انتخابات میں تاخیر خلافِ آئین نہیں:طاہر القادری

آخری وقت اشاعت:  اتوار 23 دسمبر 2012 ,‭ 16:31 GMT 21:31 PST

طاہر القادری برسوں بعد کینیڈا سے واپس وطن پہنچے ہیں

تحریک مہناج القرآن کےسربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں آئین کےمطابق انتخابات کرانے کے لیے نوے دن کی مہلت سے زیادہ وقت بھی لگ جائے تو یہ اقدام غیر آئینی نہیں ہے۔

اتوار کو مینار پاکستان میں ایک بہت بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ نظام انتخاب کی تبدیلی کے بغیر انتِخابات ہوئے تو آئین ٹوٹ جائےگا۔

کلِک ’ملک واپسی کسی کے کہنے پر نہیں‘

ڈاکٹرطاہر القادری اپنے طویل ترین خطاب میں آئین کے آرٹیکل دو سو چون کا حوالہ دیا اور کہا کہ آئین یہ اجازت دیتا ہے کہ اگر کسی کام کو مکمل کرنے میں آئینی مدت سے زیادہ کا عرصہ لگ جائے تو وہ اقدام غیر قانونی نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وہ نظام انتخاب کو آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے تابع کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول آئین ان دفعات پر عمل درآمد کرکے نیک سیرت اور اہل لوگوں کو لایا جائے اور اس کام میں اگر نوے دن سے زیادہ بھی لگ جائیں تو آئین اس کی اجازت دیتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نوے دن کی رٹ لگانا ضروری ہے یا آئین کی شرائط پر عمل کرنا۔

اس جلسے میں ایم کیو ایم کے وفد نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی ۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے جلسے میں کھڑے ہونے کے بجائے کرسی پر بیٹھ کر تقریر کی اور ڈائس کے بجائے ان کے سامنے ایک میز رکھا گیا تھا۔

طاہر القادری کے جلسے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی

ڈاکٹر طاہر القادری پانچ برس کے بعد کینیڈا سے پاکستان لوٹے ہیں اور ان کی پاکستان آمد سے قبل سے ان کے جلسے کے بارے میں مہم شروع تھی اور نجی ٹی وی چینلوں پر ان کی لاہور آمد اور جلسے کے بارے میں اشتہارت نشر کیےگئے۔

تحریک مہناج القرآن کے سربراہ نے وضاحت کی کہ وہ انتخابات ملتوی یا منسوخ نہیں کروانا چاہتے بلکہ بقول ان کے ملک انتخابات آئین کے تابع ہوں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئین کے آرٹیکل باسٹھ پر عمل درآمدنہ کیا گیا تو وہی لوگ پلٹ کر واپس آئیں گے جو پہلے بھی پارلیمان میں موجود ہیں۔

ڈاکٹر طاہر طاہر القادری نے تجویز پیش کی کہ نگران سیٹ اپ مقرر کرنے کے عمل میں ملک کی عدلیہ اور فوج کو بھی شامل کیا جائے آئین ایسا کرنے سے روکتا نہیں۔

انہوں نے کہاکہ ایسے لوگوں کو نگران حکومت میں مقرر کیا جائے تو انتخابات کروانے سے پہلے آئین کے مطابق نظام کو درست کریں۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے دس جنوری سے پہلے تمام نظام کو درست نہ کیا تو وہ اس کے خلاف اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ تین ہفتوں کی مہلت ختم ہونے سے پہلے ایسے لوگوں کو نہ لایا گیا جو نظام درست کرسکیں تو چودہ جنوری کو اسلام آباد میں اجتماع ہوگا جہاں عوام کی پارلیمنٹ میں فیصلے ہوں گے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ اگر نظام انتخاب اور انتخابی اصلاحات کے بغیر انتخابات ہوئے تو عوام انہیں قبول نہیں کریں کیونکہ بقول ان کے وہ انتخابات غیرآئینی ہوں گے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔