اکیس مغوی اہلکار ہلاک کر دیے گئے

آخری وقت اشاعت:  اتوار 30 دسمبر 2012 ,‭ 21:52 GMT 02:52 PST

ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی لاشیں ان کے گھروں تک پہنچا دی گئیں

پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کو پشاور کے نزدیک ماشو خیل میں ایک چیک پوائنٹ سے اغوا کیے جانے والے کم از کم اکیس نیم فوجی اہلکاروں کو شدت پسندوں نے ہلاک کر دیا ہے۔

فاٹا سیکریٹریٹ میں ایک اعلی اہلکار نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات پشاور سے قریباً چالیس کلومیٹر دور جنوب کی جانب نیم قبائلی علاقے حسن خیل سے اکیس لیویز اہلکاروں کی لاشیں ملی ہیں جنہیں فائرنگ کر کے ہلاک کیاگیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مقامی قبائل کے ذریعے تمام لاشیں پولیٹکل انتظامیہ کے دفتر تک پہنچائی گئیں جس کے بعد انتظامیہ نے لاشیں ان کےگھروں تک پہنچا دی ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل کے ترجمان محمد نےایک نامعلوم مقام سے فون کر کے ان اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی ہے اور بتایا کہ یہ مولانا گل نصیب، عبدالحمید، فیصل اور پیر صاحب کی مبینہ طور پر زیر حراست ہلاکت کا بدلہ ہے۔

"اس کی ڈیوٹی ہاسٹل پر تھی۔ میں پشاور میں تھا۔ مجھے اطلاع ملی کہ طالبان نے ان پر حملہ کر دیا ہے اور سب کو اغوا کر لیا ہے۔ ان کے اغوا کے دو روز بعد ہمیں ان کی لاشیں مل جاتی ہیں۔ اس کی سات بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ اب یہ سب بے بس اور تنہا ہیں۔"

ہلاک ہونے والے اہلکار کا بھائی حسین بادشاہ

تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل کے ترجمان محمد نے اس سے پہلے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام اہلکار مقامی تھے۔انہوں نے بتایا کہ ایک اہلکار زخمی حالت میں بچ گیا ہے اور دوسرا زندہ اپنے گھر پہنچ گیا ہے لیکن انتظامیہ کا ابھی تک ان سے رابطہ نہیں ہوا ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ جس علاقے سے لیویز اہلکار اغواء ہوئے تھے یہ ایک کمپاؤنڈ تھا جہاں لیویز اہلکاروں کی رہائش بھی تھی اور قریب ہی تین چیک پوسٹیں ہیں۔

ایک مقامی سرکاری اہلکار نوید اکبر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ نیم فوجی اہلکاروں کی لاشیں اس جگہ سے چار کلو میٹر دور سے ملی ہیں جہاں سے انہیں اغوا کیا گیا تھا۔

ایک اہلکار زخمی حالت میں بچ گیا ہے

ہلاک ہونے والے ایک اہلکار کے بھائی حسین بادشاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس کی ڈیوٹی ہاسٹل پر تھی۔ میں پشاور میں تھا۔ مجھے اطلاع ملی کہ طالبان نے ان پر حملہ کر دیا ہے اور سب کو اغوا کر لیا ہے۔ ان کے اغوا کے دو روز بعد ہمیں ان کی لاشیں مل جاتی ہیں۔ اس کی سات بیٹیاں اور ایک لڑکا ہے۔ اب یہ سب بے بس اور تنہا ہیں۔‘

یاد رہے کہ بھاری خودکار اسلحے اور راکٹ پروپیلڈ گرینیڈوں (آر پی جی) سے لیس شدت پسندوں نے پشاور کے جنوب میں جانی خوڑ اور حسن خیل میں لیویز کی چوکیوں کو نشانہ بنایا تھا۔

یہ رواں مہینے میں پشاور اور اس کے گرد و نواح میں ہونے والا تیسرا بڑا حملہ تھا۔

دو ہفتے قبل پشاور کے ہوائی اڈے پر ایک خودکش حملے میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ گزشتہ ہفتے خیبر پختونخوا کی حکمراں جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی سینیئر رہنما بشیر بلور کو ایک خودکش حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس حملے میں سات دیگر افراد بھی مارے گئے تھے۔.

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔