بلاول کی تقریر: ٹوئٹر پر گرما گرم بحث

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 دسمبر 2012 ,‭ 01:03 GMT 06:03 PST

بلاول نے گڑھی خدا بخش میں اپنے سیاسی سفر کا باقاعدہ آغاز شروع کر دیا

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی والدہ کی پانچویں برسی پر اپنے سیاسی کرئیر کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے برسی کے لیے جمع ہزاروں پیپلز پارٹی کے کارکنوں سے خطاب کیا۔ ان کے خطاب کے ساتھ ہی اس کے بارے میں تبصروں اور ٹویٹس کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

ٹوئٹر پر پیپلز پارٹی سے متعلق چار عنوانات اس وقت پاکستان میں ٹرینڈ کر رہے ہیں جن کی مجموعی ٹرینڈنگ بذاتِ خود اہم بات ہے۔

جہاں ٹوئٹر پر بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے ان کی تقریر اور سیاست میں آمد کو خوش آمدید کہا، وہیں بہت سے ان کی تقریر سے کچھ زیادہ متاثر نہیں لگے اور انہوں نے اپنی ناخوشی کا اظہار بھی کیا۔

انم مہوش نے اپنی ٹویٹ میں کہا، ’خوش آمدید بلاول، پاکستان کو ایک نوجوان، ذہین، آزاد خیال اور بہادر رہنما کی ضرورت ہے اور آپ کی تقریر بہت اچھی تھی۔‘

اس کے برعکس یاسر خان نے لندن سے ٹویٹ کی کہ سب لوگ جو اس تقریر اور آمد پر خوش ہو رہے ہیں (حالانکہ) ہم ان خاندانوں کی سیاست سے کتنا نقصان اٹھا چکے ہیں۔

حماد فیصل بھی اس تقریر سے کچھ زیادہ مطمئن نظر نہیں آئے۔ انھوں نے ٹویٹ کی کہ اللہ اس لاعلم اور بے وقوف قوم پر رحم کرے۔ دوسری طرف افتخار عالم نے غالباً طنزیہ انداز میں ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’کیا شستہ قومی زبان میں تقریر کی ہے ہمارے قومی رہنما نے۔‘

محمد جہانزیب نے تقریر کے مندرجات پر بات کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ ’کہاں روٹی کپڑا اور مکان کہاں آپ کی تقریر میں۔ جذباتی باتیں اور بس؟‘

اس موقعے پر کچھ سینیئر صحافی بھی میدان میں اتر آئے۔ نسیم زہرہ نے ٹویٹ کیا: ’بلاول کی گڑھی خدابخش میں طاقتور تقریر۔ اس سے پی پی پی کی طرف سے انتخابات کا موضوع کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ جمہوریت کی محافظ، لوگوں کے حقوق کی پاس دار۔‘

تاہم دوسرے صحافیوں کی رائے اس قدر موافقانہ نہیں تھی۔ معروف ٹی وی اینکر مبشر لقمان نے لکھا: ’میرا ذاتی خیال ہے کہ عمران خان، مصطفیٰ کمال اور مریم نواز شریف نے نوجوانوں کو زیادہ متحرک کیا ہے، افسوس کہ بلاول نے نہیں۔ ‘

مبشر لقمان نے اسی پر اکتفا نہیں کی، بلکہ کچھ ہی دیر بعد ایک اور ٹویٹ بھی بھیجی: ’۔۔۔ بلاول کو دیکھ کر مجھے احساس ہونے لگا جیسے ہمیں ایک خاندان کا غلام سمجھا جاتا ہے۔‘

ٹوئٹر کی ہوا کو بلاول کے خلاف چلتے دیکھ کر ان کی بہن بھی میدان میں آ گئیں۔ بختاور بھٹو زرداری نے لکھا: ’سوال بلاول کو لانچ کرنے کا نہیں ہے۔ وہ تربیت کے عمل سے گزر کر ہر پاکستانی کی محبت اور حمایت جیت رہے ہیں۔‘

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی ٹوئٹر پر خاصے فعال ہیں۔ انھیں بھی بادِ مخالف کی تندی پسند نہیں آئی اور وہ یہ لکھنے پر مجبور ہو گئے: ’آپ نے بلاول کے خلاف نفرت دیکھی؟ یہ ایک بہت گھٹیا، عدم تحفظ کے شکار، اور بہکے ہوئے ذہن کی آئینہ دار ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔