گوجرانوالہ: کھانسی کا شربت پینے سے ہلاکتیں 33 ہوگئیں

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 29 دسمبر 2012 ,‭ 16:58 GMT 21:58 PST

گزشتہ ماہ لاہور میں کھانسی کا شربت پینے سے اکیس افراد ہلاک ہو گئے تھے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں کھانسی کا شربت پینے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تینتیس ہوگئی ہے جبکہ پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ کھانسی کے شربت میں استعمال ہونے والا خام مال غیر معیاری تھا۔

ضلعی حکام کے مطابق کھانسی کے شربت سے مزید سولہ افراد کی ہلاکت ہوئی ہے اور اب بھی چار مریض ڈی ایچ کیو ہسپتال میں میں زیرِ علاج ہیں۔

گوجرانوالہ کے ضلعی رابطہ آفیسر نجم احمد شاہ کے مطابق کھانسی کے شربت سے متاثر ہونے والے تینتیس مریضوں میں سے پندرہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ دیگر اٹھارہ افراد کامونکی اور لاہور کے ہسپتالوں میں ہلاک ہوئے۔

ضلعی رابطہ آفیسر کے مطابق گوجرانوالہ کے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں چونتیس افراد کو طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے۔

صوبائی مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ گوجرانوالہ اور لاہور میں جس کھانسی کے شربت سے اموات ہوئی ہیں ان میں استعمال ہونے والا درآمد شدہ خام مال غیر معیاری تھا۔

خواجہ سلمان رفیق کے مطابق گوجرانوالہ اور لاہور میں کھانسی کے شربت سے ہلاک ہونے والوں کی علامات ایک جیسی تھیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ لاہور میں کھانسی کا شربت پینے سے اکیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

صوبائی مشیر صحت پنجاب نے بتایا کہ صوبے بھر میں کھانسی کے شربت پر عارضی پابندی عائد کر گئی ہے۔

دوسری طرف وزیر اعلیْ پنجاب شہباز شریف نے کھانسی کے شربت کی تیاری کے لیے درآمد شدہ خام مال اور تیار شدہ شربت کے تمام سٹاک کو ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔

وزیر اعلی پنجاب نے ہدایت کی کہ ضبط شدہ کھانسی کے شربت کے نمونے فوری طور ٹیسٹ کے لیے بیرون ملک بھجوائے جائیں۔

قانونی ماہر اظہر صدیق کے مطابق ادویات کے لیے درآمد کیے جانے والے خام مال کی جانچ کےلیے کوئی خاص طریقۂ کار موجود نہیں اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بارے میں قانون سازی کرے۔

محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق کھانسی کا شربت فروخت کرنے والے سات میڈیکل سٹورز کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ شربت بنانے والی فیکٹری کو بھی سیل کیا جا رہا ہے۔

صوبائی حکام کے مطابق لاہور کی طرح گوجرانوالہ میں بھی ہلاک ہونے والوں میں بھی زیادہ تر نشے کے عادی افراد ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔