بلاول کی تقریر نے سب کو حیران کر دیا

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 29 دسمبر 2012 ,‭ 20:36 GMT 01:36 PST

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی والدہ کی پانچویں برسی کے موقعے پرگڑھی خدا بخش میں اردو میں روانی کے ساتھ تقریر کر کے کئی لوگوں کو حیران کردیا۔

24 سالہ بلاول بھٹو نے اپنی زندگی کا زیادہ تر عرصہ پاکستان سے باہر گزارا ہے اور بہت کم لوگوں کو علم تھا کہ انہوں نے اردو بھی سیکھ لی ہے۔

اکثر سیاسی مبصرین نے اپنے تبصروں میں لکھا ہے کہ ان کی تقریر میں کوئی نئی بات نہیں تھی لیکن انہوں نے اپنی والدہ جیسا انداز بیاں اپنایا۔ اس بارے میں تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں ’الفاظ والد کےاور انداز والدہ کا۔‘

بلاول کی بچپن میں تربیت ان کی والدہ بے نظیر نے کی لیکن سیاسی تربیت ان کے والد آصف علی زرداری نے ہی کی ہے۔

بلاول سے توقعات

یہ توقع کی جا رہی تھی کہ شاید بلاول اپنی والدہ کے قتل کے حوالے سے سابق فوجی صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے بارے میں کوئی نئی بات کریں گے۔

ان سے دوسری توقع یہ کی جا رہی تھی کہ وہ موجودہ حکومت کی بعض ناکامیوں کا کھلے دل سے اقرار کرتے ہوئے آئندہ کے لیے ایک نئےروڈ میپ کا اعلان کریں گے۔

بلاول ان دونوں توقعات کو پورا کرنے میں ناکام رہے۔

یہ توقع کی جا رہی تھی کہ شاید بلاول اپنی والدہ کے قتل کے سلسلے میں سابق فوجی صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے بارے میں کوئی نئی بات کریں گے کیونکہ پرویز مشرف کی گرفتاری کے لیے ایک تو حکومتِ پاکستان نے انٹرپول سے رابطہ کر رکھا ہے اور دوسری جانب جلسے سے محض ایک روز قبل وفاقی وزیر دفاع سید نوید قمر سے منسوب یہ خبر شائع ہوئی کہ بینظیر بھٹو کے قتل میں جنرل (ریٹائرڈ) مشرف کو شامل کرنے سے ایک اہم ادارے کے سربراہ نے آصف علی زرداری کو منع کیا تھا۔ تاہم انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں۔

بلاول بھٹو زرداری سے دوسری توقع یہ کی جا رہی تھی کہ وہ موجودہ حکومت کی بعض ناکامیوں کا کھلے دل سے اقرار کرتے ہوئے آئندہ کے لیے ایک نئےروڈ میپ کا اعلان کریں گے، لیکن اس بارے میں بھی بیشتر تجزیہ کاروں کو مایوسی ہوئی کیونکہ بلاول نے اپنے نانا (ذوالفقار علی بھٹو) کا نعرہ ’روٹی کپڑا اور مکان‘ ہی دوہرایا۔

اس کے باوجود بلاول بھٹو کی تقریر کی ملکی و غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں جتنی کوریج ہوئی ہے اتنی گڑھی خدا بخش کے سیاسی جلسوں کی ماضی میں کم ہی دیکھنے کو ملی ہے۔

چوبیس سالہ بلاول بھٹو نے اپنے باضابطہ سیاسی کیریئر کا آغاز تو کردیا ہے تاہم ابھی وہ رکنِ پارلیمان بننے کے اہل نہیں کیونکہ وہ آئندہ برس پچیس برس ہونے کے بعد ہی انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہوں گے۔

وفاقی وزیر سید خورشید شاہ کے بقول جب بلاول بھٹو پچیس برس کے ہوں گے تو وہ اپنی والدہ کے انتخابی حلقے لاڑکانہ سے الیکشن لڑیں گے۔

ان کے والد کی بطور صدرِ پاکستان مدت بھی آئندہ برس ستمبر میں پوری ہوگی اور بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ دونوں باپ بیٹا ایک ساتھ ضمنی انتخاب لڑیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے رواں سال جولائی میں برطانیہ کی آکسفرڈ یونیورسٹی سے ’بی اے آنرز‘ کی سند جدید تاریخ اور سیاست کے شعبے میں حاصل کی ہے۔ ان کی والدہ نے بھی اسی تعلیمی ادارے سے اسی شعبے میں سند حاصل کی تھی اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ دونوں کے نمبر بھی برابر ہیں۔

نوجوان، خوبصورت اور نازک مزاج بلاول بھٹو کے بارے میں شاید کم لوگ ہی جانتے ہیں کہ انہوں نے تائی کوانڈو میں بلیک بیلٹ لے رکھا ہے۔ اپنے والد کی طرح بھنڈی اور مونگ کی دال کے شوقین بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی کے سربراہ کا تاج تو پہن لیا ہے لیکن انہیں اس بات کا ادراک بھی ہے کہ یہ سفر بہت خطرناک ہے۔

بلاول بھٹو نے سندھی قوم پرستوں کی جانب سے بلدیاتی نظام کے بارے میں ہونے والی مزاحمت کے متعلق اپنی تقریر میں کچھ نہیں کہا اور سندھ میں اس معاملے پر پہلی بار پیپلز پارٹی کی مخالفت میں پیر پگاڑہ کے منعقد ہونے والے جلسے پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم انہوں نے عدلیہ اور مسلم لیگ (نواز) کا نام لیے بغیر ان پر بھرپور تنقید کی جس کے بارے میں اکثر لوگوں کو خدشہ ہے کہ شاید سپریم کورٹ اس کا نوٹس لے گی۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا انہوں نے یہ بات سوچ سمجھ کر نہیں کی ہوگی؟

بعض مبصرین کہتےہیں کہ اگر سپریم کورٹ بلاول کی تقریر کا نوٹس لیتی ہے تو اس کا انہیں آئندہ انتخابات میں فائدہ ہی ہوگا۔ ادھر مسلم لیگ (نواز) کے مرکزی رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی ہے تو حکومت میں لیکن اس کے رہنماؤں نے اپوزیشن والا انداز اپنا رکھا ہے۔

پیپلز پارٹی کی چیئرمین شپ کانٹوں کی سیج ثابت ہوئی ہے اور ماضی میں یہ عہدہ رکھنے والوں پر ان کے مخالفین منظم انداز میں تابڑ توڑ حملے کرتے رہے ہیں۔ بلاول کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا کیونکہ انہوں نے مخمل کے بستروں والے محل سے کانٹوں کی سیج کا سفر شروع کیا ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔