اسلم بھوتانی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد منظور

آخری وقت اشاعت:  بدھ 26 دسمبر 2012 ,‭ 08:37 GMT 13:37 PST

اسلم بھوتانی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسائل کے بارے درخواست کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں دیے گئے ریمارکس کے پیشِ نظر اجلاس بلانا توہینِ عدالت ہوسکتا ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی اسمبلی کے سپیکر اسلم بھوتانی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی منظوری کے بعد ان کی برطرفی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

بلوچستان کے صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق آئین پاکستان کے آرٹیکل 53 کی شق 7(c) کے تحت محمد اسلم بھوتانی کی سپیکر بلوچستان اسمبلی کے عہدے سے برطرفی کے بعد ڈپٹی سپیکر سید مطیع اللہ آغا چھبیس دسمبر 2012سے سپیکر بلوچستان اسمبلی کی حیثیت سے فرائض سر انجام دیں گے۔

کلِک ’جب تک رئیسانی حکومت ہے پیچیدگیاں رہیں گی‘

کلِک اسمبلی اجلاس طلب کرنے پر اختلافات برقرار

بلوچستان اسمبلی میں اسلم بھوتانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد بدھ کی صبح کثرت رائے سے منظور کی گئی تھی۔

چونسٹھ ارکان پر مشتمل بلوچستان اسمبلی کے اڑتالیس ممبران نے اس قرارداد کے لیے ووٹنگ میں حصہ لیا۔ تحریک کے حق میں سینتالیس اراکین اسمبلی نے ووٹ دیا جبکہ ایک ووٹ اس تحریک کی مخالفت میں ڈالا گیا۔

تحریک کی منظوری کے بعد اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ سپیکر اسلم بھوتانی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی کے خلاف اس وقت اختلافات سامنے آئے جب سپیکر نے بلوچستان اسمبلی کے طلب کردہ اجلاس کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا تھا۔

بلوچستان کے وزیرِاعلیٰ اسلم رئیسانی نے نو اور دس نومبر کو جنوبی شہر گوادر میں صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلایا تھا۔

اسلم بھوتانی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسائل کے بارے درخواست کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں دیے گئے ریمارکس کے پیشِ نظر اجلاس بلانا توہینِ عدالت ہو سکتا ہے۔

اس سے پہلے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری اپنے ریمارکس میں کہہ چکے ہیں کہ ’بلوچستان میں ہر بااختیار آئین کی خلاف ورزی کر رہا ہے ۔۔۔ اگر صوبے میں آئین پر ہی عمل نہیں ہو رہا تو پھر صوبے میں حکومت کس اختیار کے تحت چلائی جا رہی ہے‘۔

سپریم کورٹ کے مطابق بلوچستان حکومت اپنا آئینی حق کھو چکی ہے۔ اسلم بھوتانی نے اس سلسلے میں صوبے کے گورنر سے بھی وضاحت طلب کی تھی۔

بلوچستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا بھی کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اخلاقی طور پر بلوچستان حکومت کا کوئی جواز نہیں ہے اور اسے مستعٰفی ہوجانا چاہیے ۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔