بزرگ سیاستدان پروفیسر غفور احمد چل بسے

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 دسمبر 2012 ,‭ 04:27 GMT 09:27 PST

پروفیسر غفور نے پاکستان کے پہلے متفقہ آئین کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا

پاکستان کے بزرگ سیاستدان اور جماعتِ اسلامی کے نائب امیر پروفیسر غفور احمد کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔

ان کی عمر تراسی برس تھی اور وہ طویل عرصے سے علیل تھے۔

جماعت اسلامی کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پروفیسر غفور احمد کا انتقال ان کےگھر پر ہوا اور انہیں جمعرات کو کراچی کے سخی حسن قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر بریلی میں پیدا ہونے والے پروفیسر غفور احمد نے 1950 میں سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور جماعتِ اسلامی سے وابستہ ہوئے۔

وہ کئی برس تک کراچی میں جماعت کے امیر رہے اور انتقال کے وقت وہ جماعت کے نائب امیر کے عہدے پر فائز تھے۔

وہ انیس سو ستّر کے انتخابات میں پہلی مرتبہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن بنے اور 1972 سے1977 تک جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

انہوں نے پاکستان کے پہلے متفقہ آئین کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا اور وہ 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو اور اپوزیشن جماعتوں کے قومی اتحاد کے مذاکرات کا حصہ بھی تھے۔

قومی اسمبلی کے علاوہ پروفیسر غفور احمد پاکستانی پارلیمان کے ایوانِ بالا کے بھی رکن رہے اور دو ہزار دو میں انہیں سینیٹر بنایا گیا۔

پاکستان کے صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں نے ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

سیاست کے ساتھ ساتھ پروفیسر غفور احمد نے تدریس کے شعبے میں بھی خدمات سرانجام دیں اور اکاؤنٹس کی تعلیم دینے والے اہم اداروں سے منسلک رہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔