’آخر ہمارا مسئلہ کون حل کرے گا‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 26 دسمبر 2012 ,‭ 12:36 GMT 17:36 PST

طالبان کے ہاتھوں گومل زام ڈیم کے اغوا ملازمین کے لواحقین اپنے رشتہ داروں کے رہائی کے منتظر ہیں

’طالبان ہم سے بات کرنے کو تیار نہیں اور حکومت کچھ کرنے کو آمادہ نہیں۔ آخر ہمارا مسئلہ حل کون کروائے گا؟ صومالیہ کے قزاقوں کے ہاتھوں اغوا غیر سرکاری افراد کی رہائی کے لیے تو اربوں روپے ادا کیے گئے ہمارے پیارے تو سرکاری ملازمین ہیں ان کے لیے کیوں نہیں؟‘

یہ الفاظ ہیں اسلام آباد کے قومی پریس کلب کے باہر میدان میں جمع چند درجن قریبی رشتہ داروں کے جن کے پیارے اس سال عیدالفطر سے تین روز قبل یعنی پندرہ اگست کو ڈیم سے واپسی پر راستے میں اغوا کر لیے گئے تھے۔

ان افراد کے مطابق وہ احتجاج کرنے نہیں بلکہ محض حکومت کے سامنے التجا کرنے وہاں جمع ہوئے تھے۔

ایک مغوی شاہد علی کے چچازاد بلال خان کا کہنا تھا کہ ’ہم غریب لوگ ہیں۔ ہم تو اتنی رقم ادا نہیں کر سکتے جس کی مانگ طالبان کر رہے ہیں۔‘

اس بابت چند ہفتے قبل پشاور ہائی کورٹ نے بھی حکومت کو ان افراد کی بحفاظت بازیابی کے لیے حکم دیا تھا تاہم بات ابھی تک نہیں بنی ہے۔تاہم قبائلی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اغوا کاروں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

"ہم غریب لوگ ہیں ہم تو اتنی رقم ادا نہیں کرسکتے جتنی کی مانگ طالبان کر رہے ہیں"

مغوی شاہد علی کے چچازاد بلال خان

اغوا کار نہ صرف دباؤ بڑھانے کی خاطر مغویوں کو ہلاک کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں بلکہ ان کی ویڈیوز بھی جاری کی گئی ہیں۔ ایک مغوی ذیشان کی والدہ کے سامنے جب مائیک رکھا گیا تو انہوں نے تیز سسکیاں اور رونا شروع کر دیا جس کے بعد سوال پوچھنے کی ہمت نہ رہی۔

بلال خان سے پوچھا کہ قبائلی علاقوں میں تو بڑی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی اہم شخصیات اغوا ہوئے ہیں تو ایسے میں وہ کتنے پرامید ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو کچھ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’حکومت کو چاہیے کہ غریب کے ساتھ غریب ہو امیر کے ساتھ امیر اور بدمعاش کے ساتھ بدمعاش۔‘

اغوا ہونے والے تمام افراد کا تعلق قبائلی علاقوں سے نہیں تھا۔ کوئی ملاکنڈ تو کوئی کسی اور علاقے کا تھا۔ ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والے کریم شاہ اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ حکومت میں گورنر خیبر پختونخوا سے لیکر سیکرٹریوں اور وزیر اعظم تک پہنچے لیکن کچھ فائدہ اب تک نہیں ہوا ہے۔

بیٹے کو ایسے علاقے میں ملازمت کی اجازت کے بارے میں سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ سب تو ان کی نوکری لگ جانے کی وجہ سے ہی خوش تھے۔ ’ہمیں کیا معلوم تھا کہ یہ ہو جائے گا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔