گے۔‘

بشیر بلور کے بیٹے عثمان بلور نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنے والد کی طرح میں اور میرا بھائی اپنی جان دے دیں گے مگر اس دہشت گردی کے خلاف ضرور لڑیں گے۔‘

پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے اس موقع پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا نام لے کر لکھا کہ میں ان کے اس حملے کی پر زور مذمت کرتا ہوں جو بشیر بلور پر حملے کے ذمہ دار ہیں انہیں تلاش کر کے انصاف کے کٹہرے تک لایا جانا چاہیے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ٹوئٹر کے ذریعے اپنی مذمت کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ ایک دکھ کی بات ہے اور کہا کہ وہ اس کھلی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بشیر بلور ایک بہادر انسان تھے جنہوں نے بہادری سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے بھی اس واقعے کی مذمت کی لیکن انہوں نے طالبان اور دہشت گردی کے تعلق میں کوئی بات نہیں کی۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے بشیر بلور کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ان پر حملے کی مذمت کی اور ان کے اہل خان سے تعزیت کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

متحدہ قومی مومنٹ کے قائد الطاف حسین نے بشیر بلور کی وفات پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور دہشت گردی کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ لڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایم کیو ایم نے عوامی نیشنل پارٹی کے سات تین روزہ سوگ کا اعلان کیا اور اپنے مرکزی دفتر پر سیاہ پرچم لگائے۔

جماعت اسلامی کے سربراہ سید منور حسن نے بشیر بلور پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ قرار دیا اور لکھا کہ یہ حملہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اپنا اختیار کراچی سے پشاور تک کھو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر اسے جواز بنا کر انتخابات ملتوی کروانا چاہتے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ ق کے قائد چوہدری شجاعت حسین اور نائب وزیر اعظم چوہدری پرویز الہی نے بشیر احمد بلور کی ہلاکت پر گہرے رنج وغم اور افسوس کا اظہار کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کے عزم، حوصلے اور جرات کو سلام پیش کیا۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔