وزیرستان: ڈرون حملہ، پانچ غیر ملکی شدت پسند ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 دسمبر 2012 ,‭ 14:32 GMT 19:32 PST

دتہ خیل کے علاقے میں اس سے پہلے بھی کئی ڈرون حملے ہو ئے ہیں جن میں کئی شدت پسندوں کی ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

پاکستان میں حکام کے مطابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں پانچ غیر ملکی شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

فاٹا حکام کے مطابق اس حملے میں ڈرون سے تین میزائل فائر کیے گئے جن کے نتیجے میں ایک مکان بھی تباہ ہو گیا اور اس میں موجود پانچ شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

فاٹا حکام نے بتایا کہ یہ حملہ شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سے چالیس کلومیٹر دور تحصیل دتہ خیل کے علاقے مانے گُربز میں ہوا جو کہ افغان سرحد کے بہت قریب ہے۔

حکام کے مطابق چاروں ہلاک ہونے والے شدت پسند غیر ملکی تھے مگر ان کی شہریت کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

اس سے پہلے بھی دتہ خیل کے علاقے میں کئی ڈرون حملے ہو چکے ہیں جن میں کئی شدت پسندوں کی ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

تحصیل دتہ خیل کی آبادی شمالی وزیرستان کے نو تحصیلوں میں تیسرے نمبر پر ہے اوراس تحصیل کے اکثر علاقے افغان سرحد کے قریب واقع ہیں۔ ان میں بویا، محمد خیل، سیدآباد، مداخیل، خدر خیل، منزرخیل، پائی خیل اور انزرکس کے علاقے شامل ہیں۔

دتہ خیل کا علاقہ

تحصیل دتہ خیل کی آبادی شمالی وزیرستان کے نو تحصیلوں میں تیسرے نمبر پر ہے اوراس تحصیل کے اکثر علاقے افغان سرحد کے قریب واقع ہیں۔ ان میں بویا، محمد خیل، سیدآباد، مداخیل، خدر خیل، منزرخیل، پائی خیل اور انزرکس کے علاقے شامل ہیں۔

شمالی وزیرستان میں سب سے زیادہ پہاڑی سلسلے اور گھنے جنگلات بھی اسی علاقے میں ہیں۔افغانستان میں جب روس کے خلاف جہاد جاری تھا تو ان دنوں دتہ خیل تحصیل کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔اس علاقے کو مجاہدین روس کے خلاف جنگ میں اپنے مضبوط ٹھکانوں کے طورپر استمعال کرتے تھے۔

شمالی وزیرستان میں سب سے زیادہ پہاڑی سلسلے اور گھنے جنگلات بھی اسی علاقے میں ہیں۔افغانستان میں جب روس کے خلاف جہاد جاری تھا تو ان دنوں دتہ خیل تحصیل کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔اس علاقے کو مجاہدین روس کے خلاف جنگ میں اپنے مضبوط ٹھکانوں کے طورپر استمعال کرتے تھے۔

شمالی وزیرستان میں سرکاری اہلکار بتاتے ہیں کہ حافظ گل بہادر گروپ کے طالبان اور افغان طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی اور سراج الدین حقانی کے مضبوط ٹھکانے بھی تحصیل دتہ خیل میں واقع ہیں۔اس کے علاوہ پنجابی طالبان اور کچھ عرب غیر مُلکیوں کے پناہ گاہیں بھی اسی علاقے میں موجود ہیں۔

بائیس ستمبر دو ہزار بارہ کو دتہ خیل کے قریب پہاڑی علاقے لانڈے خیل میں امریکی جاسوس طیارے نے ایک گاڑی کو یکے بعد دیگرے دو میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا جس میں سوار تین افراد موقع پر ہلاک ہو گئے جبکہ س حملے میں ایک اور گاڑی بھی تباہ ہو گئی تھی۔

اسی طرح سات جولائی دو ہزار بارہ کو ایک حملے میں دو میزائل مقامی طالبان کمانڈر حافظ گل بہادر کے جنگجوؤں کے زیر استعمال ایک کمپاؤنڈ پر داغے گئے جس کے نتیجے میں کم از کم نو شدت پسند ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔

اس سے قبل چھ مئی کو شمالی وزیرستان میں ہی پاکستانی سکیورٹی فورسز پر شدت پسندوں نے حملہ کر کے نو سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی جس میں کئی شدت پسند ہلاک اور بیس کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔

شمالی وزیرستان میں شدت پسند

شمالی وزیرستان میں سرکاری اہلکار بتاتے ہیں کہ حافظ گل بہادر گروپ کے طالبان اور افغان طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی اور سراج الدین حقانی کے مضبوط ٹھکانے بھی تحصیل دتہ خیل میں واقع ہیں۔اس کے علاوہ پنجابی طالبان اور کچھ عرب غیر مُلکیوں کے پناہ گاہیں بھی اسی علاقے میں موجود ہیں۔

نو مارچ دو ہزار بارہ کو میران شاہ کے قریب خڑ قمر کے علاقے میں میران شاہ سے دتہ خیل جانے والے پاکستانی فوجیوں کے ایک قافلے پر پہاڑیوں میں چھپے ہوئے مسلح افراد نے گھات لگا کر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں سات فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

سال دو ہزار بارے کے آغاز میں ہی تئیس جنوری کو اسی علاقے میں ایک ڈرون حملے میں پانچ غیر ملکی شدت پسند ہلاک ہو گئے تھے۔ حکام کے مطابق ڈرون حملے میں جس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ دیگان کے علاقے سے دتہ خیل کی جانب جا رہی تھی اور ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق ترکمانستان سے بتایا گیا تھا۔

اس سال کے آغاز میں ایک ڈرون حملہ شمالی وزیرستان میں بارہ جنوری کو دتہ خیل کے علاقے میں ہی ہوا تھا جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ان میں سے اکثر حملوں کا نشانہ غیر ملکی یا حافظ گل بہادر کے گروہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسند تھے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں پہلا ڈرون حملہ اٹھارہ جون دو ہزار چار کو جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کے قریب ہوا تھا جس میں طالبان کمانڈر نیک محمد مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔